’’تلہ گنگ ‘‘پولیس انتظامیہ نے تین سال قبل اغوا ء ہونے والے بچے کو بازیاب کروا لیا

0
280
3تلہ گنگ(تحصیل رپورٹر) ڈی ایس پی تلہ گنگ ملک عنبدالرحمن اور ایس ایچ او تھانہ صددر تلہ گنگ نیئر کیانی کی قیادت میں پولیس کی بھاری نفری نے تلہ گنگ کے نواحی گاؤں ملکوال کی داخلی ڈھوک راجہ کے ایک گھر پر چھاپہ مار کر تین سال قبل اغواء ہونے والے بچے کو بحفاظت باز یاب کراکر خواتین سمیت پانچ ملزمان کو گرفتار کر لیا ۔تھانہ صدر تلہ گنگ میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی ایس پی تلہ گنگ ملک عبدالرحمن اور ایس ایچ او تھانہ صدر تلہ گنگ نیئر کیانی نے واقعہ کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ مسماۃ عائشہ صدیقہ دختر محمد ابراہیم ساکن فیصل آباد روڈ اوکاڑہ کی شادی تقی الدین احمد سے ہوئی ۔جن کے بطن سے دو بچے ایک بیٹی اور ایک بیٹا ہوا ۔بعد ازاں دونون میاں بیوی میں علیحدگی ہو گئی اور عدالت کے حکم پر دونوں بچے ماں کو دینے کا حکم جاری ہوا ۔بچی تو والدہ کو مل گئی لیکن تین سالہ بچہ محمد معاویہ کو 14مئی2014کو اُس کے سگے چچا ابوبکر نے اپنی ہمشیرہ مسماۃ سلمی بی بی ہمراہ دو نا معلوم ملزمان کے اغواء کر لیا ۔جس پر بچے کی ماں کی مدعیت میں زیر دفعہ 363ت پ مقدمہ درج ہوا ۔تاہم ملزمان غائب ہو گئے اور ان کا کوئی سراغ نہ مل سکا ۔یہ معاملہ وہان کی پولیس کیلئے مسلسل سردرد بنا رہا ۔اس دوران ایک ڈی ایس پی اس کیس کی وجہ سے معطل بھی ہوئے۔معزز عدالت کے بھی ملزمان کی گرفتاری اور بچے کی بحفاظت بازیاب کے سخت احکامات جاری ہوئے تھے ۔ ڈی ایس پی تلہ گنگ ملک عبدالرحمن نے بتایا کہ مشکوک افراد کی موجودگی کے بارے مخبر کی اطلاع پر تلہ گنگ کے نواحی گاؤں ملکوال کی ڈھوک راجہ میں مسجد فاروق اعظم کے قریب ایک گھر پر چھاپہ مارا گیا تو مغوی بچہ محمد معاویہ جو اب پانچ سال سے زائد کا ہو چکا ہے ایک بند کمرہ سے باز یاب کرا لیا ۔جبکہ ملزمان محمد ناصر ساکن مردان ،امت الرحمن ،سلمیٰ بی بی ،ریحانہ بی بی ،فردوس بی بی کو موقع سے گرفتار کر لیا ۔ایس ایچ او نیئر کیانی نے بتایا کہ ملزم امت الرحمن اور سلمی بی بی بچہ اغوا کیس میں اشتہاری تھے جو آج دیگر کے ساتھ گرفتار ہوئے ۔بچے کی باز یابی کی اطلاع جب اوکاڑہ میں اس کی ماں کو دی گئی تو فرط جذبات سے وہ دھاڑیں مار کر رو پڑی اور رات گئے تلہ گنگ بچے کو لینے پہنچی جس کو قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد بچہ محمد معاویہ دیدیا گیا ۔

تبصرے

شیئر کریں

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں