موڑ موہاراں،،،،،،،؟ تحریر ریاض احمد ملک بوچھال کلاں

0
446

Muhammad Riaz

03348732994 malikriaz57@gmail.com
میں نے اپنے کالم کا عنوان بوچھال کلاں میں ہونے والے جلسہ میں مسلم لیگی ورکر حاجی ملک نواز کے ان الفاظ کو بنایا ہے جو انہوں نے ملک تنویر اسلم سے مخاطب ہو کر کہے تھے حاجی ملک نواز کی پنجابی میں تقریر سے بڑی دنیا محظوظ ہویے ہے اور وہ بڑے انداز میں پنجابی کے جملے ادا کرتے ہیں مثال کے طور پر موڑ موہاراں ،، جلیبی کے ووٹ ،، وغیرہ ساتھ ہی میں یہ کہوں کہ وہ قول و فعل کے پکے ہیں تو غلط نہ ہو گا قارئین میں نے گذشتہ تین کالم لکھے جن میں میں نے کوشش کی کہ کسی کا بھلہ ہو جائے اس کا تو مجھے علم نہیں کہ کسی کا بھلہ ہوا یا نہیں بحر حال کوشش میرا فرض ہے میں کر رہا ہوں میں نے اپنے سابقہ کالم میں عوام سے فیڈ بیک کی درخواست کی تو مجھے بڑے عجیب قسم کے ریماکس کا سامنا کرنا پڑا میرے ایک دوست جو صوبائی وزیر ملک تنویر اسلم کے ساتھی بھی ہیں مجھے کہا کہ تم نے جو کچھ لکھا وہ تو ٹھیک ہے مگر تم برے کے گھر تک تو گیت مگر دروازہ کھٹکٹائے بغیر واپس آ گئے میں چاہتا ہوں جب اتنا بڑا کام کیا ہے تو یہ بھی لکھو کہ صوبائی وزیر ملک تنویر اسلم نے بوچھال کلاں جلسے میں کیا کھویا کیا پایا تو میں نے فیصلہ کیا کہ میں آئندہ کالم میں کوشش کروں گا کہ ان رازوں سے بھی پردہ اٹھاؤں جو مسلم لیگ ن کے قائدین کی پیٹھ میں چھرا گھونپ رہے ہیں قارئین میں نے بوچھال کلاں میں ہونے والا جلسہ سنا یا دیکھا تو نہیں مگر بعض لوگوں کی زبانی اس جلسہ میں ہونے والے بعض محرکات مجھ تک پہنچے اس جلسہ سے قبل بوچھال کلاں میں ایک میٹنگ بلائی گئی تھی جس میں میرے سمیت مسلم لیگ ن کے ورکرں کو نظر انداز کیا گیا یہ وہ سوال ہیں جو بڑے غور طلب ہیں اس میٹنگ میں جو کچھ طے پایا گیا کہ کہ اس جلسہ میں سٹیج سیکرٹری کون ہو گا سپاسنامے میں کیا ہو گا یہاں میں ایک بات ضرور کہوں گا کہ بلدیاتی الیکشن میں جب ملک صفدر بربری کے گھر جلسہ ہو رہا تھا تو سٹیج سیکرٹری کس کو بنایا گیا تھا مگر مسلم لیگ ن کو عین موقع پر سٹیج سیکرٹری دوسرے محلہ سے کیوں بلانا پڑا ،،؟ پھر سٹیج سیکر ٹری تو وہ ہونا چاہیے تھا جس کو ملک تنویر اسلم سیتھی کے تمام کارناموں کا علم ہوتا اور وہ اس جلسہ میں جوش پیدا کرنے کے لئے ان کے کارناموں کاذکر کرتا کیا اس جلسہ میں وہ سب کچھ ہوا اب تو جواب نہیں کے علاوہ کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا آخر یہ سب کچھ کیوں ہوا اور اس کے پیچھے کون سا ہاتھ تھا جس نے یہ سب کچھ صفائی کے ساتھ کیا میں کچھ عرصہ پیچھے جاؤں تو ملک تنویر اسلم دو وارڈوں میں کامیاب ہوئے تھے ایک محلہ مصبال اور دوسرا محلہ مدھورہ اس کا تبصرہ میں آگے چل کر کروں گااب بات ہو رہی ہے کہ بوچھال کلاں میں ہونے والے جلسہ میں ملک تنویر اسلم کے سامنے کوئی گھنٹہ بھر کا سپاسنامہ پیش کیا گیا جس میں ان محلہ جات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا محلہ مشرقی میں ترج والی بن کا ذکر نہیں کیا گیا محلہ مدھورہ کو نظر انداز کیا گیا اور جس محلہ سے انہیں کبھی بھی ووٹ نہیں ملے اور نہیں ملیں گے اس میں راؤنڈ اباوٹ ایک کلو میٹر میں چار سڑکیں تعمیر کرانے کا منصوبہ ماشااللہ ان کے لئے اچھا شگون ہے پھر بوچھال کلاں میں مسلم لیگی کارکن آج کہاں کھڑے ہیں کیا وہ ناراض نہیں ہیں پھر اس جلسہ میں کارکنوں کے بجائے ان لوگوں کی شمولیت نہیں تھی جو ملک تنویر اسلم کی مخالف قوتوں میں ہیں اور سٹیج پر ملک تنویر اسلم کے کتنے کارناموں کا ذکر ہوا ،،،؟ کیا محلہ مصبال اور محلہ مدھورہ کے عوام کے مسائل پیش کئے گئے حالاں کہ انہیں بتانا چاہیے تھا کہ ہر سال ترج والی بن عوام کا کتنا نقصان کرتی ہے اس کے نقصانات سے عوام کو بچانے کا کوئی منصوبہ بنایا جائے مگر افسوس کہ یہاں تو وہ کچھ ہوا جو نہیں ہونا چاہیے تھا بوچھال کلاں واٹر سپلائی سکیم کا مسلہ جب شروع ہوا تو ایک پراپگنڈہ اٹھایا گیا کہ جنرل جاوید یہ رقم لے کر آیا ہے مگر تنویر اسے اپنے کھاتے ڈال رہا ہے مسلم لیگی ورکروں نے اس کا مقابلہ کیا اور ثابت کیا کہ یہ کارنامہ ملک تنویر اسلم کا ہے جب کالج بنا تو یہ کریڈٹ بھی ان سے چھیننے کی کوشش کی گئی مگر جو لوگ اس پراپگنڈہ کو ذائل کرتے رہے وہ بھی مسلم لیگی ورکر ہی تھے سٹیج پر کیا ہوا اس کو چھوڑیں میں ایک بات کہنا چاہوں گا کہ ملک تنویر اسلم بوچھال کلاں کی گلیوں میں سونے کی اینٹیں بھی لگو دے تو اہلیان بوچھال انہیں ووٹ نہیں دیں گے اگر انہیں ووٹ ملتے ہیں تو کارکنوں کی بدولت جو شائد اب ناراض ہیں منہ پر نہ سہی دل سے یہ حقیقت ہے اب اس جلسہ میں ملک تنویر نے بوچھال کلاں میں منصوبے سے کر اپنے ورکر کھو دئیے ہیں جن کا علم انہیں اگلے الیکشن میں ہو گا سوچنا یہ ہے کہ یہ سب کچھ کہاا8 سے ہوا اور کون سے داستانے پوش ہاتھ تھے جنہوں نے اتنی صفائی سے ان کا وہ نقصان کر دیا جو ،،،،،،،،،،؟ و یسے اگر مرکزی قائدین کا تذکرہ کیا جائے تو ان کو بھی اپنے ورکروں ست زیادہ پیار پی ٹی آئی کے ورکروں سے ان کے جلسوں میں مسلم لیگی ورکروں کو نظر انداز کر کے پی ٹی آئی کے ورکروں کو مدعو کیا جاتا ہے اور انہیں ہی سب مرعات ملتی ہیں اب وزیر اعظم کی سکیم میں کتنے مسلم لیگی ورکوں کو گاڑیاں ملیں اور کتنے پی ٹی آئی کے کارکنوں کو روز گار کے لئے گاڑیاں دی گئیں اگر یہی حال رہا تو آنت والا الیکشن کیا کرئے گا ،،،،،؟

تبصرے

شیئر کریں

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں