ضلع چکوال کی تحصیل لاوہ ڈیلی تلہ گنگ نیوز کی نظر سے

0
168
zاسلام آباد(شہزاد احمد ملک)ضلع چکوال کی تحصیل لاوہ کو بنے ہوئے اتنا عرصہ نہیں گزرا ہ تاحال تحصیل لاوہ اور دیگر یونین کونسل کے عوام تاحال ابھی تک دفاتر سے محروم موجودہ ایم این اے ایم پی اے کو سیر سپاٹوں سے فرصت نہیں ضلع تلہ گنگ کا پوچھو تو کہتے ہیں بس جی بن جائے گا تحصیل لاوہ کو یہ اہمیت حاصل ہے کہ قومی اسمبلی کا حلقہ 61چکوال 2سے جو ممبر قومی اسمبلی کا الیکشن لڑتا ہے جس امید وار کی حثیت لاوہ میں مقبول وہ ہی قومی ممبر اسمبلی بنتا ہے مگر پھر دوریاں کیوں عوام کے مسائل سے چشم پوشی کیوں بلدیاتی الیکشن کو گزرے ہوئے کئی ماہ گزر چکے ہیں نو منتخب ممبران نے حلف بھی اٹھا لیا جبکہ مخصوص نشستوں کا عمل ابھی باقی ہے مگر ٹی ایم اے آفس کا وجود تک نہیں او ر نہ ہی کوئی عملہ تعنیات کیا گیا ہے شہر کی صورتحال یہ ہے کہ سیورج کا نظام بری طرح تباہ و برباد گندگی سے نالیاں اٹکی پڑی ہیں جس سے بد بو اور تعفن پھیل رہاہے اور موضی بیماریاں پھیلنے کا خدشہ منڈلا رہاہے لاوہ تحصیل میں مسافروں کیلئے کوئی سٹاپ مقرر نہیں کیا گیا سردیوں بارشوں کے دنوں میں مسافر بچارے گرمیوں میں تپتی چلاتی دھوپ اورسردیوں میں شدید سردی کے موسم میں اپنی منزل مقصود پر پہچنے کیلئے کھڑے ہو کر پاؤں اور ٹانگیں بھی سوجھ جاتی ہیں صاف پانی پینے کا کوئی بندو بست نہیں نہ کوئی مسافر خانہ ہے جہاں مسافر بیٹھ کر سکون کا سانس لے سکیں اس جدید دور میں بھی تحصیل لاوہ پاسماندگی کا شکارہے ٹرانسپوٹر مالکان کی قیمتی گاڑیاں کو بھی نقصان ہو رہاہے شیڈ تک نہیں کہ وہ اپنی قیمتی گاڑیاں شیڈ کے نیچے کھڑی کر سکیں واپڈا کا نظام بھی درہم برہم اور لاوہ سے مختلف علاقوں میں جانے والے روڈز بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے کیا جا رہاہے ہسپتال میں ڈاکٹر موجود ہیں تو ادویات کی کمی سکولوں میں کوئی سیکورٹی کا خاص بندوبست نہیں اس جدید دو ر میں بھی تحصیل لاوہ کے عوام مسائل میں گھیرے ہوئے ہیں ان مسائل کو کون حل کرے گا کئی سوالات جنم لے رہے ہیں لاوہ کے عوام نے ڈیلی تلہ گنگ نیوز کو سروے کے دوران بتایا کہ یہاں جنگل کا قانون ہے حکومت پنجاب یا وفاقی حکومت مقامی این اے ایم پی اے کوئی توجہ نہیں دیتے جس سے ہمارے مسائل میں کمی ہو نے کی بجائے دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں انہوں نے ڈی سی او چکوال سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طورپر لاوہ کا دورہ کریں اور ان کے جائز مسائل پرخصوصی توجہ دیں۔

تبصرے

شیئر کریں

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں