محترم قائرین اور میرے تلہ گنگ کے غیور عوام مجھے آپ کا احساس ہے انشا اللہ کام بھی ہوں گے آپ کو سابق قدم رہنا ہوگا تاکہ آنے والی نسلیں آزاد ہوں

1
530

Arslan Ahmed Malik Newاسلام آباد ( ارسلان احمدملک) میرے محترم قائرین مجھے کچھ ای میلز بھی موصول ہوئی ہیں اور ایس ایم ایس بھی آئے ہیں کے سیاست کی خبریں کہاں جاتی ہیں قائرین محترم نیوز ویب سائیٹ ڈیلی تلہ گنگ نیوز کی خبر صحت کی خبر صحت کے کیٹگری میں ڈال دی جاتی ہے بزنس کی خبر بزنس کی کیٹگری میں ڈال دی جاتی ہے سیاسی خبر سیاست کی کیٹگری میں ڈال دی جاتی ہے اور ہر خبر کیٹگری کے مطابق ڈال دی جاتی ہے اور تمام خبریں نیچے چلی جاتی ہیں اور آپ پورا پیج کھولیں آپ پڑھ سکتے ہیں میرے محترم قائرین اور تلہ گنگ کے غیور عوام ڈیلی تلہ گنگ نیوز ایک تحریک کا نام ہیں جس کو آپ بخوبی جانتے اور واقف ہیں اس کی زندگی چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے میں تو تین سالوں سے چیختا چلاتا رہا جو کہ میری اولڈ نیوز ویب سائیٹ میں محفوظ پڑا ہو اہے مگر ناکام سیاستدانوں اور ناکام انتظامیہ لا پروائیوں اور غفلتوں کی وجہ سے مسائل بڑھتے گئے ’’ضلع تلہ گنگ ‘‘کا نوٹیفیکشن جاری نہ کروا سکے میرے زمہ دار ذرائع کے مطابق لاہور رائیوینڈ کی اعلیٰ قیادت لفٹ نہیں کروا رہی گذ شتہ روز تلہ گنگ میری جان ( اور ضلع بناؤ تحریک) کو میں نے آگاہ کر دیا ہے جو میرے پاس انفارمیشن تھی جو میرے ذمہ دار ذرائع بتا رہے تھے ایک بات میں بتائے چلوں کہ میرا کسی سیاسی پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ڈیلی تلہ گنگ نیوز کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح یہ تحریک بند ہو جائے یہ ان کی سوچ تو ہو سکتی ہے مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہو سکتا اس کو میں نے ایک دن میں نہیں بنا یا میں خبروں کے ساتھ ساتھ اداروں سے بھی رابطے میں رہتا ہوں تاکہ عوام کے مسائل حل ہوں پالشی خبریں چا پلوسی خبروں سے کوشش کرتا ہوں کہ دور رہوں چونکہ میں کوئی ایک صحافی نہیں ڈیلی تلہ گنگ نیوز اور اٹک اپ ڈیٹ کے بانی ہوں مجھ پر بہت ساری ذمہ داریاں ہیں اور ان کو پورا کرنا اور پھر اپنے مستقبل اور پڑھائی پر توجہ دینا کیونکہ میرا مستقبل پڑھائی کے ساتھ وابستہ ہے کوشش کرتا رہتاہوں کہ زیادہ سے زیادہ آپ کو ٹائم دوں ڈیلی تلہ گنگ نیوز کی نیوز فیس بک پر لنک ڈال دئے جاتے ہیں چونکہ فیس بک کا کائی باپ دادا نہیں کسی وقت اور سوشل میڈ یا پر ویسے بھی اعتماد کم کیا جاتا ہے اس لئے ویب سائیٹ پر نیوز شائع کی جارہی ہیں قائرین محترم مجھے اس بات کا پورا احساس ہے ایک ویب سائیٹ کو اوپن کرنے میں کافی وقت درکار ہوتا ہے لیکن مجبوری ہے کیونکہ میں کہہ چکا ہوں فیس بک کا کوئی باپ داد نہیں دیہی علاقوں اور دور دور علاقوں کے عوام کا بھی مجھے بہت افسوس ہے کہ موبائل کے ذرئیعے خبریں پڑھنے میں انہیں دشواری کا سامنا ہے ڈیلی تلہ گنگ نیوز اوپن ہو نے میں 10سیکنڈ سے میں کوشش کر رہا ہوں کہ یہ دس سیکنڈ بھی کم کئے جائیں انشااللہ آپ کا ساتھ رہا اور تلہ گنگ کے عوام کے مسائل حل بھی ہو ں گے اور خوشیاں بھی ملیں گی وہ ٹائم گزرتا جا رہا ہے جب ایم این اے ایم پی ایز اور مقامی قیادت عوام کو دباؤ میں رکھ کر ان کے جائز مسائل حل کرنے کی بجائے اضافہ انشااللہ اللہ سے دعا ہے کہ مسائل بھی حل ہ وجائیں گے اور ممبران بھی گھروں گھروں کا دورہ کریں گے آپ کو سابق قدم رہنا ہوگا تاکہ آمدہ نسلیں آزاد ہوں۔

تبصرے

شیئر کریں

1 تبصرہ

جواب چھوڑ دیں