تحریر :شہزاد احمد ملک۔۔۔اگر یہ ہمیں 69سالوں سے داؤ لگاتے آ رہے ہیں اس مرتبہ ہمیں ان کو داؤ لگا ہو گا

0
139
dمحترم قائرین اور غیور عوام69سال گزر گئے انہوں نے حلقہ این اے 61چکوال 2میں ہر آمدہ الیکشن میں ہم ان کو کندھوں پر بھی اٹھاتے ہیں ان کے حق میں نعرے لگا لگا کر اپنے گلوں میں انفیکشن بھی پیدا کرتے ہیں اور محلے داری میں ان کے حق میں دشمنیاں بھی مول لیتے ہیں اور حتی کہ برادری میں ایک دوسرے کے خلاف خونی رشتوں سے بھی دور ہو جاتے ہیں اور اقتدار ان کے حوالے کر دیتے ہیں بعد میں یہ علاقوں کا رخ کرنا دور کی با ت ہاتھ ملانا بھی گوارہ نہیں سمجھتے یہ کوئی عجیب مخلوق نہیں ہے تمام انسان برابر ہیں اگر کوئی بڑا ہے تو پرہیز گاری کے لحاظ سے 69سال یہ ہمارے ساتھ داؤ اور ہماری نسلوں کے ساتھ دھوکے فراڈ کرتے چلے آ رہے ہیں ان کی سیاست صرف تھانہ کچہری تک محدود ہوتی ہے قومی اسمبلی کے فلور پر تو یہ صرف ایئر کنڈیشن کی ہو ااور ڈسیک کے اوپر لگا ہوا مائک کو آن تک نہیں کرتے اور نہ ہی قومی اسمبلی کا سپیکر ان کو منع کرتا ہے کہ آپ اپنے علاقے کیلئے نہ بولیں مگر ان میں وہ طاقت ہمت ہی نہیں کہ قومی اسمبلی کے سیشن میں صرف تلہ گنگ کا نام لے لیں مسائل تو دور کی بات وڈیرہ شاہی جاگیر دار ی اور سرداری نظام کا خاتمہ اتنا مشکل نہیں ہے جتنا ہم نے پہاڑ بنا کر رکھا ہوا ہے میں جانتا ہوں کہ کوئی بھی مجھ جیسا شخص ان کے خلاف آواز بلند کرے تو اس کو تھانے کچہریوں کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں جس کی مد میں ہزاروں روپے وکلاء کی فیس اور تھانہ کے اہلکاروں کا منہ میٹھا کرنا پڑھتا ہے انتقام لینے کے اور بھی طریقے ہیں جب یہ ہمیں داؤ لگاتے ہیں تو آؤ اس مرتبہ ہم ان کو داؤ لگاتے ہیں جو امید وار آپ کے پاس آئے اس کو کہنا سردار صاحب اور ملک صاحب آپ کو ووٹ کیلئے میرے پاس آنے کی کیا ضرورت کی آپ کو پتا نہیں کہ میں آپ کا پکا ووٹر ہوں تاکہ سردار ملک خوش ہو کر جائے اور ہیپی ہیپی ہو جائے لیکن ایسا کرنا نہیں ہے جب وہ چلا جائے اور الیکشن کا دن اس دن اپنے ضمیر اور اپنے والی نسلوں کیلئے ووٹ کا استعمال کرناہے اور الیکشن کے دن اسی سردار اور ملک کے الیکشن بوتھ میں رہنا ہے حلوہ اور چاول بھی کھائیں تاکہ سردار اور ملک خوش ہو کہ میرا رزلٹ جب آئے گا تو میں جیت جاؤں گا لیکن اندر اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ کرنا ہو گا وہاں صرف اللہ اور آپ کا ضمیر ہو گا اور پاکستان کی بقا اور سلامتی اور اپنے حقو ق حصول کیلئے اس مرتبہ جبگ لڑنی ہو گی تاکہ ملک اور سردار کا نتیجہ جب آئے تو پتا چلے کہ ملک اور سردار لاکھوں کے ووٹ سے ہار گئے رات کو نیند بھی نہ آئے کہ عوام بھی انتقام لینا جانتی ہے اس مرتبہ انتقام لینا ہے اور اپنی آمدہ نسلوں اور اپنے جائز حقوق کیلئے جنگ لڑنی ہو گی یہ ہمیں داؤلگا سکتے ہیں تو ہم انہیں نہیں لگا

تبصرے

شیئر کریں

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں