ڈیلی نیوز تلہ گنگ کاپیغام ، تلہ گنگ کے میڈیا کے نام

0
273
mediaاسلام آباد(شہزاداحمدملک)تلہ گنگ کے تمام شائع ہونے والے ہفت روزہ کے چیف ایڈیٹر، نیوز ایڈیٹر اور مالکان سے ہمدردانہ التجاء ، میں آج صبح اٹک سے آئے ہوئے دودوستوں کے ہمراہ سیرینا ہوٹل گئے اور سیرینا ہوٹل میں اس کے کزن ملازم تھے،وہ مجھے بھی ساتھ لے گئے کہ آؤ چلتے ہیں گپ شپ لگائیں گے، ان کے ہاتھ میں دواخبارات تھے،مجھے کہنے لگے ارسلان یہ دیکھو،تومیں نے کہا بھائی بات یہ ہے کہ ہم سیرینا ہوٹل میں دوست کو ملنے آئے ہیں اخبارات کی سٹڈی کرنے نہیں،ہم ایک لابی میں بیٹھ گئے اور انٹرکام کے ذریعے اطلاع کی ، وہ آیا ، گپ شب کی اور چائے پی۔ مختصرابات یہ ہے کہ تمام شائع ہونے والے ہفت روزہ کے چیف ایڈیٹر، نیوز ایڈیٹر اور مالکان سے ہمدردانہ التجاء کرتاہوں کہ ایسی خبروں سے گریز کریں جو ملکی مفاد کے خلاف اور عوام کو بھڑکانے والی ہوں۔ اس سے امن وامان بھی خراب ہوتاہے اور بات پھر لڑائی جھگڑوں تک پہنچ جاتی ہے۔ اس کے بعد مسئلہ تھانہ کچہری تک پہنچ جاتاہے اور برادریاں دشمنیوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ جس کی وجہ سے حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خطرہ بھی پیداہوجاتاہے۔ وسیم خان آئے یاجائے سڑکوں پر پلازہ بنائے،فیس بک پر وسیم خان کے حامیوں اور مخالفین کے تبصروں سے گریز کیاجائے۔ وسیم خان نے اچھے کام بھی کیے لیکن ساتھ ساتھ جاتے وقت انہوں نے اتنی بزدلی دکھائی شاید کوئی پنجاب میں ایسا کوئی بزدل انسان ہو۔ عوام نے اس کو جس قدر کندھوں پر اٹھایا، وسیم خان نے اپنی نوکری کو پیاراسمجھا، عوام کی خاطر اپنے آرڈرسسپنڈ نہیں کرواسکا حالانکہ اس کے پاس آرڈرسسپنڈ کروانے کے کئی آپشن موجود تھے۔سرکاری میڈیا کو بھی اس نے تگنی کاناچ نچایا،وسیم خان لاری اڈے پر پہنچاپیچھے سے خبر چھپ گئی۔ اسی طرح کی مثال ہم جب بھی الیکشن آتے ہیں ہم اپنے ایم این اے اور ایم پی اے کو کندھوں پر اٹھاتے ہیں ، برادریوں اور پڑوسیوں سے دشمنیاں ڈالتے ہیں ۔ وہ جب اقتدار میں آجاتے ہیں، سلام دینا بھی گوارا نہیں کرتے۔اسی طرح سلسلہ رہا تو تلہ گنگ میں خانہ جنگی چھڑنے کا امکان خطرے سے خالی نہیں۔ فیس بک کاکوئی باپ دادا نہیں ایک ذمہ داراخبار کوچاہیے کہ وہ اپنے نمائندگان ، مختلف نیوزایجنسیوں کے خبریں لگائے نہ کہ فیس بک پر زورآزمائی کرے اور ایک دوسرے پر لعن طعن کرے۔جس سے ذاتی عداوت کاعنصر بھی شامل ہو جاتاہے اور میں نے جب گزشتہ ہفتہ تلہ گنگ کادورہ کیا آپ یقین نہیں کریں گے، میں کسی بھی دوست کو نہ ملا کیوں کہ حالات ہی کچھ اس طرح تھے کہ ایک دوسرے کی جان کے دشمن بنے ہوئے تھے۔میں پارٹی بازی نہیں چاہتا، میں نے اور شہزاد نے ایک دوست کو کہا کہ خداراہ میڈیا کوکہو کہ ایک ہوجائیں۔ عوام کے مسائل اور ملکی سلامتی کے لیے لکھیں۔ محسن قیوم کاکہنا تھاکہ میں نے کئی بار کوشش کی مگر۔۔۔۔۔۔ میرے محترم بھائیو! آپ جس پیشے سے وابستہ ہیں یہ ایک مقدس پیشہ ہے لڑائی جھگڑے اور دشمنیاں ختم کریں اور پیارومحبت کی باتیں کریں۔ جس سے تلہ گنگ کی عوام کو بھی فائدہ پہنچے گااور ہمیں بھی۔ ہم ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے رہیں گے تو اس کافائدہ سیاستدان اور انتظامیہ اٹھاتی ہے ان کو کھلی چھٹی مل جاتی ہے ، اگر آپ چاہیں تو میں یہ یقین سے کہہ سکتاہوں کہ ہم تین ماہ ورک کریں تو تلہ گنگ میں وڈیرہ شاہی اور جاگیرداری نظام کو ختم کرسکتے ہیں مگر شرط اتحادہے۔اس میں تلہ گنگ کے غیورعوام کے علاوہ پاکستان کی جڑیں بھی مضبوط ہوں گی تلہ گنگ کانام بھی دوسرے ممالک میں روشن ہوگا اورتیسرافائدہ ہمیں جو پہنچے گا عوام جو مسائل میں جکڑے ہیں ان کے بھی مسائل حل ہوں گے۔ اور آئندہ نسلیں بھی ان زنجیروں سے آزادی حاصل کرسکتی ہیں۔ مجھے بھائی شہزاد اکثر بتاتارہتاہے کہ فیس بک پر بڑی زورآزمائی کی جاتی ہے ایساکرنا کوئی اچھی بات نہیں کوئی ہماراخاندانی جھگڑا یاجائیداد سانجھی نہیں ہے۔ہم سب نے ملکر اپنے پیارے پاکستان اور اس کی عوام کے لیے لکھنا ہوتاہے ۔ اگر کسی کو میری بات بری لگے تو معذرت ، سوچ اورانداز اپنا اپنا۔میں نے آج جس قدر محنت کی کہ آنے والے نئے اسسٹنٹ کمشنر کاہر طریقے سے سراغ لگایا جائے وہ میرااللہ ہی بہتر جانتاہے۔ کبھی میں بذریعہ ٹیلیفون سرگودھا، کبھی تحصیل شاہ پور، میں نے کسی پر احسان نہیں کیا نہ ہی ڈیلی نیوز کی خاطر کوئی کام کیا۔ صرف اللہ تعالی کی خوشنودی کے لیے کافی ٹائم میں نے اس پر ورق کیا آخر سارا کھوج لگاہی لیا۔ ہمیں اس پر اپنی توجہ دینی چاہیے نہ فیس بک پر عوام کو بھڑکایا جائے ۔ اس سے امن وامان کی صورت بگڑنے کاخدشہ بھی ہے۔ مجھے بلیک میل کرنے کی کوشش کی گئی، میرے جعلی بیانات چلائے گئے۔ مجھے ایجنسیوں سے دھمکیا دلوائی گئیں۔ بیس پیچیس سال پہلے کی ایف آئی آرجن کے معزز عدالتیں فیصلے دے چکی ہیں،منظر عام پر لائی گئی۔ میڈیا کو یہ نظر کیوں نہیں آیا کہ میراآبائی گاؤں ڈھوک پھلی جو حلقہ این اے 61 چکوال2 اور ٹمن کی حددو میں آتاہے ، اس گاؤں سے دس بارہ کلومیٹر دور ایف سی ، رینجرزاور انجراء پولیس نے بھاری اسلحہ ، جدید قسم کابارود اور دیگر آلات پکڑے اور اس کے علاوہ کئی لاکھ نقد کیش ، 25تولے سونا، انعامی بانڈبرآمدکیا اور ڈھوک پھلی میں تیل و گیس کمپنی کے حساس پلانٹ موجود ہیں اور کئی سوملازمین کام کرتے ہیں، چونے کی فیکٹریاں موجود ہیں، اللہ نہ کرے کوئی ایسا حادثہ پیش آجائے تو میڈیا ڈھو ک پھلی پر کیوں نہیں جاتا۔ صرف فیس بک پر زورآزمائی کی جاتی ہے۔ ٹمن کے ایس ایچ او کو بھی چاہیے کہ یہ ڈھوک پھلی کا جو رقبہ ہے، یہ ٹمن کی حدود میں آتی ہے، تیل و گیس نکل رہی ہے، حساس پلانٹ ہیں، پولیس نے پٹرولنگ تو دور کی بات کبھی خبر بھی نہیں لی، یہ لوگ کوئی انڈیا سے تو نہیں آئے ، آخر پاکستان کے معزز اور شریف شہری ہیں۔ پولیس کو بھی چاہیے کہ اس علاقے کی خبر لے آخریہ رقبہ اورعلاقہ بھی ٹمن کی حدود میں آتا ہے۔میری والدہ ہمیشہ مجھے یہ کہتی ہے کہ بیٹا ہمیشہ سچ لکھو نہیں تو یہ دوکان بند کردو۔ ہمیشہ سچ لکھتاہوں اور ہمیشہ لکھتاہی رہوں گاجس سے ضمیر بھی مطمئن رہتاہے اور دل کو بھی سکون ملتاہے، اور اللہ بھی راضی رہتاہے۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ پاکستان زندہ آباد، عوام زندہ آباد

تبصرے

شیئر کریں

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں