بلدیاتی انتخابات میں حصہ نہ لیتے تو اچھاتھا،نومنتخب چیئرمین، وائس چیئرمین اور کونسلرز کی ڈیلی نیوز تلہ گنگ سے گفتگو، نام ظاہرنہ کرنے کی شرط۔

0
128
TLG 2اسلام آباد(ارسلان احمدملک)حالیہ بلدیاتی انتخابات سے منتخب ہونے والے چیئرمین،وائس چیئرمین اور کونسلرز نے نام شائع نہ کرنے پر ڈیلی نیوز سے گفتگو کی ہے۔جب سوال کیاگیا کہ آپ نام کیوں نہیں ظاہر کرناچاہتے تو انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت جس سے ہم وابستہ ہوگئے ہیں، پارٹی رول کے خلاف اور پارٹی قیادت کے ناراض ہوجانے کا خطرہ ہے، جس سے ڈیلی نیوز اتفاق کرتے ہوئے ان سے گفتگو کی۔ نو منتخب نمائندے جن کا تعلق قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 61سے ہے، نے کہا اس سے تو بہتر تھا بلدیاتی انتخابات نہ ہوتے۔ ہم نے لاکھوں روپے الیکشن مہم میں خرچ کیے لیکن تاحال کوئی اختیارات نہیں دیئے گئے معاملے کو حکومت پنجاب کیوں لٹکا رہی ہے یہ سمجھ سے بالاتر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عوام کی نظریں ہمارے اوپر ہیں ہم نے الیکشن مہم کے دوران جو وعدے کیے تھے ہم نے ان کو پورا کرناہے، لیکن جب ہمارے پاس اختیارات ہی نہیں ہم کیسے پورے کریں ڈیلی نیوز کے ایک سوال پر انہوں نے کہا منتخب نمائندوں اور کونسلروں ، وائس چیئرمین نے کہا کہ ایسا لگتاہے کہ پنجاب حکومت کے پاس فنڈز نہیں کی کمی اور مالی وسائل نہ ہونے کی وجہ بھی ہوسکتی ہے۔وہ ڈیلی نیوز تلہ گنگ سے خصوصی گفتگو کررہے تھے انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں صرف سکی نمبرداری کی ملی ہے۔ جب ڈیلی نیوز نے سوال کیا کہ آخرپنجاب حکومت نے کوئی فری ٹائم دیا تو ہوگا تو انہوں نے کہا کہ کوئی ٹائم ٹیبل نہیں دیاگیا۔ا یک چیئرمین نے ہنستے ہوئے کہا کہ ہمیں صرف بچوں کی پیدائش اور اموات کی تصدیق کے اختیارات ہیں اور ہمارے پاس کوئی اختیارنہیں ۔ ہماری مہریں بھی ویسی کی ویسی پڑی ہوئی ہیں، لیٹر پیڈ اور مہریں ہم نے اپنے خرچے سے بنوائی ہیں۔ان کامزید کہناتھا کہ وزیراعلی پنجاب نے صرف ہمیں ایک خوبصورت ڈیزائن میں خوشامدی خط لکھاہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم بہت شرمند ہ ہیں۔ عوام کی نظریں ہم پر ہیں۔ معلوم نہیں ہوتا کہ حکومت پنجاب کیا کرناچاہتی ہے۔ اگر ایک دوماہ میں مزید معاملہ لٹکا تو ہماری جو ساکھ ہے وہ بھی متاثر ہوسکتی ہے اور ہم عوام کے سامنے آنکھیں اٹھا کر بھی نہیں چل سکتے ۔ اس سے تو بہتر یہ تھا کہ ہم کبھی بھی الیکشن نہ لڑتے ،اس طرح کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہمیں شرمندگی کے علاوہ اپنے اپنے حلقوں کے سامنے ہمیں عوام کے سامنے شرمندہ کیاجارہاہے جو کہ ایک گھٹیا عمل ہے۔ انہوں نے ڈیلی نیوز کے ایک سوال پر کہا کہ کم از کم حکومت کو چاہیے کہ ایک نوٹیفیکیشن جاری کردے تاکہ ہم عوام کو مطمئن کرسکیں لیکن ایسانہیں ہورہا جس کی وجہ سے ہم خود بھی پریشان ہیں اور عوام کے نمائندے جواب دہ ہیں۔ عوام کو ہم کس طرح مطمئن کریں گے۔ انہوں نے حکومت پنجاب کو وارننگ دی ہے کہ وہ معاملے کو لٹکانے کے بجائے نومنتخب نمائندوں کو اختیارات دے ورنہ ہم عہدوں سے استعفیٰ دے دیں گے جو پنجاب حکومت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔

تبصرے

شیئر کریں

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں