تحریر : عا مر نواز اعوان

0
499

0300-5476104
aamir.malik26@yahoo.com
جنگل کا قانون ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیکھا تلہ گنگیو !سرکاری ملازم ایک ٹرانسفر نوٹس کی مار
محترم قارئین !یہ عام سامحاورہ ہے کہ ” جس کی لاٹھی اس کی بھینس ” یہ وہاں بو لا جا تا ہے جہاں جنگل کا قا نون ہواور عوام اپنےAmir Nawaz حق کی خاطر نہ بو لے کیو نکہ جو طاقت ور ہو گا وہ اپنا قانون چلا ئے گا ۔ اس کے دماغ میں ایک عجیب سی فرعونیت کا سماں ہو گا ۔جس کی مثال سب نے ان تین ماہ میں دیکھ لی کہ اے سی نے کیا کچھ کیا ۔اسی لئے میں یہ برملا کہوں گا کہ آجکل کے سرکاری ملازم بھی اسی کیٹگری کا شکار ہو چکے ہیں جس کو چند اختیارات مل گئے اس نے عوام کو بھیڑ بکری سمجھا اور اللہ کے خوف سے بالاتر ہو کر خود کو فرعون جا نا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عوام کو ریلیف نہ ملا بلکہ اس سرکاری افسر (ملازم)کی چاپلوسی کر نے والے مالشی اسکی نوازشات سے سرخروہو تے رہے ۔
اور جن کا حق بنتا ہے وہ غریب عوام صرف اس کی فرعونیت کا شکار ہو جا تے ہیں ۔جیسا تلہ گنگ کا حال بنا ہوا ہے کہ محکمہ پولیس میں دیکھو تو وہاں ٹاؤٹ مافیا گھسا ہوا ہے کسی کو انصاف نہیں ملتا ۔جب تک وہ ٹاؤٹوں اور پولیس والوں کی جیبیں گرم نہ کر ے ۔اس کا کو ئی پرسان خال نہیں ہو تا۔ٹی ایم اے میں جا ؤ وہاں بھی انہی ٹاؤٹوں کا راج ہے اور بھی دیگر محکموں میں یہی حالات دیکھنے کو ملتے ہیں جبکہ اگر اس تمام صورت کا بغور جا ئزہ لیا جا ئے تو یہ ہما ری عوام کی نااہلی کا نتیجہ ہے جو ان چند کالی بھیڑوں کو اس کے باوجود اہمیت دیتے ہیں ۔
ایک بزرگ کی بات عرض کر تا چلوں ۔میں چند دن پہلے راولپنڈی کسی کام سے جا رہا تھا کہ میرے ساتھ مسافر بس میں بلکسر سے ایک محترم بیٹھ گئے ۔ انہوں نے سلام دعا کی اورمیرے ساتھ والی سیٹ پر آکر بیٹھ گئے چند منٹ بعدانہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کہاں سے آرہے ہو وغیرہ وغیرہ چند سوال جواب کئے ۔
جب ان کو میرے با رے یہ معلوم ہوا کہ میں تلہ گنگ سٹی میں رہتا ہوں تو انہوں نے مجھے کہا میں تو حیران ہوں کہ ایک سترہ گریڈ کے افسر نے تم سب تلہ گنگیوں کو آگے لگا لیا اور تمہا ری انجمن تاجران کے سرکرہ لوگ بھی عوام کا ساتھ چھوڑ گئے تم لوگوں میں اتفاق ہی نہیں تم تلہ گنگ والے کیوں سرکاری لوگوں کے تلوے چاٹتے ہو۔وغیرہ وغیرہ
مجھے ان کا یہ لفظ کچھ سخت اور غیر پارلیما نی لگا تو میں نے کہا کہ ایسی کو ئی بات نہیں چچا جی تلہ گنگ کی عوام بہت غیور ہے آپ کبھی تلہ گنگ آئیں ۔اس کے علا وہ اور بھی بہت بات چیت ہو ئی بحرحال ان بزرگ کی باتوں سے یہ اندازہ ہوا کہ تلہ گنگ سے باہر کی عوام اس تجاوزات آپریشن کے بعد تلہ گنگ کی عوام کے بارے کیسے خیالات رکھتے ہیں ۔
قارئین !میں اپنے پہلے کالم میں بھی عرض کر چکا ہوں کہ” سابق اے سی وسیم خان نے جو تجاوزات کے خلاف آپریشن کیا اس کے غلط یا درست ہو نے پر بحث کا کو ئی فائدہ نہیں کیو نکہ جب ہماری تلہ گنگ کی عوام نے خود اپنے ہاتھوں سے
پراپرٹی گورنمنٹ کے حوا لے کی ہے تو پھر اس میں الجھنے کی ضرورت ہی ختم ہو جا تی ہے ” لیکن جو سوالات غیر متعلقہ اور تلہ گنگ سے باہر کے لوگوں کی طرف سے اٹھ رہے ہیں اگر ان کو دیکھا جا ئے تو معلوم ہوتا ہے کہ تلہ گنگ کی عوام میں کچھ کالی بھیڑیں موجودہیں جن کی نشاندھی تجاوزات آپریشن کے دوران ہو چکی ہے۔
چاہے وہ کالی بھیڑیں انجمن تاجران میں ہیں ، چاہے صحا فتی برادری میں ہیں یا عام طبقے میں ان کو سزا دینا عوام کا حق بنتا ہے۔انجمن تاجران یا صحا فتی برادری کے جو چندنام نہاد سرکردہ لوگ خود کو تلہ گنگ کا تھم سمجھتے ہیں اور عوامی مسائل کی بجا ئے ایک چائے کی پیالی پر سرکاری افسر (ملازم)کے سامنے بچھ جا تے ہیں ان کو عوام کی عدالت میں سزا ملنی چاہیے اور یہ کردار ہما ری عوام ان کو نظروں سے گرا کر ادا کر سکتی ہے ۔اس لئے عام عوام سرکاری ملازم کے تلوے نہیں چاٹتے یہ ایک مخصوص طبقہ ہی ہے جو اپنے مفادات کی خاطر یا اپنی دلی تسکین کی خاطر کہ میرے فلاں سے تعلقات ہیں یہ ظاہر کر نے والے ہی ہیں ۔ جن کو عوام کے فائدے سے کو ئی سروکار نہیں وہ اپنا الو سیدھا کر تے ہیں ۔ایسے نحوست کا گڑھ بہت قلیل تعداد میں موجود ہیں ۔عوام کا کام بنتا ہے کہ ان کو انکی اصلیت یاد کرائیں ۔
قارئین !سرکاری ملازم کے کو ئی پاؤں نہیں ہو تے ۔ وہ تو ایک کاغذ کے نوٹس کی مار ہو تے ہیں ڈی ایس پی ہو ، ایس ایچ او ہو یا اے سی وغیرہ جو بھی سرکاری ملازم آج یہاں ہے تو کل معلوم نہیں وہ کدھر ہو کیوں کہ اس کی ٹرانسفر کئی وجوہات پر ہو سکتی ہیں ۔ اپنی بری کارکردگی کی وجہ سے بھی وہ سزا پا سکتا ہے آج کل سیاسی دور ہے کسی سیاسی تبادلے کی نظر بھی ہو سکتا ہے یا اپنے افسران کی نافرمانی سے بھی اس کو منہ کی کھا نی پڑ جا تی ہے جس کی بہت سی مثالیں ہم آپ کے سامنے ہیں ۔
ابھی جیسے سابق اے سی وسیم خان کی ٹرانسفر سب کو معلوم ہے کہ اپنے افسران کی نافرما نی کر نے پر اس کو تلہ گنگ سے اٹھا کو کہیں اور پھینک دیا گیا تو اس لئے ایک سرکاری افسر(ملازم )کی اوقات صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے ۔ میری تلہ گنگ میں موجود تمام ٹاؤٹوں اور خوشامدیوں سے گزارش ہے کہ وہ اس رسوائی والے کام کو چھوڑیں تلہ گنگ کی ترقی کیلئے عوام کا ساتھ دیں یہ سرکاری افسران آج ہیں کل نہیں ہوں گے لیکن یہ عوام آپ کی اپنی ہے اور یہ آج بھی یہاں ہے اور کل بھی یہاں ہی ہو گی اس لئے تلہ گنگ کی عوام کا فائدہ سوچیں ، تلہ گنگ کا فائدہ سوچیں ۔ یہ سب ہما رے اپنے ہیں ، اور ایک کاغذ کی مارسرکاری ملازم کی مالش نہ کریں تا کہ آپ کا شمار کا لی بھیڑوں میں نہ ہو ۔

تبصرے

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں