میرا گاؤں ڈھو ک پھلی ہے مگر مسائل سے دوچار عوام پریشان لیڈر تماشائی بن گئے

0
490
Daily Talagang News From Arslan Ahmed Malik
Daily Talagang News From Arslan Ahmed Malik

میرا گاؤں ڈھو ک پھلی ہے مگر مسائل سے دوچار عوام پریشان لیڈر تماشائی بن گئے

میرے محترم قائرین اسلام علیکم مجھے گزشتہ روز ایک میل آئی کہ اپنے گاؤں کے بارے میں بھی بیاں کریں جی حاضر خدمت ہے میرا گاؤں ڈھوک پھلی داخلی جبی شاہ دلاور تحصیل تلہ گنگ ضلع چکوال یہ گاؤں تھانہ ٹمن کی حدود میں آتاہے یہ وہ علاقہ ہے جہاں سے گورمنٹ آپ پاکستان تیل و گیس کی مد میں سالانہ اربوں روپے حاصل کر رہی ہے مگر علاقہ اتنا پاسماندہ ہے شاہد کوئی گاؤں ہوعوام ہر اس بنیادی سہولت سے محروم ہیں جو اس جدید دور میں زندگی گزارنے کیلئے لازم ہے سکول ،سڑک ،بجلی،ٹیلی فون ،صاف پینے کا پانی،ہسپتال،ونٹری ہسپتال،گیس،یوٹیلی سٹورز کے علاوہ دیگر ضروریات زندگی سے محروم ہیں الیکشن مہم کے دوران اتنے وعدے وعید کیے جاتے ہیں عوام اس امید پر کہ شاہد اس مرتبہ ان کے مسائل حل ہو جائے گے ووٹ دے دیتے ہیں مگر بعد میں علاقے کا رخ تک نہیں کرتے موجودہ دورمیں بھی یہ علاقہ لا تعداد مسائل کا شکار ہے حال ہی میں ایم پی اے ملک ظہور انور اور ممبر قومی اسمبلی ممتاز ٹمن نے ایک سکول اور پانچ کلو میٹر کے سڑک کا ٹکرا بنوایا سڑک کا ٹکڑا ادھورا ہی ٹھیکدار چھوڑ کر بھاگ گیا میری اطلاعات کے مطابق اپنے بل وصول کر لیے گئے ہیں اور ٹھیکدار کا تعلق ٹمن سے بتایا جاتا ہے سکول کو تالا لگا ہو اہے صرف بلڈنگ بنائی گئی ہے ٹیچرز اور فرنیچر دیگر سکول کی ضروریات مہیا نہیں کی گی جس کی وجہ سے سکول بھیڑ ،بکریوں کی گزر گاہ بن گیا ہے گورمنٹ OGDCLجہاں سے تیل و گیس حاصل کرتی ہے وہاں کی آبادیوں میں سکول ڈسپنسری ،روڈز اور دیگر ضروریات بھی مہیا کرتی ہے بلو چستان ،سندھ ،کے پی کے کے علاوہ پنجاب میں بھی سہولیات دے رکھیں ہیں مگر میرے علاقے کو کوئی سہولیات نہیں دیں اس کی وجہ یہ ہے کہ مقامی ایم این اے اور ایم پی اے اور مقامی قیادت کی بہت بڑی کمزوری ہے ان نا اہلوں سے مفت کی سہولیات کی بھی نہیں لی جا سکیںیہ سونا اگلتی ہوئی زمین او جی ڈی سی ایل 28/4/1964سے تیل و گیس کی مد میں اربوں روپے سالانہ حاصل کر رہی ہے بتایا گیا ہے کہ یہ آئیل اینڈگیس ڈویلپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کمپنی کی سب سے بڑی اور پرانی فلیڈ ہے اس میرے علاقے میں چونے کی فیکٹریاں ہیں ٹیکسلا ،حسن ابدال سے ٹرکوں کے زرئعے پتھر لایا جاتا ہے اور پھر اس کو گیس سے پگلا کر چونا تیا کیا جاتا ہے چونا دیگر چھوٹے بڑے شہروں کو مہیا کیا جاتاہے انتہائی ذمہ دار زرائع نے بتایا کہ مزکورہ چونا فیکٹروں کا مالک تعلق حکومت کے ایک ارکان اسمبلی کی مالیت ہے اور مزکورہ ٹھیکدار او جی ڈی سی ایل کے ساتھ گیس کا معاہدہ کر رکھا ہے معاہدہ کے مطابق ماہانہ اوجی ڈی سی ایل کو ڈھائی لاکھ روپے پیمینٹ کی جاتی ہے اس کے بدلے او جی ڈی سی ایل گیس مہیا کر رہی ہے افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ لیبر علاقہ کے بجائے دوسرے شہریوں سے منگائی جاتی ہے کم و بیش تین سو سے زائد مزدور کام کرتے ہیں مزدوروں کی سیفٹی کیلئے کوئی خاطر خواہ انتظامات نہیں کوئی امرجنسی کی صورت میں فائر برگیڈ نہیں اور نہ ہی مزدوروں کی بیماری کیلئے ایمولینس ہے البتہ ایک مقامی ڈاکٹر ہائر ہے جو امرجنسی کی صورت میں مزدوروں کو چیک کرتا ہے کوئی پولیس چوکی نہیں اگر ایم این اے ایم پی اے اور مقامی قیادت علاقے کے عوام کیلئے سب سہولیات لے سکتی ہے مگر سوالیہ نشان یہ ہے کہ لیڈر علاقے میں آنا گوارہ نہیں کرتے یہ نالائقوں کو علم نہیں مگر انہیں کیا لگا عوام کے مسائل سے اقتدار چاہئے ہوتا ہے وہ مل جاتا ہے میری اس سے گزارش ہے کہ برائے مہر بائی عوام سے کیے ہوئے وعدے کے علاوہ عوام کو ان جائز مسائل اپنے فنڈ سے نہیں دے سکتے تو او جی ڈی سی ایل سے دلوائیں تاکہ علاقہ کے عوام کے مسائل میں کمی واقع ہو اور آنے والی نسلیں اور کو دعائیں دیں گی انہیں الفاظ سے اللہ حافظ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی وناصر ہو پاکستان زندہ با د عوام زندہ باد یہ میرے محترم قاری کی ڈیمانڈ جو میں نے پوری کر دی
نالے بلبل کے سنو ہم تن گوش رہوں میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں

تبصرے

شیئر کریں

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں