جھوٹ۔ثبوت ہوں ۔تو۔عدالتیں انصاف دیتی ہے ۔۔۔تحریر محسن قیوم شیخ

0
657

Mohsin Qayyumمحترم قارئین مجھے یہ سمجھنے میں کافی وقت لگا کہ آخر جھوٹ بولنا مسلمان کیلے اتنا آسان کب سے ہو گیا ۔جو کام ہم مسلمانوں کے تھے وہ آج بلاشبہ غیر مسلموں نے اپنا لئے ہیں آخر اللہ ہم سے کیوں ناراض ہے کیوں آئے روز ایسی خبریں سنے کو ملتی ہے کہ آج بیٹے نے ماں کو قتل کر دیا بیٹے نے باپ کو قتل کر دیا یہ ہمارے معاشرے کا ایسا ناسور بن چکا ہے کہ قتل ہونے پر ہم سب اللہ سے توبہ کرتے ہیں لیکن دوسرے لحمے ہم بھی ایسی ہی غلطی دوہرانے میں دیر نہیں لگاتے، کیا یہ سچ تھا کہ جیسے حکمران ویسے عوام ،شاہد سچ ہی کہتے تھے کہ حکمران اچھے ہونگے تو عوام بھی نیک اور پرہیز گار ہو گی لیکن ہمارے ہاں ایسے حکمران بھی موجود ہیں جو جھوٹ بولنے میں کمال کی مہارت رکھتے ہیں اور ان کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ عوام کیا سوچتی ہے اور کیا کرتی ہے گذشتہ روز میاں نواز شریف نے تلہ گنگ سے کچھ فاصلے پر ذاتی تعلقات کو اہمیت دیتے ہوئے ضلع چکوال آئے اور پھر سونے پہ سہاگہ کہ محترم جامی صاحب نے تما م خوشامدیوں کو بلا لیا کہ آپ بھی میاں نواز شریف کو ا کر مل جائے اور اآپ بھی یہ سمجھ جائے کہ میاں نواز شریف اور میرا کتنا تعلق ہے ،لیکن میاں صاحب سے محبت کرنے والی کئی لاکھ عوام جو ان کی منتظر تھی اور ان سے جلد از جلد ضلع تلہ گنگ کی خوشخبری سنا چاہتی تھی انہوں نے اس بات کو ہی سرے سے ختم کر دیا کہ ضلع تلہ گنگ ہمارے ذہن میں نہیں آپ مہربانی کر کے مجھے تحریری طور پر اگاہ کرے مجھے اس بات کا قوی یقین ہے اور تھا کہ جامی صاحب اور ان کے تمام دوستوں نے میاں نواز شریف سے آتنی جرات سے بات کی ہوگی جس کا یقین تصویریں دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے جھوٹے پے اللہ کی لغنت جس نے جھوٹ بول کرتلہ گنگ کی عوام سے ووٹ لئے ۔تلہ گنگ کا مستقبل کن کے ہاتھوں میں ہے آخر کون ہے جو ہماری رہنمائی کر گا ضلع تلہ گنگ کا کیس کون ان شریف برداران کے سامنے پیش کرنے کی ہمت کر ے گا ۔ان منتخب نمائندوں کو
شریفوں کا اتنا ڈر ہے اللہ کا ڈر نہیں اور کیا عوام ان کے زمیر کو نہ جگا سکیں گی کیا ایک میاں ناراض نہ ہو جائے اللہ اور اس کو مخلوق بے شک ناراض ہو جائے آخر ہمارے ذمیر اتنے مردہ کیوں ہو گئے کہ آج ہم اپنا حق مانگنے کے لئے بھی چاپ لوسی اور خوشامد کرتے ہیں میں نے آج سے تین ماہ قبل ایک تحریر لکھی تھی جس میں لکھا تھا کہ حکمرانوں سمیت عوام بھی مردہ جو آج سچ ثابت ہو ئی ضلع تلہ گنگ کا اعلان کئے آج ساڑھے تین سال کا عرصہ ہو چکا تلہ گنگ میں ایک بھی شخض باہر نہ آیا ۔اور جب اسٹنٹ کمشنر وسیم خان نے جب تجاوزات کے خلاف اپریشن کیا تو تلہ گنگ کی تماشبین عوام نے وسیم خان کے حق میں جو نعرے لگائے وہ آج بھی میرے کانوں میں گونج رہے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ تلہ گنگ میں کیا جانے والا اپریشن نے کافی لوگوں کو بے روزگار کیا لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اپریشن کے خلاف وویلاکرنے والے اپنا پراپرٹی ثبوت بھی پیش نہ کر سکے جو سرعام یہ کہتے تھے کہ وقت آنے پر ہم ثبوت دیں گے ان کے ثبوت کہاں گئے جن کے پاس ثبوت ہوتے ہیں ان کو عدالتیں انصاف دیتی ہے جیسے چکوال کے تاجروں کو عدالت نے انصاف فراہم کیا ،تلہ گنگ کو فلسطین بنانے والوں تلہ گنگ کو تلہ گنگ تو بنے نہ دیا ،وسیم خان کے ہوتے ہوئے تو جیسے گونگے ہو گئے ،کل تک خود کمشنروں کی ٹاوٹی کرنے والے آج دال نہ گلنے پر القابات سے نواز رہیں ۔کل تک حافظ عمار یاسر سے لیکر سردار ممتاز خان ٹمن کی چاپ لوسی اور آج سردار ذولفقار دلہہ کو سروں کا تاج بنانے والوں تمھاری غیرت اس وقت کہاں تھی جب تمھاری نظروں کے سامنے تجاوزات اپریشن کیا جا رہا تھا ،کیوں یہ بھول گئے کہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے جس طرح تم لوگوں کی پگڑیان اچھالتے رہیں اور جس طرح تمھارے خلاف عوامی غضہ آیا کیا تمھاری انکھیں کھولنے کے لئے کافی نہیں ۔عوام بھی ان کو یاد رکھتی ہے جو صاف نیت ہو۔میری تلہ گنگ کی عوام سے بس یہ ایک گزارش ہے کہ جھوٹ اور منافقت سے بچونہیں تو آنے والی پریشانیاں اسی کا کا خمیازہ ہو تی ہے۔دعا کا طالب

تبصرے

شیئر کریں

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں