”ایک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا” تحریر افضل اعوان

1
854

Muhammad Fazal AwanACوسیم احمد کا تبادلہ راقم کے لیے اس لیے حیران کن نہ تھا کہ جب وسیم احمد نے تلہ گنگ کا چارج سنبھالا تو انہوں نے کرسی پر بیٹھنے سے پہلے تلہ گنگ میں تجاوزات کو ختم کرنے کا حکم دیا تاجروں میں تشویش اس وقت پیدا ہوئی جب انہوں نے تحصیلدار خالد مسعود ستی کی نگرانی میںیکطرفہ تجاوز کی نشاندہی کی اور محکمہ جنگلات سے لے کر الکرم پلازہ تک تمام دکانیں مارکیٹیں پلازے تجاوز قرار دیے لیکن کسی کو چیلنج کرنے کی جرات پیدا نہ ہوئی ۔تاجروں نے کچھ ہمت کر کے ایم پی اے سردار ذوالفقار دلہہ کو حالات و واقعات سے آگاہ کیا ۔پھر پانچ رکنی کمیٹی بنی جس میں راقم بھی شامل تھا ۔ایم پی اے کی سر براہی میں پانچ رکنی کمیٹی نے DCOچکوال محمود جاوید بھٹی سے ملاقات کی اور اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ۔سڑک کی پیمائش میں گیارہ فٹ ریلیف بھی دیا گیا لیکن پھر کسی سازش کے تحت یہ ریلیف ختم کر دیا گیااس اجلاس میں راقم نےDCOچکوال کی اس میٹنگ میں ایم پی اے سردار ذوالفقار دلہہ ،سابق اے سی وسیم احمد اور دیگر پانچ رکنی کمیٹی کی موجودگی میں اپنے خدشات کا اظہار کیاتھا کہ بظاہر ایسے نظر آتا ہے اسسٹنٹ کمشنر وسیم احمد خصوصی ٹارگٹ پر آئے ہیں اور وہ اپنا مشن مکمل ہوتے ہی یہاں سے چلے جائیں گے ۔لیکن ہم انہیں ایسا نہیں کرنے دیں گے جو وعدے انہوں نے کر رکھے ہیں وہ ان سے پورے کروائیں گے ( جو پورے کرنے مشکل تھے ) لہذا آپ نے دیکھا کہ مشن مکمل ہوتے ہی ان کا تبادلہ کروا دیاگیا اور منگوانے والوں نے پھر اس کا تبادلہ روکنے کی کوشش بھی نہیں کی اورنہ ہی سڑک پر کوئی احتجاج ہوا۔یہ اے سی کو منگوانے والوں کی عوام سے دوسری دشمنی ثابت ہوئی ۔ تلہ گنگ کے لوگوں کی پرانی عادت ہے کہ وہ خود کچھ کرنے کے بجائے دوسروں کی طرف دیکھتے رہتے ہیں جس طرح تجاوزات آپریشن میں ہوا کہ چوہدری غلام ربانی ، قاضی عبدالقار اور افضل اعوان کا مسئلہ ہے ۔چلوم ہم بچ جائیں گے ۔اے سی وسیم احمد یہاں کے لوگوں کی نفسیات سمجھ چکا ہے ۔وسیم احم نے نہایت حکمت عملی سے آتے ہی ایسے کام کیے جن میں عارضی تجاوزات اور غیر قانونی اڈوں کا خاتمہ بڑوں کی بیکری ہوٹل اور ہسپتالوں کو سیل کر نے کے اقداما ت کیے جس سے دکانداروں میں خوف وہراس پھیل گیا ۔دوسری طرف وسیم احمد کو عوام کی ہمدریاں حاصل ہونے لگیں او ر لوگ اسے مسیحا سمجھنے لگے وکلاء برادری نے بھی انہیں بار میں بلا کر حوصلہ افزائی کی اس موقع پر میڈیا بھی باہمی چپقلش اور انا ء کی وجہ سے تقسیم ہو چکا تھا ۔جوں جوں وسیم احمد آگے آگے بڑھتا گیا متاثرین کی تعداد میں بھی اضافہ ہو تا گیا اور نعرے لگانے والوں کی تعداد میں کمی ہونے لگی ۔اس لیے کہ کسی دوسرے کے گھر کو آگ لگی ہو تو ہمیں کوئی فکر نہیں ہوتی ۔پتہ اس وقت چلتا ہے جب آگ اپنے گھر کو لگی ہو اور یہ بات درست ہے کہ سڑک پر جن لوگوں کی جائیداد نہیں تھی۔وہ اے سی کوسپورٹ کر نے میں پیش پیش تھے کوئی کہتا یہ جنرل شریف اور نواز شریف کا آدمی ہے ۔کوء تجاوزات کو نیشنل ایکشن پلان سے منسوب کر راہ تھا خود ساختہ تجاوزات کی نشاندہی کے بعد تو اکثر یہی کہتے کے تجاوز کا کوئی Stay نہیں ہو تا لیکن پھر آپ نے دیکھا جب تلہ گنگ میں خود ساختہ کامیاب آپریشن ہو چکا تو چکوال میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کی خبریں آنے لگیں لیکن آپ نے دیکھا وہاں کے لوگ تلہ گنگ کی طرح منتشر نہیں ہیں اپنے مفاد کی خاطر ایک ہو جاتے ہیں ان کی تجارتی تنظمیں بھی مضبوط ہیں وہاں کے سیاسی نمائندے بھی اپنی عوام کی بھرپور سپورٹ کر تے ہیں چکوا ل کی باشعور عوام نے ادھر ادھر دیکھنے کے بجائے فوری طورپر عدالتوں میں پہنچ گئے اور پختہ تجاوز کو گرانے کے خلاف حکم امتناعی حاصل کر لیا ایک متاثرہ شخص کا Stayکنفرم بھی ہو چکا ہے دیگر متاثرین کے کیس عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور سب لوگ مطمئن ہیں کہ اب کچھ نہیں ہوگا یہ بھی معلوم ہو اہے چوہدری لیاقت کے بیٹے چوہدری حیدر سلطان نے متاثرین کے ہمراہ ڈی سی او چکوال جاوید محمود بھٹی سے ملاقات کی ۔دکانداروں اور ریڑھی فروشوں کے تحفظات اور نقصان سے انہیں آگاہ کیا ۔آخری موصولہ اطلاعات کے مطابق وہاں دوبارہ شیڈ لگ گئے ہیں اور ریڑھی چھابہ فروشوں کو بھی اپنی جگہ پر بٹھا دیا گیا ہے لیکن غوروفکر کی یہ بات ہے کہ ایک ضلع میں دو قانون کیوں ؟دوسرا سوال ذہن میں یہ آتا ہے ۔کیا وسیم احمد کو خصوصی مشن کے تحت فیصل آباد سے منگوایا گیا اور یہ بات درست بھی ہے کہ انہوں نے تلہ گنگ میں قدم رکھتے ہی ٹی ایم او تلہ گنگ سید امیر احمد شاہ کو پہلا حکم نامہ جاری کیا وہ تجاوزات کے سلسلے میں تھا اور پھر ہر روز یہ معاملہ آگے بڑھتا گیا ۔اے سی وسیم احمد نے محکمہ مال اور TMA عملہ کو بھی اس کام پر مامور کر دیا اور آئے روز سڑک کی پیمائش ہونے لگی ک۔تلہ گنگ میں تجاوزات آپریشن پر کئی سوالات ذہن میں آتے ہیں راقم بہت کچھ لکھ بھی چکا ہے پہلا سوال یہ ہے کہ محکمہ مال کو کیا ضرورت پیش آئی کہ اس نے پراونشل ہائی وے کو شامل کیے بغیر خود نشاندہی شروع کر دی ۔ادھر حکومت پنجاب کا محکمہ ہائی وے کہہ رہا ہے ہمارے کاغذات کے مطابق تلہ گنگ میں کوئی تجاوز نہ ہے ۔اس سے پہلے جب بھی تجاوزات کی نشاندہی ہوئی تو ہائی وے حرکت میں آتا ۔محکمہ مال کا عملہ ان کی مدد کرتا لیکن اس دفعہ تمام اختیارات محکمہ مال استعمال کر رہا تھا اور اے سی وسیم احمد ہر صورت میں اپنا مشن مکمل کرنے کے لیے بے چین تھے ۔اس آپریشن کا سب سے بڑا ٹارگٹ چوہدری غلام ربانی کا پلازہ تھا ۔ فوڈ گودام کیبن اور منصور ٹمن مارکیٹ بھی نشانے پر تھے ۔اس آپریشن سے پہلے وسیم احمد کی چوہدری غلام ربانی اور قاضی عبدالقادر سے ہسپتال کو سیل کرنے کے معاملے پر تلخ کلامی بھی ہو چکی تھی ۔چوہدری غلام ربانی کے خلاف اے سی کی ایماء پر FIR کے اندراج سے صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی اس ساری صورتحال پر مقامی سیاسی قائدین اور دیگر لوگ خاموش رہے کہ یہ چوہدری غلام ربانی کا اپنا مسئلہ ہے ۔وسیم احمد نے اس ساری صورتحال کا خوب فائدہ اٹھایا اور وہ کام کر دکھایا جس کی پنجاب بھر میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔تجاوزات گرانے کے بعد لوگوں کو ACوسیم احمد سے کافی امیدیں وابستہ تھیں ۔تلہ گنگ شہر کو خوبصورت بنانے کے لیے ان کی طرف سے پیش کیے گئے متعدد منصوبے ماسٹر پلان کے نام سے لوکل اخبارات کی زینت بن چکے ہیں ۔وسیم احمد اس تیزی سے کام کر رہے تھے جیسے ان کا پیریڈ تھوڑا رہ گیا ہے اور کام زیادہ ہیں ۔ان کے بیانات آن ریکارڈ ہیں کہ 20فروری تک نالوں کی تعمیر، فٹ پاتھ وغیر ہ کا کام مکمل کر لیں گے اور مارچ کے مہینے میں وہ تلہ گنگ والوں کو ایک خوبصور ت شہر تحفے میں دیں گے ۔کہ پھر اچانک آندھی کا رخ تبدیل ہوا ۔ڈی سی او چکوال اور اے سی کے مابین اختلاف کی خبریں آنی شروع ہو گئیں ۔جس کی ابتدا تلہ گنگ کی ایک سیاسی شخصیت کی مداخلت سے ہوئی اور جس کا نشانہ ٹی ایم اے کے اکاؤنٹ شیخ تنویر بنے ۔DCOچکوال نے شیخ تنویر کا تبادلہ پہلے چکوال اور پھر لاہور کر دیا ۔اسے سی وسیم احمد شیخ تنویر کے لیے ڈھال بن گئے اور اپنے باس کے سامنے ڈٹ گئے ۔وجہ اختلاف یہ بنی کہ شیخ تنویر نے معاون خصوصی ملک سلیم اقبال کے ڈیرے پر مامور ٹی ایم اے کے ملازمین کو واپس بلا لیا تھا اور ان کے رشتے داروں کی پراپرٹی بھی زد میں آچکی تھی ۔۔گیارہ مارچ 2016ء ؁ کو یہ خبر تحصیل تلہ گنگ میں جنگل میںآگ کی طرح پھیل گئی کہ وسیم احمد کا تبادلہ ہو گیا ہے کچھ لوگ ACکے سپورٹر تھے کہ یہ تبادلہ رک جائے گا لیکن راقم نے یہ پیشگی خبر دیدی کہ ڈی سی او اور اے سی کے مابین تعلقات بدستور کشیدہ ہیں ۔ڈی سی او راے سی میں سے اب ایک کو جانا ہو گا اور اس ہفتے اہم خبر آسکتی ہے یہ خبر بھی درست ثابت ہوئی پھر اگلے شمارے کی یہ خبر بھی درست ہوئی کہ اے سی کے تبادلے کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں ۔وسیم احمد کا مشن مکمل ہو گیا ہے واپس نہیں آئیں گے خبر بھی درست ثابت ہوئی ۔راقم کو معلوم تھا کہ جن لوگوں نے وسیم احمد کو ٹارگٹ دے کر منگوایا تھا وہ ٹارگٹ ان کی سوچ سے بھی بڑھ کر ہو گیا اب انہیں وسیم احمد کو ٹھہرانے کی کیا ضرورت تھی کہ اس کا تبادلہ رکواتے ۔وہ کروڑوں کے فنڈز وسیم کو کہاں سے لاکر دیتے ۔اس لیے وسیم احمد کو منگوانے والوں نے اس کا تبادلہ رکوانے کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی ۔لوگ اب بر ملا کہہ رہے ہیں کہ وسیم احمد کو منگو اکر بھی شہریوں کے ساتھ دشمنی کی گئی اور اب جب وسیم احمد سے کام لینے کا وقت آیا جس کے لیے لوگوں نے ان سے کافی توقعات وابستہ کر رکھی تھیں اب انکا تبادلہ کروا کر بھی عوام کے ساتھ دشمنی کی گئی ہے ۔شہریوں کا جو نقصان ہونا تھا ہو گیا اب اس شہر کی تعمیرو ترقی کی ضرورت تھی یہاں کی گلیاں سڑکیں کھنڈرات بن چکی ہیں اے سی وسیم احمد کی تلہ گنگ میں غیر معمولی دلچسپی کو دیکھ کر لوگ اپنے نمائندوں کو بھول گئے ۔اگر وہ سارے کام کرالیتے اور تلہ گنگ کا ایک نیا نقشہ سامنے لے آتے ۔تو اس کا کریڈٹ بھی وسیم احمدکو جاتا جوکہ سیاسی نمائندوں کے لیے تکلیف دہ عمل تھا لہذا انہوں نے بہتر سمجھا کہ اب وسیم احمد کو یہاں نہیں رہنا چاہیئے کیونکہ اس کی ڈیمانڈ پوری کرنا ناممکن تھا جیسے کہ قارئین کے علم میں ہے کہ وسیم احمد کو حسن ابدال کا اسسٹنٹ کمشنر لگا یا گیا ہے وہ وہاں کیا تبدیلیاں لاتے ہیں ۔آنے والے دنوں میں پتہ لگے گا ۔وسیم احمد کی جگہ واصف رحمان کا تبادلہ شاہ پور ضلع سرگودھا سے عمل میں آیا ہے یہ بھی پٹھان ہیں اور سابق ACتنویر الرحمن کے بیج سے ان کا تعلق ہے ۔وہ وسیم احمد کو Followکرتے ہیں یا پھر روٹین میں ٹائم پاس کریں گے اس کا اندازہ چند دنوں میں ہو جائے گا ۔راقم کا توخیال ہے کہ وسیم احمد نے خود بھی تلہ گنگ سے جان چھڑائی ہوگی کہ ”پلے نئیں دھیلا کردی میلا”کے مصدرق اب وسیم احمد کے پاس سوائے کیاریاں او ر باب تلہ گنگ بنانے کے سوا کچھ پاس نہیں تھا ۔انہوں نے ٹی ایم اے افسران کا چائے پانی بھی بند کرایا تھا ۔پیٹرول ڈیزل پر بھی چیک اینڈ بیلنس تھا ۔راقم نے چند دن پہلے TMOسید امیر احمد شاہ کی توجہ جب مین بازار میں سٹریٹ لائٹ نہ ہونے کی طرف دلائی تو انہوں نے صاف جواب دے دیا کہ اے سی وسیم احمد نے ہر قسم کی خریدو فروخت پر پابندی لگا دی تھی ۔ہم وسیم احمد کے تمام اقدامات کو غلط بھی نہیں کہتے ایسے اقدامات اس سے پہلے کسی کو کرنے کی جرات نہیں ہوئی ۔اختلافات پختہ تجاوزات کی نشاندہی اور گرانے پر ہوئے کہ کسی کو نوٹس نہیں دیا گیا اور نہ کسی کو اپنے دفاع کرنے کا موقع دیا گیا ۔وہ جب بھی بات کرتے اپنا فیصلہ ٹھونسنے کی بات کرتے ۔سوچنے کی بات ہے انتظامیہ کو 70سال بعد تجاوزات نظر آگئے ۔ذمہ داران نے پہلے کیوں آنکھیں بند کر رکھی تھیں ۔محکمہ مال ،ٹی ایم اے اور پولیس میں ہونے والی کرپشن انہیں نظر کیوں نہ آئی اہلکاروں کی اصلاح کی طرف کیوں توجہ نہیں دی گئی ۔شہری گزشتہ تین ماہ سے واٹر سپلائی کے پانی کو ترس رہے ہیں ۔بازاروں اور محلوں میں سٹریٹ لائٹ نہ ہونے سے چور ڈاکوؤں کا راج ہے ۔مین روڈ کی سڑیٹ لائٹ گزشتہ 7/8سالوں سے خراب ہے ۔ٹریفک سگنل بند پڑے ہیں ۔شہر کی سڑکیں گلیاں کھنڈرات بن چکی ہیں ۔2008کے بعد یہاں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا ۔تین سال پہلے تلہ گنگ کو ضلع بنانے کا جو اعلان نواز شریف نے کیا تھا وہ اب بھول چکے ہیں۔یاددہانی پر عمل کرنے کے بجائے کہ رہے ہیں ۔لکھ کر دیں ۔عوام کے دلوں میں حکمرانوں کے خلاف نفرت کا لاوہ پک رہا ہے ۔جس کی ایک جھلک بلدیاتی الیکشن میں سامنے آچکی ہے۔ تلہ گنگ اورلاوہ میں مسلم لیگ (ق)نے مسلم لیگ (ن)کو ڈھیر کر دیا ہے اور اس میں سازش کا عنصر بھی شامل ہے اب عوام کی نظریں آئندہ الیکشن 2018ء پر لگی ہوئی ہیں ۔حالات واقعات ایسے نظر آرہے ہیں کہ آئندہ جنرل الیکشن میں مسلم لیگ ( ن) کو عوام کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا ۔مسائل اتنے گھمبیر ہو چکے ہیں کہ ان دو سالوں میں ان مسائل پر قابو پانا حکومت کے بس کی بات نہیں ۔اس لیے کہ یہاں آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے ۔راقم نے گزشتہ دنوں یہ جائزہ لینے کے لیے کہ چکوال اور تلہ گنگ میں تجاوزات آپریشن میں کیا تضاد پایا جاتا ہے ۔چکوال شہر کا تفصیلی دورہ کیا اور وڈیو فلم بھی بنا کر اپنی آئی ڈی ( afzalawan journalist)پر اپ لوڈ کردی ہے ۔راقم کو چکوال شہر میں تجاوزات کے حوالے سے کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی ۔ہسپتال روڈ ۔چھپڑ بازار میں اسی طرح ریڑھیوں اور چھابہ فروشوں کا رش تھا ۔جس طرح پہلے ہوتاتھا ۔ریسکیو15سے جانب تحصیل چوک راولپنڈی روڈ ۔جہلم روڈ ،بھون چوک پر دکانداروں کاسامان باہر فٹ پاتھوں پر موجود تھا ۔ سڑکوں پر ریڑھیوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی تھیں ۔گاڑیوں کی غیر قانونی پارکنگ کو کوئی پوچھنے والا نہیں تھا ۔عبدالمجید ملک اور چوہدری لیاقت کے پرائیویٹ اڈے شہر میں چل رہے ہیں ۔میرا انتظامیہ اور سیاستدانوں سے ایک سوال ہے کہ کیا تجاوزات کے خلاف آپریشن میں صرف تلہ گنگ اور مخصوص ایریا ٹارگٹ تھا ۔فیز 2اور فیز 3پر آپریشن کیوں روک دیا گیا ۔چکوال کی تجاوزات پر ضلعی انتظامیہ نے کیوں آنکھیں بند کر رکھی ہیں ۔قانون پر عملدرآمد کرانا ہے تو سب کے ساتھ برابری کاسلوک کرو۔اگر ہمار ی نیتیں ٹھیک ہوں تو سب کچھ ٹھیک ہو سکتا ہے تلہ گنگ اور چکوال کا فرق یہ ہے کہ چکوال کے لوگ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے متحد ہوجاتے ہیں ۔ان کی تنظیمیں اپنے عوام کا تحفظ کرنے کے لیے متحرک ہو جاتی ہیں ۔ان کے سیاستدا ن اپنی عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں ۔جس کا ثبوت آپ کے سامنے ہے ۔اس کے برعکس تلہ گنگ میں انا، ضد، حسد او رمنافقت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے اور عوام کو اسی چیز کی سزا ملی ہے ورنہ چکوال کی عدالتیں او روکیل عوام کو STAYلے کر دے سکتے ہیں ۔یہاں ایسا کیوں نہیں ہوا؟راقم پھر اپنی بات دہراؤں گا کہ تجاوزات ،کرپشن اور لاقانونیت کسی دور میں بھی نہیں ہونی چاہیئے وسیم احمد آئے یا کوئی اور ایڈمنسٹریٹر۔جو چیز عوام کی فلاح و بہبو د میں ہو اس کو عوام کے مشورے سے ضرور کریں فرد واحد اپنا کوئی بھی فیصلہ نہ ٹھونسے ۔افسران آتے جاتے رہتے ہیں ۔ہم نے یہیں ٹھہرنا ہے اور جو کام کریں اس کا بھی قانونی طریقہ ہونا چاہیئے ۔کوئی افسر اپنے اختیار سے تجاوز بھی نہ کرے ۔”باب تلہ گنگ ”کی مثال لے لیں یہ خوبصورتی کے لیے لگا یا جارہا ہے تھا ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں لیکن ہوا یہ کہ محکمہ ہائی وے سے اس کی اجازت نہیں لی گئی اس کا فنڈ کہاں سے لیا گیا اس کی منظوری کس نے دی یہ کوئی چیز ریکارڈ پر نہ ہے اگر وسیم احمد کی جگہ کوئی اور سڑک پر اس طرح کا تجاوز کرتا تو اس کے خلاف پرچہ درج ہو چکا ہوتا۔یہاں یہ معاملہ ”باب تلہ گنگ”کو گرانے پر ہی ٹھپ ہو گیا ۔اس کا میٹریل کون لے گیا ۔رقم کدھر سے آئی کسی کو علم نہیں ۔ACوسیم احمد کی جگہ واصف رحمان تلہ گنگ پہنچ چکے ہیں تلہ گنگ کے مسائل ان کے لیے چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہ توقع رکھتے ہیں کہ وسیم احمد کے جو منصوبے ادھورے رہ گئے ہیں ان کو عملی جامہ پہنائیں گے ۔فیز2اور فیز 3پر کام ہو گا یا پھر آگے کچھ نہیں ہوگا ۔ کیا اے سی ہاؤس اور ریسٹ ہاؤس کا بھی تجاوز ہو گا ؟یہ باتیں چند دنوں میں سامنے آجائیں گی گزشتہ دنوں ڈی سی او چکوال محمود جاوید بھٹی نے ایم پی اے سردار ذوالفقار دلہہ کے ہمراہ ٹی ایم اے جناح ہال میں کھلی کچہری لگائی ۔عوام نے TMAکے خلاف شکایات کے انبار لگا دیے میری انتظامیہ سے گزارش ہو گی کہ ماہانہ جو اجلاس ہوتے ہیں یہ دفتری اوقات کے بعد ہونے چاہیءں ۔سائلان کے بہت سارے کام اس لیے رہ جاتے ہیں کہ جب بھی وہ دراز مقامات سے دفتر آتے ہیں تو ان کی ملاقات کسی ذمہ دار افسر کے بجائے نائب قاصد یا چوکیدار سے ہوتی ہے کہ صاحب میٹنگ پر گئے ہیں ۔ابھی سائل کو کیا علم کہ میٹنگ پر گئے ہیں یا گھر بیٹھ کر اپنے معاملات نمٹا رہے ہیں ۔تلہ گنگ کے نئے اسسٹنٹ کمشنر واصف رحمان سے شہری یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ شہر کی تعمیرو ترقی پر توجہ دیں شہر کا ماسٹر پلان تیا ر کیا جائے نیا لاری اڈہ سے لے کر صدیق آباد چوک تک کارپٹ روڈ بنائی جائے ۔او ر اس وقت محکمہ جنگلات سے لے کر وٹرنری ہسپتال تک کارپٹ سڑک کے دونوں جانب نکاسی آب اور فٹ پاتھ تعمیر کیے جائیں بجلی کے کھمبوں کو انڈر گراؤنڈ یا پیچھے ہٹا یا جائے ۔پی ٹی سی ایل کے کنکشن بحال کیے جائیں ۔شہر کے گلی کوچوں او ربازاروں میں صفائی اور سٹریٹ لائٹ کے انتظام کو بہتر کیا جائے سرکاری اڈے کو آباد کیا جائے ۔ جو کہ غیر آباد ہو رہا ہے ۔راولپنڈی روڈ پر ہائی ایس کوسٹی سٹاپ دیا جائے ۔کراچی کوچز اور لوکل بڑی بسوں کا سٹی سٹاپ مدنی چوک کے قریب بنا یا جائے جوبھی اقدام اٹھایا جائے شہریوں او ر تاجروں کی مشاورت سے اٹھایا جائے ۔اللہ تعالی آپ کا حامی و ناصر ہو ۔آمین

تبصرے

شیئر کریں

1 تبصرہ

  1. sab say phelay tu aap kay kalum ki tareef karon ga,kay koi shafi tu hai jo bhut acha aur saaf saaf bolta aur liktha hai(Very Well Done)and Good luck for the Future, I just want aid something, I hope you also noticed for last couple years people they start hating two parties (PML-N)) and (PPP)Why ,because they never hand over the power to Grass root level and they always rule with Berue Crates &politicians mostly Province assembly and National Assembly members, For our city I never see any Politician who have capbilaty to develpe our city they can develpe there selfe but the ability to develpe city OR people life like accomodating facilaties like Pure Water. Health,cleaneness, I know very well TMO Amir Ahmed Shah, And The Ex TMO Nayr very well (He is my Relative)but poor permonce same like Meeran shah, I know there capbilty as well. Till Time Federal Government Hand Over The power To Grass Root Level nothing Will Hapen, WHY because Assembly Mebers you cannot get Answers of your Questions, but from Chairman & Consler You can get, Why Because there living with you and you can approch to them Directly.but this TMO and AC , DC they will never work for you(public) I Just pray For my city (But these people no gets, no vision including Assembly members) I always Remember Late Tarique Iqbal (Timmy) After Air Marshal NOOR Khan I see Only Tarique Iqbal (Timmy)who think about People Of Talagang. I hope you people will Bear my Word, We sitting out of countery but our hearts are beating with our countery and our City .My Allah will Help Us and Will Show the right way to Politicians and Buerue Crates to Serve countery. Allah Hafiz

جواب چھوڑ دیں