زخمی تلہ گنگ … نو می چوہدری

0
600

زخمی تلہ گنگ….نو می چوہدری
قارئین محترم!
السلام علیکم! ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب کے جاری کر دہ نو ٹیفکیشن کے مطا بق اسسٹنٹ کمشنر وسیم احمد خان کو فو ری طور پر چارج چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ اور وسیم احمد خان کو راولپنڈی ڈویژن میں رپورٹ کیا گیا تلہ گنگ شہر کی اعوام کےol خواب ادھورے رہ گئے ایک نیا شہر دیکھنے کا خواب مٹی میں مل گیا اور یہ شہر ویسے کا ویسے ہی رہ گیا بہت بڑی زیا دتی کی گئی کہ آسمان بھی مسلسل
ر ونے لگ پڑا۔ قارئین محترم! اس میں اسسٹنٹ کمشنر وسیم احمد خان کا کوئی قصور نہیں ہے میں یہ بات مانتا ہو ں کہ انہو ں نے اتنی قیمتی پراپرٹی پلازے دو کانیں وغیرہ گرائیں اور تلہ گنگ شہر کو ایک ما ڈل سٹی بنا ؤ ں گا انہو ں نے تجاوزات وغیرہ گرانے کے بعد ہر طرف کام اپنی زیر نگرانی شروع کر وادیا تھا حتیٰ کہ مین رو ڈ پر کافی جگہ پر پو دے وغیرہ بھی لگا دیے گئے جو کہ شہر کا ایک خو بصور ت منظر پیش کر رہے تھے تبا دلہ کا نو ٹیفکیشن آنے میں اس میں وسیم احمد خان کی کوئی غلطی نہیں ہے کیو نکہ اسسٹنٹ کمشنر وسیم احمد خان تو دن رات ایک کر کے اس شہر کی خو بصو رتی اور اس شہر کو ایک ماڈل سٹی بنانے میں مصر و ف تھے کیونکہ شہر میں ہر طرف اے سی صا حب نے کام شروع کر وادیا تھا ہر کام میں اللہ تعالیٰ کی مر ضی شامل ہو تی ہے۔ قارئین محترم! انتہائی افسو س کی بات ہے کہ جب اسسٹنٹ کمشنر وسیم احمد خان کا تبادلہ کا نوٹس آیا تو کچھ لو گو ں نے بہت خو شیا ں منائیں مٹھائیاں تقسیم کیں دیگیں پکائیں بہت افسو س کی بات ہے وُہ شخص جو اس شہر سے مخلص ہے وُہ شخص جو اس شہر کی بہتری کے لیے آیا ہے اُس کے جانے کی خو شی میں یہ سب سلسلے چل رہے ہیں اور کچھ لو گ اے سی صا حب کے جانے سے بہت پریشان ہوئے ہیںیہ وُہ لو گ ہیں جو تلہ گنگ شہر سے محبت کر تے ہیں یہ وُہ لو گ ہیں جو اس شہر کی ترقی کو ددیکھنا چا ہتے تھے یہ وُہ لو گ ہیں جن کا جواب تھا کہ تلہ گنگ شہر ایک ما ڈل ٹا ؤن سٹی بن جانے میں ان لو گو ں خراج تحسین پیش کر تا ہو ں اور حکومت پنجاب سے میری اپیل ہے کہ براہ مہر بانی اسسٹنٹ کمشنر وسیم احمد خان کے تبادلہ کو کینسل کیا جا ئے تا کہ تلہ گا گنگ کی عوام کے یہ خواب پورے ہو سکیں۔ اور میری ٹی ایم اے والوں سے بھی گزارش ہے کہ چکوال ، میانوالی ، سرگودھا اور راولپنڈی روڈ ، الکرم روڈ ، ھلی مہاجرین ، محلہ سادات ، محلہ پیر بخاری سمیت شہر کے کئی علاقوں میں گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔بیماریا ں پیدا ہو رئی ہیں اور بارش کی وجہ سے محلو ں میں کئی دن تک گندہ پانی کھڑا رہتا ہے اور ساتھ ساتھ گندگی بھی جمع ہو جاتی ہے اور لوگوں کو گھروں سے نکلنے کے لیے بہت دشواری پیدا ہوتی ہے۔ براہِ مہربانی محلوں، گلیوں اور روڈ پر جو گندگی ہے ا س کی صفائی کی جائے اگر اس طرح گندگی بڑھائی گئی اور آپ لوگوں کی غفلت ہوئی تو ہم اور ہمارا شہر دن بدن گندا ہوتا جائے گا۔ صفائی نصف ایمان ہے۔
کرتے ہم وہ ہی ہیں جو ہمارا دل کرے کیونکہ ہم من چلے ہیں ۔
خدا حافظ۔

تبصرے

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں