یہ وقت آپ نے گوا دیا تو شاہد پر وقت نہ ملے آٹھ سال عوام نے محرمیوں میں گزا دیئے آئندہ کیلئے آپ عوام کیلئے پل بن جائیں تو کوئی بری بات نہیں دعائیں بھی ملیں گئی اور اللہ کے خصور میں بھی سرخرو ہو کر نکلیں گے اور ضمیر بھی ملا مت نہیں کرے گا۔۔۔

0
453
Arslan Ahmed Malikاسلام آباد ( ارسلان احمدملک)مجھے 2012میں اپنے والد کے ہمراہ جنوبی پنجاب کے ایک ضلع رحیم یار خان جانا پڑا سفرکے دوران سفرکیوں کہ زیادہ تھا مجھے نیند آگئی ابو نے مجھے اٹھایا شانی بیٹا سوئے ہوئے کے کٹے پیدا ہوتے ہیں یہ بات میں ابو کہ نہ سمجھ سکا میں نے دوبارہ بات دھرانے کو کہا ابو نے کہا جومیں نے کہہ دیا بس وہی ہے قائرین کرام میں انکشاف کر تا چلو مجھے پنجابی نہیں آتی لیکن سیکھنے کی اپنی والدہ محترم سے کوشش کر رہاہوں ضلع رحیم یارخان کے ہم ایسے ایسے علاقوں میں گئے کہ لوگ بچارے جہالت اور مفلسی کی زندگی گزارنے پر مجبور اور پھو ٹیاں چنتے ہیں جو ان کا ذرئعے معاش ہے وہ علاقے ہر بنیادی سہولت سے محروم ہیں جو معزز شریف شہریوں کا حق ہوتا ہے جب میں نے اس حلقہ ارباب کے لیڈر کا نام پو چھا تو اس کا نام گورنر پنجاب احمدمحمود تھا اور پیپلز پارٹی کا دور تھا تو میں نے وہاں کے مقامی لوگوں سے گفتگو بھی کی پو چھ گوچھ بھی کی والد محترم نے منع بھی کیا کہ تمہاری ڈیلی تلہ گنگ نیوز یہاں بھی آپہنچی جس مقصدکیلئے آئے ہیں وہ کام کیا جائے بر حال میں گاڑی لیکر سائیڈ کے علاقوں میں عوام کا جو حال دیکھا اللہ کسی کو نا دیکھائے مجال ہے عوام کی وہ صرف تھانے میں سابق گورنر احمد محمود کے کارندوں ٹاؤٹوں کے بغیر اپنی ذاتی ایف آئی آر کٹوانے کیلئے بھی احمد محمود کے سر کردہ رہنماؤں سے منظور ی لینی پڑتی ہے میں نے جب وہاں کے میڈیا کے نمائندو ں سے بات کی تو ان کا کہنا تھا بھائی یہ اسلام آباد نہیں رحیم یار خان یہاں تو خبر شائع کرنے کیلئے بڑے دل کی ضرورت ہوتی ہے ان کا کہنا تھا ہم بلکل عوام کے مسائل سے بخوبی اگاہ ہیں لیکن دباؤ کی وجہ سے ہم عوام کے صاف صاف چو رہیں برحال یہ جنوبی پنجاب کی کہانی تھی جس کی میڈ یا نے بڑے کھلے الفاظ میں لفظ کا ہیر پھیر نہیں کیا شائد انہوں نے یہ سمجھا ہو کہ یہ بچہ میں نے بھی اپنا انہیں کوئی خاص تعارف نہیں کروایا تھا برحال وہ تو جنوبی پنجاب کا ضلع رحیم یار خان تھا تلہ گنگ ،لاوہ اور دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں اتنا’’ کار‘‘ نہیں جتنا جنوبی پنجاب میں ہے تلہ گنگ لاوہ کے عوام بھی دبے ہوئے ہیں حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنی کمزوری کو کیسے دور کی جائے سیاست دان انہیں بتاتے ہیں کہ اگر اس طرح کیاجائے تو ہمیں بھی حکومت کو بھی کھلی چھٹی مل سکتی ہے اسی طرح کی ایک مسائل تلہ گنگ کی ہے تلہ گنگ میں اس وقت بے تحاشا لوکل اخبارات شائع ہو رہے ہیں بڑی خوشی کی بات ہے کہ تلہ گنگ کانام روشن کیا جار ہاہے میں بخوبی اگاہ ہوں ایک اخبار کو زندہ رکھنے کیلئے اشتہارات کی ضرورت ہوتی ہے پرانٹنگ کروانی ہوتی ہے سٹاف کی تنخواہیں اور دیگر اخراجات بھی ہوتے ہیں مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے تلہ گنگ میڈیا آج تقسیم ہو چکا ہے ایک سرکاری میڈیا ہے اور ایک اپوزیشن میڈیا اخبار ات کے مالکان کو تو اشتہارات کی ضرورت ہوتی ہے تلہ گنگ اٹھ سال سے مسائل کی زد میں کیوں رہا میڈیا کہاں گم تھا بڑے بڑے سوالات جنم لے رہے ہیں سرداروں جاگیرداروں سے ان کی دوستیاں خراب ہو تی ہیں جس کی وجہ سے تگڑی خبر عوام کے مسائل کی خبر پر پردہ پوشی کی جاتی رہی میں نے یہ بھی دیکھا کہ فیس بک پر اپنی تصاویر لگا کر پو سٹ کر دی جاتی ہے اور اپنے بارے میں رائے لی جا رہی ہے جس کا ریکارڈ محفوظ ہے مجھے علم ہے یہ بات معزز عدالت میں جائے گی سکرین شارٹ میں نے لیکر اپنے یو ایس بی میں ڈال رکھے ہیں تاکہ معزز عدالت کو میں با ور کرا سکوں کہ جناب یہ حال ہے ایک صحافی کی حقیقت لکھ رہاں ہوں کہ اس نے مجھ سے ترلے کئے میں صدر بن گیا ہوں میری خبر لگاؤ لیکن میں نے کہا ان پیج فائل سینڈ کرو اس نے مجھے پھسانے کی کوشش کی لیکن میں نے حاضر دماغی سے کام لیتے ہوئے اپنے آپ کو محفوظ رکھا جس ملک کا میڈیا کمزور ہو وہ ملک کبھی ترقی نہیں کرتا دوسرے ممالک سے پیچھے رہ جاتا ہے الحمدواللہ ہمار ے تلہ گنگ کا میڈیا بہت حاضر دماغ ہے میں کوئی صحافی نہیں میرا صحافت سے دور کا بھی واسطہ نہیں اگر میڈیا نے یہی رویہ رکھا تو تلہ گنگ بچارے عوام کہاں جائیں گے ان کے مسائل ایوان بالا تک کیسے پہنچئیں گے سیاستدانوں اور حکومت کا کام تو یہ ہے کہ میڈیا کو تقیسم کرو اپنا کام نکالو آج تلہ گنگ کو میڈیا تقیسم ہو چکا ہے کوئی اسسٹنٹ کمشنر وسیم خان کا ہامی بنا ہوا ہے کوئی اپوزیشن میں ہے لیکن تلہ گنگ اور لاوہ اور دیگر چھوٹے بڑے عوام کے مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی تلہ گنگ کا ایک سرکاری میڈیا ہے نام میں نہیں لینا چاہتا اس کو چاہئے کہ آٹھ سال عوام نے محرومیوں میں گزار دئے اور اٹھ سال آپ نے بھی کچھ نہیں کیا اب ہمیں ایک وسیم خان جیسا اسسٹنٹ کمشنر ملا ہے اس سے عوام کے تمام مسائل حل کروائیں تاکہ عوام کے مسائل حل ہو جائیں پغیمبری اور مقدس پیشے کو کاروبار کے طور پر استعمال نہ کریں میں جیو، جنگ اور جیو ویب سائیٹ کے اونر سنئیر صحافی محسن شیخ قیوم کو سلام پیش کرتا ہو ں کہ وہ اپنے والد مرحوم کے نقشے قدم پر چلتے ہوئے حقیقی معنوں میں عوام کے مسائل ایوان بالا تک پہنچا رہے ہیں میں اکثر ان کی ویب سائیٹ نکالتا ہوں آج ایک خبر پڑھ رہا تھا جس میں ایک خاتون کا خاوند منیر احمد عرصہ سے لاپتہ ہے اس نے اپنے والد مرحوم کی طرح اس خاتون کا نام نہیں لکھا بلکہ مسز منیر احمد لکھا میرے بھائی شہزاد نے بھی ایک غلطی کی جس کو میں نے وارنگ بھی دی کے ایک چکوال کی خبر ایک خاتون نے ملی بھگت کر کے اپنے شوہر کو ابدی نیند سلا دیا اور اس میں شہزاد احمدملک نے غلطی یہ کی کہ اس نے خاتون کا نام لکھا کیوں کہ یہ پوری دنیا دیکھ رہی ہوتی ہے دوسرے ممالک والے کیا سوچتے ہوں گے اگر میں یہاں تلہ گنگ کے سنیر صحافی اور کالم نویس نذر حسین چوہدری کا ذکر نہ کروں تو نا انصافی ہوگی مجھ پر یہ بھی الزام لگا یا گیا کہ میں تلہ گنگ ٹائمز کہ اشاروں پر چل رہاہوں بلکل غلط وہ مجھے خبروں بھیجتے ہیں اور وہ مجھے پبلش کرتے ہیںآپریشن میں ان کی کوئی پراپرٹی کو گرایا گیا ہے آئنی تھا یا غیر آئینی وہ بہتر جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں میری تلہ گنگ تمام اخبارات و جرائد سے اپیل ہے عوام کے مسائل انتظامیہ سے حل ہوتے ہوں یا سیاستدانو ں سے حل کروائیں یہ وقت ایک دوسرے کی ٹانگٰیں کھیچنے کا نہیں اور پھول بوٹیوں کی تعریف کرنے کا نہیں عوام کے بنیادی مسائل صاف پینے کا پانی بجلی کے نظام ٹیلی فون کے نظام ایجوکیشن ہسپتال ٹی ایم اے اور دیگر سرکاری اداروں سے کام لینے کا وقت ہے اگر یہ وقت بھی ہم نے گنواہ دیا تو ہم گنہگا ر ہوں گے اور عوام کے مجرم ہو ں گے اور روز قیامت کے دن ہمیں جواب دینا ہوگا اپنی قلم کے ذرئعے عوام کے مسائل انتظامیہ اور سیاستدانوں کے سامنے رکھیں باز پرس کریں اور دیہی علاقوں پر توجہ دیں تاکہ تلہ گنگ عوام خوشحال ہوں دیہی علاقوں میں جو لاتعداد مسائل ہیں حل ہوں اگر میری بات کسی کو بری لگی ہو تو اس کیلئے میں معذرت خواہ ہوں کیوں کہ حق اور سچ چھپانا غداری کے زمرے میں آتا ہے میں نے حق سچ کی بات لکھ دی فقط و سلام :ارسلان احمد ملک ۔۔۔۔اللہ ہم سب کا ہامی و ناصر ہو ۔پاکستان زندہ آباد عوام زندہ آباد

تبصرے

شیئر کریں

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں