حلقہ این اے 61چکوال 2ڈیلی تلہ گنگ نیوز کی نظر سے. تحریر :ارسلان احمد ملک

0
363

daily talagang news

ضلع چکوال کا حلقہ این اے 61چکوال دو تلہ گنگ لاوہ اور دیگر یونین کونسلوں پر مشتمل ہے یہ حلقہ ایک قومی اور دو صوبائی اسمبلوں پر مشتمل ہے یہ حلقہ مسلم لیگ کا گڑھ بھی سمجھا جاتا ہے مگر تازہ ترین صورتحال کے مطابق مسلم لیگ ن کا بینک ووٹ کافی حد تک گر چکا ہے اس کی کئی وجوہات ہیں مقامی ایم این اے اور سیاستدانوں کی آپس میں ذاتی چپقلش اور’’ ضلع تلہ گنگ ‘‘میں دلچسپی کی بھی ایک بہت بڑی وجہ سامنے آئی ہے اور عوام نے اس نزاکت کو دیکھتے ہوئے بلدیاتی الیکشن میں اپنے ووٹ کی پرچی سے انتقام تو لے لیا مسلم لیگ ن کا ووٹ اس حد تک گر گیا ہے کہ تلہ گنگ مین بھی مسلم لیگ ق کا چئیر مین منتخب ہونے جارہا ہے اور لاوہ بھی اسی طرح کی صورتحال ہے تین سال گزر جانے کے باوجود بھی تلہ گنگ میں موجودہ حکومت کے ارکان اسمبلی نے تلہ گنگ یا لاوہ کوئی بڑا منصوبہ کا افتتاح تک نہ کروا سکے چھوٹی موٹی جو گرانٹ ملی ہیں ان میں بھی کرپشن ناقص مٹریل کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور من پسند ڈھیکے داروں کونوازہ گیا جس سے مسلم لیگ ن کا ووٹ دن بدن گرتا ہوا نظر آیا پی ٹی آئی اور ق لیگ کا بینک ووٹ بڑھتا جا رہاہے رائی کئی کسر سابق اسسٹنٹ کمشنر وسیم خان نے نکال دی خوب لوٹ مار بھی کئی لوگوں میں خوف وہراساں بھی پیدا کیا اور بیکری ہوٹلوں پر جرمانے بھی کئے غریب دیہاڑی دار ریڑھی اور ڈھیلے بانوں کو بغیر پشگی بے روز گار کیا ور مبادل جگہ فراہم نہ دی وہ چیختے چلاتے رہے حلانکہ وہ مسلم لیگ ن کے ووٹر سپوٹر بھی تھے اس طرح مسلم لیگ ن کا ووٹ بھی بڑے پیمانے میں گرا ہے نہ ماڈل سٹی بن سکا نہ اسلام آباد کا ڈیزان تلہ گنگ شہر کا اگر جائزہ لیا جائے تو اتنے لاتعداد مسائل ہیں کہ انگلیوں پر گننا شروع کر دیں تو ختم نہیں ہوتے ٹی ایم اے تلہ گنگ نے اپنی حکومت قائم کر رکھی ہے محکمہ مال نے اپنا الو سیدھا کر رہے ہیں واپڈا احکام کو تلہ گنگ نظر ہی نہیں آرہا سیورج کا اسسٹم بلکل نہ ہونے کے برابر ہے گٹروں سے پانی ابل رہا ہے اندرون شہر میں نوے فیصد روڈ تباہ و برباد ہو چکے ہیں تجاوزات کی بھر مار کے علاوہ پی ٹی سی ایل کے ادارے نے بھی عوام سے آنکھیں چرا لی ہیں اگر پانچ مئی 2013کے تین اہم اعلان پر ممبر ان ارکان اسمبلی عمل درآمد کروا لیتے تو مسلم لیگ ن کی بھلے بھلے ہو جاتی اگر رکشے والے کو بھی حلقہ این اے 61کا ٹکٹ دیا جاتا تو وہ بھی آسانی سے سیٹ نکال لیتا مگر صورتحال کچھ بدلی بدلی نظر آرہی ہے سیاستدانوں کی آپس کی چپقلش عوام کو اس سے کیا فائدہ عوام نے بھی ابھی لنگوٹا کس لیا ہے میرے ذمہ دار ذرائع کے مطابق عمدہ جنرل الیکشن ن لیگ کی سیٹ خطرے سے خالی نہیں مگر سیاست میں کوئی حرف آخر نہیں ہوتا ہاتھی کے دانت کھانے اور دیکھانے کے اور جس طرح ملک سلیم اقبال نے رات کی تاریکی میں عوام سے بغیر پو چھے ق لیگ کو چھوڑ کر ن لیگ کی حمایت کا اعلان کیا تھا اس لیے طرح کوئی واقع رونما ہو جاتا ہے تو شائد مسلم لیگ یہاں سے آمدہ الیکشن میں سیٹ نکال لے ملنے والی اطلاع کے مطابق پی ٹی آئی نے بھی لنگوٹے کس لئے ہیں اگر ان کا اتحاد ہو جاتا ہے تو قومی اور دو صوبائی اسمبلی حاصل ہونے میں کامیاب ہو سکتے ہیں برحال عوام کا موڈ بدلہ بدلہ نظر آرہاہے قبل از وقت کچھ نہیں کہا جا سکتا یہ آنے والا وقت بتائے گا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے موجودہ صورتحال کے تنازل میں ن لیگ کو قومی اسمبلی اور دو صوبائی اسمبلی کی سیٹ نکالنے کیلئے ایڑھی چوٹی کا زور لگانا ہو گابرحال سیٹ خطرے سے خالی بھی نہیں اگر ضلع کا اعلان ہو بھی جائے تو تب بھی عوام کے دل میں جو لارواہ ہے اور تین سال ٹینشن میں رہے اس کا انتقام وہ ضرور لیں گے کیوں کہ عمل کا رد عمل بھی ہوتا ہے بلدیاتی الیکشن میں بھی عوام نے ن لیگ کو بڑے واضح پیغام دیا تھا مگر اب جنرل الیکشن میں بھی واضح پیغام کے اشارے مل رہے ہیں حتمی بات کی اجازت نہیں کہئی جا سکتی ۔اللہ حافظ
اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔دعاؤں کا طلب گار

تبصرے

شیئر کریں

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں