’’تلہ گنگ ‘‘ جماعت اسلامی ضلع چکوال نے یکم مارچ سے کرپشن فری پاکستان مہم بھر پور انداز میں شروع

0
441
Jamaat-e-Islami-Pakistanتلہ گنگ(تحصیل رپورٹر) جماعت اسلامی ضلع چکوال نے یکم مارچ سے کرپشن فری پاکستان مہم بھر پور انداز میں شروع کرنے کا اعلان کر دیا ۔امیر جماعت اسلامی ضلع چکوال ڈاکٹر حافظ حمید اللہ نے تلہ گنگ میں مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کرپشن چاہے وہ مالی ،اخلاقی ہو یا سیاسی اس نے پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا ہے ۔پاکستان ایک نظریہ کی خاطر وجود میں آیا ۔لیکن صد افسوس اس نظریہ کو فراموش کر دیا گیا ۔کرپشن صرف جماعت اسلامی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کا مسئلہ ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ سابق چیئر مین نیب کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے کہ سابقہ دور میں روزانہ سات ارب کی کرپشن ہو رہی تھی اور اب بھی یہ صورتحال جوں کی توں ہے ۔نیب نے بڑے بڑے کرپٹ لوگوں سے 261ارب روپے وصول کئے۔صرف ایک سابق وزیر نے 462ارب روپے کی کرپشن کی ۔اگر کرپشن نہ ہوتی تو پاکستان کواندورنی و بیرونی قرضوں کی ضرورت نہ پڑتی ۔اس وقت پاکستان پر اندرونی طور پر 75کھرب اور بیرونی 70کھرب روپے کا قرضہ ہے ۔اس کرپشن کا سد باب کرنے میں ہم کامیاب ہو گئے تو یہ سارے کہ سارے قرضے اُتر سکتے ہیں ۔ڈاکٹر حمیداللہ نے کہا کہ دو ماہ کی اس مہم کے دوران پورے ضلع چکوال اور بنائے گئے چار زون میں عوامی سطح پر رابطہ کر کے کرپشن کے خاتمے کیلئے آگاہی پیغام پہنچایا جائے گا ۔مختلف چوکوں اور چوراہوں ،مساجد کے باہر ،آگاہی کیمپ لگائے جائیں گے۔ضلع کے تمام سرکاری و نجی اداروں وتعلیمی اداروں کے سربراہان سے رابطہ کر کے کرپشن کیخلاف مہم میں شمولیت کی دعوت دی جائے گی ۔23مارچ کو ایک بڑی ریلی موٹر سائیکل ریلی کا انعقاد کیا جائیگا ۔جبکہ ضلع میں ایک بڑے سائن بورڈ پر کرپشن کیخلاف دستخطی مہم شروع کی جائے گی ۔بعد ازاں اس کوچاروں صوبوں اور مرکزسے وصول شدہ دستخطوں کے ساتھ مرکزی امیر جماعت اسلامی سراج الحق صدر پاکستان کو پیش کرینگے ۔ڈاکٹر حمید اللہ ملک نے کہا کہ ضلع چکوال میں سب سے زیادہ کرپشن محکمہ مال میں ہے ۔پٹواریوں نے کوٹھیاں اور کاریں لے رکھی ہیں ۔ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر سمیت دفتر کے مختلف کلرک کرپشن میں ملوث ہیں ۔ڈاکٹر حمیداللہ ملک نے کہا کہ قانون کے نام پر گھرانے تباہ کئے جا رہے ہیں ۔اسلام نے چورہ سو سال قبل ہر رشتے کے حقوق بتلا دیئے تھے ۔اب خواتین کے حقوق کے نام پر گھروں میں نفرتیں پیدا کی جا رہی ہیں ایسے قانون کی ابتداء جنرل ایوب خان کے دور میں ہوئی جب مرد کو دوسری شادی کیلئے پہلی بیوی کی اجازت ضروری قرار دی ۔اُس قانون کے نتیجے میں طلاق کی شرح بڑھ گئی ۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں طلباء یونینز پر پابندی ختم ہونی چاہئے ۔تعلیمی داروں میں صحت مند سرگرمیوں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے جس کے نتیجے میں طلباء کی سوشل لائزیشن ختم ہو کر رہ گئی ۔حکومت پنجاب نے بجائے تعلیمی اداروں میں سہولیات فراہم کرنے کے ایک ہزار سکولوں کو پرائیویٹ کر دیا اور پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے حوالے کر دیا ۔دوسرے مرحلے میں مزید پانچ ہزار سکول پرائیویٹ کر دیئے جائیں گے جس کے باعث تعلیمی نظام زمین بوس ہونے کا خطرہ ہے ۔

تبصرے

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں