دھر نا سیاست کا مستقبل ،،،،؟ تحریر ریاض احمد ملک بوچھال کلاں

0
484

03348732994 malikriaz57gmail.com
Muhammad Riazپاکستان میں لانگ مارچ کی سیاست تو پہلے سے ہی چل رہی تھی اب کافی عرصہ سے ایک نئی سیاست دھرنا سیاست کا بھی آ غاز ہو چکا ہے اس سیاست کو کبھی سونامی سیاست اور کبھی دھرنا سیاست کے نام سے یاد کیا جا رہا ہے اس سیست نے اپنی سیاست کا آغاز میں نہ مانوں یا ہر کام میں رکاوٹ کہ سکتے ہیں نے اپنی سیاسے کا آغاز تبدیلی سے کیا کہ ہم ملک میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں انہوں نے جس انداز کی تبدیلی ملک میں لانے کا آغاز کیا وہ سابقہ دھرنوں میں نوجوان لڑکیوں کو مادر پدر آذاد کر کے کیا جس سے پاکستانی قوم کے سر شرم سے جھک گئے سے کیاپھر خیبر پخیون خواہ میں بڑے سانحہ کے بعد ہمارے قائد عمران نیازی کو موقع مل گیا کہ اس سیاست سے جو کمبل کی طرح ان کے ساتھ چمٹ گئی تھی جان چھڑانے کا موقع مل گیا اور یوں حکومت اور پاکستانی قوم نے بھی سکھ کا سانس لیا مگر ایک لابی کو پاکستان کی خیر خواہ بھی ہے نے پانامہ لیکس کی صورت میں انہیں ایک بار پھر موقع دیا انہوں نے اپنے دل کی بھڑاس خوب نکالی اور اسلام آباد میں ایک بار پھر دنیا کو بتایا کہ ہم 20سال کے ہوگئے ہیں اور جلسہ کیا جس میں جو کچھ ہوا میڈیا نے بھی چنیا کو دیکھایا پاکستان کے غیرت مند غیور لوگوں نے جب اس تبدیلی کو دیکھا تو حیران رہ گئیجس میں نوجوان لڑکہاں اپنے والدین کی عزت کو خاک میں ملا کر پاکستان میں تبدیلی کی نوید سنا رہی تھیں قارئین اللہ یعالیٰ کا فتمان بھی ہے کہ جیسے لوگ ہوں ان پر حاکم بھی ایسے ہی لگ جاتے ہیں مگر اب مجھے یقین ہو چلا ہے کہ پاکستانی عوام ابھی اس قدر بھی نہیں گرے کہ ان پر نیازی صاحب جیسے حکمران آ جائیں میں اکبر آلہ آبادی کا شعر لکھ کر ایک اشا رہ دینا چاہوں گا سڑک پر نکل آئیں بے پرد ہ جو بیبیاں
اکبر غیرت قومی سے زمیں میں گڑ ھ گیا
پوچھا جو ان سے پردے کا کیا ہوا
کہنے لگیں عقل پہ مردوں کی پڑگیا
میں جس بات کا تذکرہ کر رہا ہوں وہ ہے نوجوان لڑکیوں کا سرعام نکل کر والدین کی عزت کا جنازہ نکالنا حیران ہوں ان والدین پر ان بھائیوں پر جنہوں نے ان نوجوان لڑکیوں کو سرعام بھنگڑے ڈالنے کی اجازت دی اور آفرین ہے علماء کرام پر جنہوں نے ان کے خلاف ایک لفظ کہنے کی زحمت گوارہ نہیں کینوجوان لڑکیوں کو جب اجازت ہو کہ وہ جو چائیں کرتی پھریں تو غلطی ان کی ہر گز نہیں غلطی ان کے والدین کی ہے جو آگ اور پانی روئی اور آگ کو اکھٹا دیکھنا چاہتے ہیں پم اس معاشرے میں ایسی تبدیلی لانا چاہتے ہیں جس میں شیطان ان کا ساتھی ہو اور انہیں کوئی روکنے والا نہ ہو میں پانامہ لیکس سے پھر اپنی بات شروع کرتا ہوں جس کے باہر نکلتے ہی عمران خان نیازی نے ایک بار پھر کروٹ لیاور حکومت کو وہ سنائیں کہ لیکن حکومت نے اٹگارہ کروڑ عوام جنہوں نے انہیں اس عہدے تک پہنچایا تھا بغیر ان کے احیجاج کے ایک کمیشن بنا ڈالا مگر نیازی صاحب نے ضد لگا دی کہ وہ چیف جیسٹس کی سربراہی میں کمیشن قبول کریں گے ا دھر وزیر اعظم پاکستان کو علاج کی غرض سے وطن سے باہر جانا ہوا تو پی تی آئی والوں نے کہا کہ وزیر اعظم طھاگ گیا ہے اب ان کی غیر حاضری میں نیا وزیر اعظم آ رہا ہت اچابک ان کی آنکھ اس وقت کھل گئی جب وزیر اعظم واپس وطن لوٹ آ ئے ا نہوں نے وطن واپسی کے ساتھ ہی قوم سے خطاب کر ڈالا کس میں انہوں نے کہا کہ عوام نے رو ان سے کوئی مطالبہ نہیں کیا دھرنا سیاست سے ملک کو پہنچنے والے نقصان اور اپنے وطن کے لئے خدمات کا ذکر کرنے کے بعد ایک بار پھر دھرنا سیاست کے خواب کو اس وقت چکنا چور کر سیا جب اپنے آپ کو خاندان سمیت احتساب کے لئے پیش کر دیا اور چیف جیسٹس کو خط لکھنے کی نوید قوم کو سنا ڈالی اور عوام سے مطالبہ بھی کیا کہ احتساب کے بعد عوامی احیساب بھی ہونا چاہیے اگر میں غلط نکلوں مجھ پر کریپشن کی ایک پائی بھی ثابت ہو جائے تو تو جو چور کی سزا وہ میری عمران نیازی نے فوری طور پر دوسروں سے مشو رہ کیا اور اس کمیشن کو بھی ماننے سے انکا ر کر دیا ان کا مقصد یہ ہے کہ ان کے کسی آدمی کو بھی اس کمیشن میں شا مل کریں جو ان کو بھی تسکین پہنچا سکے پھر وزیر اعظم پاکستان کے ان الفاظ نے کہ اگر الزام ثابت نہ ہوں تو قوم ان کو گریبان سے پکڑ کر معافی منگوائے اور ان کا احتساب یعنی ان کو ووٹ نہ دے کر کرے جس کے بعد نیازی بھائی جو سخت پریشان بھی دیکھائی دے رہے تھے کہ نے اپنی 20ویں سالگرہ پر جہاں قوم کی عزت کا جنازہ نکالا وہاں بغیر کسی جواز کے لاہور میں دھرنا دینے کی نوید بھی سنا ڈالی یہاں محمد بخش کا شعر یاد آیا ہے ول تمبے دی کوڑی ڈیٹھی سنگ پتراں بیاں جئی ویکھی ماں محمدا اوجھیاں ویکھیاں دھیاں یہاں محمد بخش نے ایک درس دیا ہے مگر ہم اس کا مطلب غلط لیتے ہیں وہ معاشرے کا ذکر کرتے ہیں کہ جس معاشرے میں یہ حرکات ہوں جو ہم آج کل دیکھ رہے ہیں رو اس معاشرے کا وہ حال ہو گا کہ یہاں زلزے بھی آئیں گے اور آفات بھی اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ ہمیں عقل دے کہ ہم سیاست کریں تو عقل فہم کے ساتھ بونگیاں مار کر نہ اپنا وقر ضائع کریں اور نہ ہی ملک میں ہونے والی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنیں کیونکہ ہمارا ملک اب کوئی سانہیا برداشت کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا

تبصرے

شیئر کریں

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں