کسی کو اچھا لگے یابرالگے سچ لکھتاہی رہوں گا،ارسلان احمدملک

0
414

Tlg 5تحریر:۔ارسلان احمدملک
مجھے ضلع اٹک میں کام کرتے ہوئے پانچ سال گزرگئے اور میری تحریک چھٹے سال میں داخل ہے جبکہ ڈیلی نیوز کی زندگی چار سال مکمل پانچویں سال میں داخل ،میں کوئی صحافی نہیں لیکن صحافت کے قواعدوضوابط سے بخوبی آگاہ ہوں۔ تجربے سے انسان بہت کچھ سیکھ لیتاہے۔الحمداللہ اللہ کے فضل وکرم سے میری دونوں تحریکیں رواں دواں ہیں۔ سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کے علاوہ سیاستدانوں پر کڑی نظررکھتاہوں۔مجھے اس دوران میں دھمکیوں سے نوازا گیا ایجنسیوں کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ میرے خاندان کے اوپر پندرہ سال پہلے ہونے والی ایف آئی آر جس کے فیصلے آ چکے ہیں ، کو منظر عام پر لایا گیا۔ لیکن اس کے باوجود بھی چند شرپسند عناصر نے گٹھ جوڑ کرکے پلان تیارکیا اور مجھے بلیک میل کرنے کی کوشش کی پریس فورم پر میر اجعلی بیان جس کا مجھے علم تک نہیں اور نہ میں نے پریس فورم میں بیان جاری کیا۔ تلہ گنگ کی ہسٹری بتاتی ہے کہ تلہ گنگ میں شیخ محسن قیوم ایک نڈر اور بے باک صحافی ہیں ۔ ان کو صحافت ورثے میں ملی ہے ان کے والد مرحوم آج بھی تلہ گنگ،لاوہ اور چکوال کے عوام کے دلوں میں زندہ ہیں۔ اگر میں یہاں نوائے وقت کے رپورٹرالحا میاں محمدملک کا ذکر نہ کروں تو یہ بے انصافی ہوگی۔ ان کی خدمات بھی تلہ گنگ کے لیے بڑی اہم ہیں۔ انیس سو بانوے میں تلہ گنگ کے چودھری غلام ربانی نے روزنامہ خبروں کو جوائن کیا وہ ایک اچھے اور دیانتدار صحافی کے طور پر ابھرے ، جوں جوں تلہ گنگ ترقی کرتاگیا تلہ گنگ کامیڈیا بھی ترقی کرتاجارہاہے۔ بڑی اچھی بات ہے میرا دل خوشی سے بھر آتاہے مگر دکھ بھی ہوتاہے کہ چند صحافی اپنی قلم کے ذریعے مسائل اجاگر کرنے کے بجائے سیاستدانوں اور انتظامیہ کے آگے پیچھے گھومتے ہیں ، مسائل میں دلچسپی نہیں لیتے میں کسی کانام نہیں لیناچاہتااس لیے کہ نام لینا فضول ہے، تلہ گنگ کامیڈیا اگر آج ایک جوجائے تو میں بالکل 100%یقین سے کہہ سکتاہوں کہ ہم تلہ گنگ کے حلقہ این اے 61چکوال 2 سے وڈیرہ شاہی ,اور جاگیرداری نظام کو ختم کرسکتے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہو پارہا۔ ایک دوسرے کے دست و گریبان اور ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچی جارہی ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ رپورٹر بننا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ قومی اخبارات ، خبریں ہوں ، ایکسپریس ہو، اوصاف، ڈیلی پاکستان ہو یادیگر قومی اخبارات ان کی نمائندگی لینے کے لیے سرکولیشن منیجر سے رابطہ کیاجاتاہے کہ میں فلاں جگہ سے تحصیل رپورٹر یا نمائندہ خصوصی بنایاجائے یاکرائم رپورٹربنایا جائے تو قومی اخبارات کی جو پالیسیاں ہیں ، کے مطابق نمائندگی کے ساتھ نیوز ایجنسی بھی لینا لازمی ہوتی ہے۔ اس لیے کہ پریس کارڈ تو حاصل تو کرلیاجاتا ہے مگر قومی اخبارات سیل کون کرے گا۔ یہ ذمہ داری بھی نمائندگی لینے والے پر ڈال دی جاتی ہے کہ آپ کے ذمے اتنے اخبارات ہیں ان کو آپ نے سیل کرناہے۔ تیس چالیس ہزار میں معاملات طے پاجاتے ہیں اور نمائدہ بن جانے کے بعد وہ مذکورہ اس ضلعے یاتحصیل میں نیوز ایجنٹوں سے رابطہ کرتاہے ان کی مرضی اور منشاء شامل ہوتی ہے ، وہ مانیں یا نہ مانیں۔نمائندگان پریس کارڈ لے کر جیب میں رکھ لیتے ہیں اور مختلف سماجی اور سیاسی انتظامیہ کو باور کراتے ہیں کہ میں فلاں اخبار کا رپورٹر ہوں توانتظامیہ اور سیاستدان بھی قطرانے لگ جاتے ہیں کہ ہماری خبریں قومی اخبارات میں چڑھ نہ جائے جس سے ہماری شہرت کو نقصان پہنچتاہو۔ وہ ان کی چاپلوسیاں اور یہ ان کی چابلوسیاں کرتے ہیں ۔ عوام کے مسائل دبنے شروع ہوجاتے ہیں پھر آج کل جو فیس بک جو آزاد میڈیا ہے پر بھی زورآزمائی کی جاتی ہے،زیادہ تر جو میرے تجربے میں آیا ہے وہ پبلسٹی کو ہی ترجیح دیتے ہیں نہ کہ عوام کے مسائل اور خفیہ رپورٹیں جس میں تلہ گنگ اور چکوال کے فنڈ پر ڈاکہ ڈالا جارہاہو، کو دبادیاجاتاہے، اس لیے کہ ہم دشمنیاں کیوں ڈالیں کہ کل کوئی ایم این اے یااس کا بندہ ہمارے گلے پڑ جاتاہے۔ نمائندگان کایہ بھی گلہ رہاکہ قومی اخبارات ہمیں کاغذپنسل تک نہیں دیتے۔ یہ اپنے مفاد کے لیے اکٹھے ہوجاتے ہیں مگر عوام کے مسائل اور پاکستان کی سلامتی کے اکٹھے ہونے میں ان کو کیا حرج ہے، یہ میں نے اپنے تجربے میں دیکھا کہ تلہ گنگ سے چند شائع ہونے والے ہفت روز کے مالکان اپنے ذاتی اخبارات نکالنے کے علاوہ دوسرے قومی اخبارات سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ ایک عجیب بات ہے کہ آپ کے پاس پسٹل موجود ہے تو دوسرے سے مانگنے کی کیا ضرورت، تلہ گنگ کے چند اخبارات نے تو صحافت کو تجارت سمجھ رکھاہے، جب تک اپنے نیوز پیپر پر شائع نہیں کرتے، قومی اخبارات کو نہیں بھیجتے۔ جب کہ قومی اخبارات میں شائع ہونے سے ایوان بھی ہل جاتاہے اور حکومت کی لگی ہوئی خبر پر ایکشن بھی ہوجاتاہے۔ ایسانہیں ہورہا،میں سب کی بات تو نہیں کررہاچند اخبارات کی بات کررہاہوں۔ اگر کوئی ثبوت لینا چاہے تو میں حاضرہوں۔ تلہ گنگ میں کئی نیوز ویب سائٹیں بھی بنی ہوئی ہیں اور خبریں بھی اپلوڈ ہوتی ہیں لیکن سوال یہ پیداہوتاہے کہ اگر تلہ گنگ کی تمام صحافی برادری آج ایک ہو جائے تو ضلعے کانوٹیفیکیشن وزیراعظم بننے کے دوماہ بعد ہی جاری ہوسکتاتھا۔ ہر اخبارکی اپنی پالیسی ہوتی ہے، کوئی حکومت کے ساتھی تو کوئی آزادیا اپوزیشن کے ساتھ، اس طرح کام نہیں چلتے ڈیلی تلہ گنگ نیوز کے پاس یہ سارا ریکارڈ موجودہے اورمحفوظ ہے۔ تلہ گنگ میں پارک اجڑے ہوئے ہیں ٹی ایم اے کے گندگی کے ڈبے محلے محلے میں پڑے ہوئے ہیں آخرکار کے کیمرے کو یہ مسائل نظر کیوں نہیں آتے۔ تلہ گنگ کے چند نیوز پیپروں نے گلی گلی محلے محلے رپورٹر بناہوئے ہیں جن کو پریس کارڈ بھی جاری کیے ہوئے ہیں ۔میرے ذمہ دار ذرائع نے مجھے اطلاع دی ہے کہ جن کو الف ب بھی لکھنا نہیں آتا موبائل فون کے ذریعے ایک میسج ٹائپ کردیاجاتا ہے کہ فلاں جگہ یہ حادثہ ہوگیا۔ اس کو خبر بناکر ۔ اچھی بات ہے کچھ نہ کچھ تو ہورہاہے لیکن جیسے ہوناچاہیے تھا ویسے نہیں ہورہا۔ محسن قیوم شیخ لاوہ سے شاہد اقبال ، تلہ گنگ سے نذرحسین چوہدری کے علاوہ دوتین اور پروفیشنل صحافی ہیں۔ جن کو ڈیلی نیو ز سلام بھی پیش کرتاہے۔ میں اپنی ذات کے لیے نہیں لکھ رہاتلہ گنگ کی غیور عوام اور پاکستان کی بقاء وسلامتی کے لیے لکھ رہاہوں۔ آپکو میری بات بری لگے تو میرے خلاف صفحے کالے کردو، مجھے پاکستان کی سلامتی اور تلہ گنگ کی غیور عوام کی پرواہے ۔ سوال یہ بھی اٹھتاہے کہ ہم رات کو دو دو بجے تک تلہ گنگ کی غیور عوام کے لیے کام بھی کرتے ہیں پڑھتے بھی ہیں؛ لیکن پھر بھی ہمارے خلاف سازشوں کاسلسلہ جاری ہے، یہ بات بالکل واضع ہے، موت اور زندگی اللہ کے قبضے میں ہے، ہم اپنے مشن سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے کیونکہ ہم نے قوم و ملک سے عہد کررکھاہے، چاہتے ہمیں تلہ گنگ کی زمین پر موت ہی کیون نہ آجائے سولی پر چڑھنے کے لیے تیار ہیں لیکن نہ بکنے والے ہیں ، نہ چھکنے والے، میں آپ کو یہ بات واضع کرتاچلوں کہ مجھے چارقومی اخبارات نے آفر کی ہے لیکن مجھے والدین نے اجازت نہیں دی کہ میں قومی اخبارات میں کام کروں کیونکہ ہمارا مستقبل تعلیم سے وابستہ ہے۔ میں اورشہزادنے اپنے ارادوں سے والدین کو آگاہ کررکھاہے۔ بے شک آ پ زور لگالیں سیاستدانوں کے کان ہمارے خلاف بھرے جارہے ہیں، نعوذبااللہ من ذالک وہ کوئی خدا نہیں ۔ہم قلم سے لڑتے رہیں گے اور قلم سے لڑناآتابھی ہے، میں کسی کے اوپر کیچڑ نہیں اچھال رہا، حقیقت پررپورٹ سامنے رکھ رہاہوں۔ میں نے کہا تھا کہ میں پنوڑہ بکس کھولوں گا، اگر آپ کو یاد نہ ہو تو میری فیس بک پر یہ اعلان لگاہوا۔بات میں کررہاتھاکہ خداراہ اللہ کاواسطہ دیتاہوں کہ تلہ گنگ ضلع، تلہ گنگ یونیورسٹی اور موٹروے کے لیے ایک ہوجاؤ اور عوام کے مسائل حل کراؤ،اس سے اللہ بھی راضی ہوگا اور عوام کی دعائیں بھی ملیں گی۔میں نے یہ بھی تلہ گنگ میں دیکھا کہ ایک میڈیا گروپ حکومت کاحمایتی اور ایک اپوزیشن کا، اللہ کی بندوں عوام کی خاطر ایک ہوناپڑے گا جس سے جاگیرداری نظام اور سرداری نظام اور وڈیرہ شاہی کو ہم اس حلقے سے صرف تین ماہ میں ختم کرسکتے ہیں۔ میری سابقہ تحریریں آپ میری ویب سائٹ پردیکھ سکتے ہیں۔ میں نے پہلے بھی کہا تھاکہ وسیم خان کا طریقہ غلط ہے آج محسن قیوم کی بات سامنے آہی گئی۔ اسسٹنٹ کمشنر تلہ گنگ نے کون ساتیر ماراہے آج بھی درجنوں درخواستیں ہائی کورٹ میں زیرسماعت ہیں۔ تحصیل دار خالدمحمود ستی وسیم خان سے پہلے کہاں تھا۔ ٹی ایم اے کے گندگی کے ڈبوں کا ریکارڈ ڈیلی نیوزکے پاس موجود ہے۔ اگر کوئی دیکھنا چاہے تو دیکھ سکتاہے۔ ٹی ایم اے کو یہ خیال پہلے کیوں نہیں آیا۔اندرون شہر آج تلہ گنگ کی90% سڑکیں برباد، بجلی کی تاریں کھمبوں سے لٹک رہیں جس سے میٹرریڈنگ میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ سیوریج کا نظام درست نہ ہونے کی وجہ سے گٹروں سے پانی ابل رہاہے، بائی پاس پر کوئی ٹریفک سنگل نہیں ، کوئی پولیس چوکی نہیں کہ ایمرجینسی کی صورت میں حالات سے نمٹاجاسکے۔کوئی ٹریفک اشارہ ٹھیک نہیں جو صحیح کام کررہاہو۔سیکورٹی کے انتظامات بھی بہتر نہیں ہیں ہسپتالوں میں مریض رل رہے ہیں۔ اور عوام بیچارے پرائیویٹ ہسپتالوں کارخ کررہے ہیں جس سے مہنگے داموں علاج کرانے پر مجبورہیں۔ یہ مسائل کون حل کرے گاکوئی آسمان سے نہیں اترے گا۔ یہ مسائل آپ نے ہی حل کرنے اور کروانے ہیں ۔ میں آج آپ کو یہ بات واضع کردوں کہ ڈیلی نیوز تلہ گنگ کے ساتھ خواتین بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں ، جن میں ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین شامل ہیں۔ ایک اچھے کرائم رپورٹر کو چاہیے کہ وہ ایف آئی آر نہ اٹھائے ، بلکہ عدالتی فیصلے کو پبلش کرے، اس طرح میں بلیک میلنگ میں آنے والا نہیں ہوں۔ اس کرائم رپورٹر نے ایڑھی چوٹی کازور لگایا مگر میری کمزور ی نہ ڈھونڈ سکا۔آپ نے آواز کودبایا ٹھیک کیا کیوں کہ میں صحافی نہیں ہو۔ اگر میں صحافی ہوتا تو آپ میرے ساتھ کھڑے ہوتے لیکن میرے پاس بھی جو دلائل تھے ثبوت تھے،میرے بھائی شہزاد نے پبلش کیے آج وہ چہر ہ سکرین سے غائب ہے کیونکہ اس نے قانون کی والیشن کی ہے اور قانون کی دھجیان اڑائی ہیں،چور چوری کرکے چھپ جاتاہے، آپ کو کڑوالگے لیکن میں سچ لکھتاہی رہوں گا۔ جتنی طاقت ہے آپ کے قلم میں میرے خلاف لکھو، میں نے کوئی الیکشن نہیں لڑنا، اللہ کو منظور جوہوا۔ قسمت کے فیصلے زمین پر نہیں آسمانو ں پر ہوتے ہیں۔ڈیلی نیوزتلہ گنگ کی آواز دبانے کے لیے رحمت سویٹ بیکر کے کام کس نے بھرے تھے۔ مجھے تو کروڑوں روپے کے نوٹس بھی موصول ہوئے ، میں نے کہا مجھے جیل منظورہے، وہ نوٹس غیرقانونی اور غیر آئینی، میرے پوسٹل ایڈریس پر مجھے نہیں ملے۔میرے دوستوں آؤ مل کر عہد کرلو کہ ہم نے تلہ گنگ کو ایک خوبصورت شہر بنانا ہے۔ اس کے تمام سسٹموں کو درست کرناہے۔ یہ سیاستدان آ پ کو کچھ نہیں دیں گے۔ اگر آپ نے یہ رویہ رکھا تو آنے والی نسلوں کے لیے بچھائے ہوئے کانٹے چننا مشکل ہوجائیں گے۔ آپ کے ہیرونہیں بلکہ زیرو ہونے کاخطر ہ ہے، آپ بھر محسن قیوم نہیں بن سکیں گے۔ ان کے والد مرحوم آج بھی تلہ گنگ ،لاوہ اورچکوال کے عوام کے دلوں میں زندہ ہیں۔ آپ صحافت کیساتھ اپنا کاروبار بھی چلارہے ہیں۔ پروفیشنل صحافی جو ہوتا اس کی ہر خبر پرنظرہوتی ہے۔ تلہ گنگ میراشہرہے ، تلہ گنگ کے لیے میر ی جان بھی قربان۔لیکن سب سے بڑا ہتھیار اخلاق اور قلم ہے۔ قلم کے ذریعے مسائل اجاگر کرتارہوں گاآج میں اعلان کرتاہوں کہ تلہ گنگ میں بھی ڈیلی نیوز تلہ گنگ کادفتر کھلے گااور عوام کے مسائل ایوانوں تک پہنچائے جائیں گے۔ آگے حکومت کی مرضی۔ آپ مانیںیانہ مانیں عوام آپ پر ہنس رہی ہے۔عمرکم سہی دل تو بڑوں والاہے۔ بہت لوگوں کی سنتاہوں ایک کان سے سنتاہوں دوسرے سے نکالی دی۔مجھے یہ بھی اطلاعات موضول ہوئی ہیں کہ ڈیلی نیوز کے خلاف احتجاج کا سوچاجارہاہے ایک نہیں ہزاراحتجاج میرے خلاف کرلو،میں نے کو ئی الیکشن تو لڑنانہیں۔ میں نے کوئی الیکشن نہیں لڑناکہ میرا بینک ووٹ کم ہوجائے گا۔میں جس شعبے میں بھی گیا تحریکیں رواں دوان رہیں گی۔میں جہاں بھی گیا یہ تحریکیں رواں دواں ہی رہیں گی۔ میرے نالج میں کچھ ساتھیوں نے بات دی ہے کہ ایک مخصوص ٹولہ تیار کیاگیاہے کہ ڈیلی نیو زکی خبروں کو جو بھی لائیک کرے گا ، اس کو فیس بک پر دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ اس کی تصدیق مجھے قارئین نے کردی ہے، ایسی باتوں سے عوام کے دل نہیں جیتے جاتے۔ ڈیلی نیوز تلہ گنگ کے عوام کی دھڑکن بن چکی ہے۔ اگر میرے کسی بھی ساتھی کو ڈیلی نیوز چاہیے تو میں دینے کوتیارہوں۔ لیکن ایگریمنٹ کے ذریعے دوں گا کہ صرف عوام وملک کی خاطر لکھوں گا۔ لیکن میری گزارش یہ ہے کہ تلہ گنگ لاوہ کے مفاد کے لیے ایک ہوجائیں میں اپنی ویب سائٹ بند کردیتاہوں۔ لیکن شرط یہ ہے کہ ایک ہونالازمی ہے۔ عزیز میرے دوستوآج آپ نے قلم کا صحیح استعمال نہیں کیاتو اللہ بھی ناخوش ہوگا قیامت کے دن بھی رسوائی ہوگی اورمسائل بڑھتے جائیں گے بجائے کی کمی کے۔ آپ نے ایک اور غلطی کی ہے ، غلطیوں کی نشاندی کرنامیراکام ہے، جب اے سی آیا تو اس سے مسائل حل کروانے تھے ۔ جو بھی حکومت آتی ہے چاہے ن لیگ ہو، یاپی پی پی کی۔ حکومت کا کام ہے میدیا کو لڑانا۔ تاکہ ہم ملک کو لوٹتے رہیں اور پاکستانی پیسہ باہر منتقل کرتے جائیں اور اس طرح امیر امیر تر ہوجائے گا اور غریب کی دووقت کی روٹی کا بھی خدشہ منڈلارہاے۔ مجھے آج وہ وقت بھی یاد آگیاہے کہ جب کچھ صحافیوں نے مجھے تلہ گنگ میں کام کرنے پرمجبور کیاآج وہ مجھے چھوڑ گئے ہیں لیکن میں نے گلہ نہیں کیا۔ہر آدمی مرضی کامالک ہوتاہے۔ جو میر ے خلاف ایک صاحب نے سازش تیار کی میں ان کے لے بھی دعاکرتاہوں کہ اللہ ان کو ہدایت دے۔ اگر میں چاہتاتو چار قومی اخبارات میں چلاجاتا۔لیکن والدین نے اجازت نہ دی اور والدین سے اجازت لینا بھی ضرور ہوتی ہے۔انہی الفاظ سے میں اجازت مانگتاہوں۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔
اگر میری کوئی بات برے لگے تو میں اس کے لیے معذرت چاہتاہوں۔ نوٹ: میری آی ڈی تلہ گنگ کی آواز کو بلاک بھی کروایا گیا ایک نہیں دس اور بھی کروادو یہ تحریک رکنے والی نہیں، میں اپن اقانونی حق محفوظ رکھتاہوں جس نے میرے خلاف پریس فورم میں کبر چلائی ان کو سوچناچاہیے تھا کہ ہم ایک کم عمر بچے کیسا تھ لڑ رہیں ہیں۔ خود کام کرتے ہیں اور دوسروں کو کرنے نیہں دیتے۔ آخر کار میرے بھائی شہزاد نے اس کے کرتوت بھی ڈھونڈ نکالے اس کے بھائی کی ایک لمبی کہانی ہے وہ کبھی پھر سہی۔

تبصرے

شیئر کریں

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں