چکوال شرجیل اعجاز معذوری کیس کی سماعت کے دوران واپڈا احکام کیخلاف احتجاجی مظاہرے

0
142
chk 3چکوال(نمائندہ خصوصی ) وفاقی محتسب کے سینئر ایڈوائزر عبدالحمید نے واپڈا کی گیارہ ہزار کے وی سپلائی لائن سے کرنٹ لگنے کے باعث دونوں بازؤں سے معذور ہوجانے والے شرجیل اعجاز معذوری کیس کی سماعت چکوال آفس میں کی اس موقع پر درخواست گزار محمد ریاض انجم اور گواہان کے علاوہ واپڈا ایکسئین عارف خان ، ایس ڈی او سٹی پیر سرفراز خان ، لائن سپریٹنڈنٹ ظفر اقبال ودیگر افسران بھی موجود تھے متاثرہ فریق اور سول سوسائٹی کی بڑی تعداد نے سماعت سے قبل محکمہ واپڈا افسران کی نااہلی ، غفلت اور لاپرواہی پر شدید احتجاج کیا ، مظاہرین نے بینر اُٹھارکھے تھے اور قاتل قاتل واپڈا قاتل کے نعرے بھی لگارہے تھے ، مظاہرہ کے دوران میڈیا نمائندگان بھی بڑی تعداد میں موجود تھے ، سینئر ایڈوائزر وفاقی محتسب عبدالحمید نے دوران سماعت فریقین کے بیانات قلمبند کئے ، واپڈا افسران کی طرف سے ایکسئن عارف اور ایس ڈی او سٹی پیر سرفراز نے اپنے اپنے بیانات ریکارڈ کرائے جبکہ متاثرہ فریق کی طرف سے محمد ریاض انجم ، محمد ابراہیم ، آصف عمران انجم ، محمد اسلم ، رضوان جاوید اور محمد اقبال ودیگر نے حادثہ بارے معلومات فراہم کیں ، دوران سماعت اہلیان محلہ نے بھی حادثہ ہونے کی تصدیق کی سماعت کے بعد سینئر ایڈوائزر عبدالحمید ، متاثرہ فریق اور واپڈا افسران جائے حادثہ پر پہنچے جہاں سینئر ایڈوائزر نے وقوعہ کا جائزہ لیا اور حادثہ بارے فریقین سے سوالات بھی کئے ، جائے حادثہ کے بعد سینئر ایڈوائزر عبدالحمید ڈی ایچ کیو ہسپتا ل پہنچے اور انہوں نے سرجن ڈاکٹر ثاقب اور ایم ایس ڈاکٹر احسن نوید ملک سے شرجیل اعجاز حادثہ بارے معلومات حاصل کیں ، سرجن ڈاکٹر ثاقب نے شرجیل اعجاز کو بجلی کا کرنٹ لگنے اور دونوں بازو ضائع ہونے کی تصدیق کی اور یہ بھی واضح کیا کہ بچوں کے دونوں بازو بجلی کا کرنٹ لگنے سے ضائع ہوئے اور اسی حادثہ کی بناء پر بچے کو ہسپتال لایا گیا تھا ، وفاقی محتسب کے نمائندہ عبدالحمید نے حادثہ کے عینی شائدین بچوں عثمان ، طلحہ اور زبیر کے بیانات بھی ریکارڈ کئے ۔

تبصرے

شیئر کریں

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں