نذر حسین چودھری

0
615

سانپ کا زہر نکل چکا

Daily Talagang News From Arslan Ahmed Malik
Daily Talagang News From Arslan Ahmed Malik

اسسٹنٹ کمشنر وسیم احمد کا تبادلہ ہو چکا ہے ۔تبادلہ کے بعد سکتے میں آئے ٹاؤٹ جب کبھی ہوش میں آتے ہیں تو واویلا کرنے لگتے ہیں کہ تلہ گنگ شہر کے ساتھ ظلم ہوا ۔اور کبھی بارہ تو کبھی اٹھارہ گھنٹے میں تبادلہ کینسل ہونے کی اپنے ہی دل کو طفل تسلیاں دیتے ہوئے نا ہنجار قسم کے مخبر کی پیشن گوئیوں پر ناچنے لگتے ہیں ۔تبادلہ کیسے ہوا کیونکر ہوا ۔راقم کے علم میں سب باتیں ہیں تاہم اُنہیں ابھی پردہ میں رہنے دیا جائے تو بہتر ہے ۔تبادلہ کم معطلی زیادہ کی خبر سب سے پہلے الحمداللہ تلہ گنگ ٹائمز نے بریک کی ۔اور اب بھی قارئین کو آگاہ کرتا چلوں کہ وسیم احمد کا جانا ٹھہر گیا ہے ۔اُس کو جانا ہے ۔وسیم احمد سانپ کی اس نسل سے تعلق رکھتا ہے جو وقت پڑنے پر اپنے ہی بچوں کو نگل لیتا ہے ۔تعیناتی کے روز سے ہی ڈی سی او کو باپ کا درجہ دینے والا ڈی سی او کے احکامات کی ہی حکم عدولی کرنے لگا ۔جن ٹاؤٹوں نے اُسے سر آنکھوں پر بیٹھایا کئی دفعہ اُن کوپہچاننے سے بھی انکاری ہو گیا وہ تو ٹاؤٹوں کا ڈھیٹ پن تھا کہ اُنہوں نے محسوس نہیں کیا ۔ اس سانپ کا زہر ایک ماہ پہلے اس وقت نکل چکا تھا جب اُس کو ہائی کورٹ راولپنڈی پنچ کی جانب سے غیر قانونی طور پرآپریشن کے دوران دکانیں مارکیٹیں گرانے پر توہین عدالت کے نوٹسسز ملے ۔نوٹسسز ملتے ہی غبارہ سے ہوا نکل گئی تھی ۔اس کے بعد دیکھ لیں نالہ بنتے بنتے ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزر گیا ۔ٹھیکیداروں کو رقم نہ ملی ۔سارے کام ٹھپ ہو گئے ۔پھولوں کی کیاریوں پر رقص کرنے والے ٹاؤٹوں سمیت سب کو پتہ ہے کہ دیگر کی طرح نرسری والا بھی بے چار روز بل وصولی کیلئے دفتر کے چکر پہ چکر لگا رہا ہے۔باب تلہ گنگ کا فنڈز ایک بڑے مافیا کے سرغنے نے دیئے جس پر عدالت میں فراڈ کے کیس چل رہے ہیں ۔اُس نے دور پار کے کروڑ پتی رشتہ داروں کو آگے لگایا ہوا ہے اور ان سے رقم اینٹھتا ررہتا ہے ۔کیاریوں ،باب تلہ گنگ اور سیوریج نالہ کی تعمیر کیلئے تمام قوانین بالا طاق رکھنے والا وسیم خان نقشہ نہ ہونے پر کبھی قصر جنت تو کبھی علی سردار ہوٹل کو سیل کر دیتا ہے ۔یہ کیسا قانون کا رکھوا لا تھا ۔سرعام لوگوں کے منہ پر سگریٹ کے دھواں پھینکنے والا کیا یہ نہیں جانتا تھا کہ سرعام سگریٹ پینا قانوناً جرم ہے جس کی تین سال قید تک سزا ہے ۔ایک سینئر صحافی کی جانب سے فیس بک اور واٹس ایپ پر آرمی وردی میں تصاویر پر کئے گئے سوال پر آئیں بائیں شائیں کرنے لگا ۔بعد میں مکر گیا کہ تصاویر میں نے نہیں لگائیں ۔عجیب دوغلہ پن ہے ۔جھوٹ ،منافقت اور فریب کی پالیسی وسیم خان کے خون میں شاید رچی بسی ہے ۔فنڈز تھے ہی نہیں اور چلا تلہ گنگ شہر کو ماڈل شہر بنانے ۔ساری دنیا میں مانا ہوا اصول یہ ہے کہ علاقہ کی تعمیر و ترقی کیلئے وہاں کے لوگوں کو ساتھ لیکر چلا جاتا ہے ۔باقاعدہ پلاننگ کی جاتی ہے اور فنڈز اکٹھے کئے جاتے ہیں ۔اس کے بعد ترقیاتی کام شروع کئے جاتے ہیں جس میں کمیونٹی انتظامیہ کے ساتھ شانہ بشانہ چلتی ہے ۔لیکن یہاں تو سارا معاملہ ہی اُلٹ ہوا ۔نہ کوئی پلاننگ نہ کوئی فنڈز اور نہ کمیونٹی ساتھ تھی۔شہر کی حالت اس وقت سب کے سامنے ہے ۔مین روڈز ،گلی محلوں میں لگے گندگی کے ڈھیرچیخ چیخ کر ٹی ایم اے کی بے حسی پر ماتم کناں ہیں ۔ان گندگی کے ڈھیروں کو ہٹانے کیلئے توکسی فنڈ کی بھی ضرورت نہیں ۔صرف سینٹری ورکروں سے کام لینا ہے وہ بھی نہیں ہو رہا ۔سٹریٹ لائٹس عرصہ دراز سے بند پڑی ہیں کیا کبھی اس کی تحقیقات کی گئیں ستر لاکھ روپے کی لاگت سے لگنے والی سٹریٹ لائٹس کیوں چند روز بعد ہی کام کرنا چھوڑ گئیں ۔خود ساختہ ایماندار وسیم احمد نے کبھی اس معاملے کو نہیں چھیڑا ۔ٹی ایم اے میں اور کئی بے ضابطگیاں ہیں کیا کبھی اُن کی انکوائری کیلئے احکامات جاری ہو ئے نہیں اور نہ کبھی ہونگے۔
بہر حال کچھ دیر کیلئے مان لیں کہ وسیم احمد کا تبادلہ کینسل ہو گیا ہے تو کیا وہ فیز ٹو شروع کریگا؟۔واپڈا پول ،نئی سڑکیں،سیوریج سسٹم تعمیر کرنے کیلئے فنڈز کدھر سے لے گا؟ سیاسی لوگ اپنے فنڈز اُس کو کیوں دینگے۔وسیم احمد کی پتلی حالت کا اندازہ اس وقت سے ہی لگایا جا رہا تھا جب واپڈا سمیت دیگر تمام محکموں نے وسیم احمد کے بطور اے سی احکامات پر من و عن عمل در آمد پرپس و پیش سے کام لینا شروع کر دیا تھا ۔سب محکموں نے کوئی بھی حکم ماننے کیلئے تحریری احکامات ( وہ بھی قانون کے دائرے اور اختیارات کے اندر رہتے ہوئے )کی شرط لگا دی تھی ۔جس پر موصوف کی باقی ماندہ توانائیاں بھی ختم ہو کر رہ گئی تھیں ۔آخر میں وسیم احمد کو مائی باپ بنانے والے ٹاؤٹ مافیا کیلئے کہ وسیم احمد آیا کریگا ۔ہر پیشی پر عدالت میں خود پیش ہو گا اور ہم ان شاء اللہ زندگی رہی تواُس کی مصروفیات سے آپ کو آگاہ کرتے رہیں گے ۔

تبصرے

شیئر کریں

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں