ارسلان احمدملک کی خصوصی تحریر سابق اسسٹنٹ کمشنر تلہ گنگ وسیم خان کے نام

0
572
ac tlgمحترم قارئین اور غیور عوام سابق اسسٹنٹ کمشنر وسیم خان فیصل آباد سے تلہ گنگ ، تلہ گنگ سے حسن ابدال، باقاعدہ طور پر چار سنبھال لیا۔ان کے مدمقابل ضلع سرگودھا کی تحصیل شاہ پورسے واصف الرحمن خان کو اسسٹنٹ کمشنر تلہ گنگ تعینات کیاگیاہے۔ میرے ذمے دار ذرائع کے مطابق واصف الرحمن کا تعلق مالاکنڈ خیبرپختونخواہ سے بتایاجاتاہے اور سابق اسسٹنٹ کمشنر تنویرالرحمن کے لنگوٹیے یار بھی ہیں اور ایک ہی بیج سے ان کا تعلق بتایا گیاہے۔ حکومت پنجاب نے اسسٹنٹ کمشنر وسیم خان کے تبادلے کے لیے لاوہ کے اسسٹنٹ کمشنر کو اضافی چارج دینے کے لیے ہدایت کی لیکن تقرری کی ہدایت اسسٹنٹ کمشنر لاوہ کی دلچسپی نہ تھی۔ آرڈرمنسوخ کیے گئے۔حکومت پنجاب نے کئی ناموں پر غورکیا لیکن کوئی تلہ گنگ میں آنے کو تیار نہ تھا جو وسیم خان نے گند ڈالا ۔لوگوں کو ڈرایا دھمکایا مسلم لیگ ن کاووٹ گرایا۔اس سارے نزاکت کودیکھتے ہوئے تلہ گنگ میں اسسٹنٹ کمشنر کے عہد ے پر کوئی راضی نہ ہوا۔آخر کار واصف الرحمن کاقرعہ اندازی میں نام نکل آیا۔ بتایا جاتاہے کہ سابق اسسٹنٹ کمشنر تنویر الرحمن کے لنگوٹیے یار کے علاوہ فیملی تعلقات بھی ہیں۔اسسٹنٹ کمشنر تلہ گنگ واصف الرحمن تلہ گنگ شہر وگردونواح کے موجود ہ حالات وواقعات ایک بہت بڑا چیلنج ہے، مسائل بڑے ہیں۔ لیکن فنڈز کافقدان،تلہ گنگ میں جو تباہی مچی ہے اور جس طرح وسیم خان کو عوام نے کندھوں پر اٹھایا اور سوشیل میڈیا پر بھی ہیرو بنایا لیکن وسیم خان نے تلہ گنگیوں کے ساتھ وفا نہیں کی۔اپنی نوکری کو پیاراسمجھا حالانکہ اس کے پاس پوسٹنگ رکوانے کے کئی سٹیپ موجود تھے۔بڑکیں ایسی ماریں جیسے ابھی خیبرکاقلعہ فتح کرنے والے ہیں۔ سرکاری میڈیا نے بھی کوئی کسر نہ چھوڑی ، صرف کیاریاں بنوائیں، کسی نے اگر جھاٹلہ میں پیشاب کیا تو اس کو بھی شائع کیا۔ ان نالائق نادانوں نے بجائے کام لینے کے ذاتی عداوتوں کو ترجیح دی جوکہ عوام کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی۔سرکاری میڈیا کو چاہیے تھا کہ وہ اس سے کام کرواتے ، ڈیلی نیوز کے پاس وسیم خان کے دور میں ہر وہ ریکارڈ موجود پڑا ہے، ڈیلی نیوز مناظر ے کے لیے بھی تیار، خبریں پالشی لگانے سے تلہ گنگ کا ستیا ناس کیاا ور تلہ گنگ کو مزید مشکلات میں ڈالا ۔ میری کوئی ذاتی عداوت نہیں ہے ، نہ میری وسیم خان کے ساتھ زمین سانجھی ہے، عوام کے مسائل اور ملکی سلامتی کے لیے لکھتاہوں۔ ضلع اٹک کے حسن ابدال میں بھی میرے نمائندگان موجودہیں۔ انشاء اللہ تلہ گنگ میں اس نے جو کام کیا، حسن ابدال میں میں نہیں کرنے دوں گا۔حکومت پنجاب نے صحیح کلاس لی۔صرف بڑکوں کی حد تک محدود رہا، عوام کو سوچناہوگا کہ اب تلہ گنگ میں جو ملبہ بکھرا پڑاہے اس کو کون سنبھالے گا، پھول بوٹوں کی ضرورت نہیں تھی۔ بلکہ بنیادی ضرویات زندگی کی۔ جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تبصرے

شیئر کریں

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں