وڈیرہ شاہی کا خاتمہ ضروری ہے

0
307
Arslan Ahmed Malikتلہ گنگ ،لاوہ ،ڈھرنال ،سگھر ،اکوال ،دودیال ،تھوہا محرم خان ،ڈھوک پٹھان،کوٹ قاضی ،کوٹ سارنگ ملکوال ملتان خور د ،جبی شاہ دلاور ،نرگھی ،بدھڑ ونہار ،جھاٹلہ ،ڈھرنال ،جابہ ،پچنند ،لیٹی ،چینجی کوٹیرہ ،جیسال ،ٹہی،دھرابی ،پیڑا فتحال ،نکہ کہوٹ اور دیگر کے عوام سے اپیل کی جاتی ہے کہ جسیے جیسے الیکشن قریب آرہے ہیں ویسے ویسے حکمران عوام کی ہمدریاں کے لئے پھر میدان میں نکل پڑے ہیں اور ایک بار پھر آپکو یہ سبز باغ دیکھائیں گے چار سال کا عرصہ بیت گیا ہے ا ن حکمرانوں نے تلہ گنگ لاوہ میں کوئی بڑا پروجیکٹ موجودہ حکومت میں رہتے ہوئے بھی افتتاح نہ کروا سکے اور نہ ہی وزیراعظم پاکستان کے تین اہم اعلان اور وعدے’’ضلع تلہ گنگ ‘‘’’یونیورسٹی کا قیام ‘‘اور ’’تلہ گنگ تا ڈیرہ اسماعیل خان موٹروے ‘‘پر موجودہ حکومت کے اعلیٰ عہدوں پرفائز ہو نے کے باوجود بھی عمل در آمد نہیں کرواسکے مجھ سمیت ہم نے تو اپنی ڈیوٹی جو ہمارے ذمہ لگائی گئی تھی پوری کر دی تھی ووٹ دئیے اور اقتدار ان کے حوالے کیا لیکن پھر بھی انہوں نے لاپروائیاں اور کوتاہیاں برتی یہ واقع پہلا ہی نہیں69 سال بیت گئے ہم سے ہاتھ ہوتا آرہا ہے آپ کو اس بار آمدہ الیکشن کیلئے اپنی آنے والی نسلوں کیلئے حاضر دماغی اور ہوش سے کا م لینا ہو گا ورنہ آنے والی نسلوں کیلئے جو کانٹے بچھائے گئے ہیں شائد اس وقت وہ اتنی سکت نہ رکھتے ہوں کے وہ ان کانٹوں کو ہٹا سکیں اس مرتبہ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کیلئے کانٹوں کی بجائے پھول نچھا ور کرنے ہوں گے تاکہ آمدہ آنے والی نسلیں آزاد ہوں ایسے امیدوار کو منتخب کریں جس کو آپ سمجھتے ہیں کہ کرپشن سے پاک ہے دیانت دار ہے قومی اسمبلی میں ہماری آواز بلند کر سکتاہے اور ہمارے مسائل اجاگر کرنے کی صلاحیت رکھتاہے اور فرض شناس او ر حب وطن بھی ہو میرا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ پی ٹی آئی سے ہو مسلم لیگ ن سے ہو ق لیگ سے ہو میرا کسی سیاسی پارٹی سے کوئی وابستگی نہیں آپ ایسے امیدوار کا چناؤ کریں جو حقیقی معنوں میں حل کرے اور تلہ گنگ شہر ایک خوبصورت شہر بنے اور آپ کے ہر جائز مسائل حل ہوں اگر ہم نے یہی رویہ رکھا تو شائد آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی یہ لوگ چند لوکل اخبارات کے مالکان کا بھی سہارا لیتے ہیں اور مالکا ن کو بھی چاہئے کہ خدا راہ آپ بھی سوچیں ایک ننھا مناچکوال کا بچہ شرجیل ایجاز واپڈا کے احکام کی لاپروائیوں کوتاہیو ں سے دونوں بازوں سے معذور ہو گیا اور آج بھی موت کی کشمکش میں مبتلا ہے ووٹ دیتے وقت صرف اللہ دیکھ رہا ہوتا ہے نہ کہ امیدوار فیصلہ اپنے ضمیر کے مطابق او ر اپنی آمدہ نسلوں اور اپنے جائز حقوق کیلئے تاکہ اس علاقہ میں وڈیرہ شاہی اور جاگیر داری نظام کا خاتمہ ہو جب تک ہم خود نظام کو درست نہیں کریں تو یہ چلے ہوئے کارتوس ہمیں ڈستے رہیں گے آؤ ان سے بچیں ووٹ دیتے وقت اور امید وار کا چناؤ کرتے وقت اپنے ضمیر جگانا ہو گا۔

تبصرے

شیئر کریں

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں