حلقہ این اے 61چکوال 2 اور پی پی 23ڈیلی نیوز کی نظر سے

0
651

Shahzad Ahmed Malikمحترم قارئین اور غیورعوام !حلقہ حلقہ این اے 61چکوال 2 اور پی پی 23جو مسلم لیگ ن کا گڑھ سمجھا جاتاتھا اور اس حلقے میں مسلم لیگ نے ہر جنرل الیکشن میں آسانی سے سیٹ لینے میں کامیاب ہوجاتی تھی۔گزشتہ جنرل الیکشن 2013میں سیٹ کو تھوڑا خطرہ تھا کیونکہ اس حلقے میں سابق چیف منسٹر چوہدری پرویز الہی کابھی ووٹ بینک بڑا ہے اور حکومت کے لیے یہ خطرہ تھا کہ یہ سیٹ کہیں ہاتھ سے نکل نہ جائے۔کیوں کہ اُن کو یہ بھی خطرہ تھا کہ کہیں تحریک انصاف اور ق لیگ کااتحاد نہ ہوجائے۔ جس کی وجہ سے وزیراعظم پاکستان میں نواز شریف کا ہیلی کوپٹر پروازکرتے ہوئے تلہ گنگ اترااور پنڈال لوگوں سے کچھاکھچ بھراہواتھا۔ عوام بسوں اور ٹرکوں کی چھتوں پر تھے ۔ اس وقت کے متوقع وزیراعظم دیکھنے کی جھلک کے لیے بے تاب تھے۔متوقع وزیراعظم جو کہ اب پاکستان کے وزیراعظم ہیں ، نے جلسہ عام سے خطاب بھی کیااور کہا تلہ گنگیوں مانگو جوکچھ مانگناہے۔ میں وزیراعظم بنوں یانہ بنوں جو وعدہ کروں پوراکروں گا۔کئی ارکان اسمبلی نے ان کے کان میں ضلع تلہ گنگ کااعلان کرنے کوکہا تو انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ضلع تلہ گنگ کاوعدہ کرتاہوں مگر تاحال وعدہ وعدہ ہی رہا۔ ابھی تک وعدہ ایفاء نہیں کیاگیا۔افسوس اس بات کا بھی ہے۔ کہ وہ وعدے تو الگ موجودہ حکومت وزیراعظم یاوزیراعلیٰ پنجاب کی طرف سے تلہ گنگ میں کسی بڑے منصوبے کاافتتاح نہیں کیاگیابلکہ تلہ گنگ کی نشانیوں کو بھی ملیامیٹ کرکے رکھ دیاگیا۔ آج تلہ گنگ شہر میں اتنے لاتعداد مسائل ہیں کہ ان کو حل کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجوہات جو سامنے آئی ہیں ۔ سیاستدانوں کی آپس کی چبقلش ہے جس کااظہار وزیراعظم اپنے ایک دست راز سے کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ آج ایک ہو جائیں تو میں دوسرے دن نوٹیفیکیشن جاری کردوں گا مگر ان کے ایک ہونے کے چانس نظر نہیں آرہے ۔ عوام کے مسائل کو پس پردہ ڈالے ہوئے ہیں۔عوام کی کوئی فکر نہیں سیر سپاٹوں اوراپنے ذاتی کاروبار کی طرف ان کی توجہ ہے۔ تلہ گنگ میں جب تجاوزات آپریشن شروع ہواتوتمام منظرعام سے غائب ہوگئے۔ اب جیسے ہی اسسٹنٹ کمشنر کی ٹرانسفر کی اطلاع ملی تو پھر عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے میں مصروف ۔مگر عوام بھی اچھے برے کی پہچان رکھتے ہیں۔ حلقہ حلقہ این اے 61میں مسلم لیگ ن کا ووٹ بینک کافی گرچکا ہے۔ بلدیاتی الیکشن میں بھی بری طرح پٹ گئے۔ تحریک انصاف اور سردار گروپ کااگر اتحاد ہوجاتا تو حلقہ حلقہ این اے 61چکوال2 اور پی پی 23بالکل فارغ ہوجاتے۔ہمارے ذرائع کے مطابق اعلی قیادت بھی ان سے ناراض ہے اور یہ بھی اعلی قیاد ت سے ناراض ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے حلقہ حلقہ این اے 61چکوال 2 اور پی پی 23کے لیے کوششیں کی ۔ اپنے مشیر منشاء بٹ کو بھیجا کہ ان کی آپس کی چبقلش ختم کرائیں لیکن بیان بازی کی حد تک تو وہ چپ ہوگئے۔ مگر اندرونی چبقلش برقرارہے۔ اس طرح ان نالائقوں اور لاپرواہوں نے حلقہ این اے 61چکوال 2 اور پی پی 23کا ووٹ بینک بجائے بڑھنے کا چانس بہت کم نظر آرہاہے۔ مقامی قیادت نے بھی ہاتھ کھینچ لیے ہیں۔ کارکن بھی دوردور رہنے لگے ہیں۔ آمدہ الیکشن حلقہ این اے 61چکوال 2 اور پی پی 23 کی سیٹ خطرے سے خالی نہیں۔مگر سیاست میں کوئی حرف آخر نہیں ہوتا۔ جس طرح وزیراعلی پنجاب کے مشیر سلیم اقبال نے راتوں رات پریس کانفرنس کرکے مسلم لیگ ن میں شمولیت کرلی تھی وہ ق کے رہنماتھے۔ اچانک تبدیلی آئی ۔ مسلم لیگ ن الیکشن 2013 ؁ء میں سیٹ اپنے نام کرلی تھی۔ وزیراعظم کاآنابھی اس کی ایک کڑی تھی کہ مسلم لیگ ن کی سیٹ کو خطرہ تھا۔ اب عوام مسلم لیگ ن کی قیادت سے سخت نالاں اور حکومت پنجاب سے بھی متنفرنظر آرہی ہے۔ دن بدن تحریک انصاف کاووٹ بڑھتاجارہاہے مگر یہ آنے والا وقت بتائے گاکہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتاہے مگر محتاط اندازے اور سروے کے مطابق مسلم لیگ ن کی حلقہ این اے 61چکوال 2 اور پی پی 23 سے کامیابی کی کوئی امید نظرنہیں آرہی۔

تبصرے

شیئر کریں

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں