تلہ گنگ ٹائمز اور وائس آف تلہ گنگ کو ڈھوک پھلی یاد ہے دوسرے صحافیوں کوکیوں نہیں عوام نے کیا قصور کیا

0
434

all web newsتحریر :شہزاد احمد ملک
تلہ گنگ کے یونین کونسل جبی شاہ دلاور پرویز مشرف کے دور میں رٹائر برگیڈئیرزمرد شاہین کی کوششیوں سے سے جبی شاہ دلاور کو یونین کونسل کا درجہ ملا اس سے قبل یہ علاقے جبی شاہ دلاور،کوٹیرہ،ڈھوک پھلی ،دھنوالہ ،اچھڑی ،چھوئی اور دیگر گاؤں ملتان یونین کونسل میں شامل تھے جتنا بھی فنڈ ملتا تھا وہ ملتان یونین کونسل پر خرچ کر یا جاتا تھا ان علاقوں کے عوام منہ تکتے رہ جاتے تھے مگر کچھ ہسٹری بتاتی ہے کہ جبی شاہ دلاور کے نمبر داروں میال فیملی کو تھانوں کچہریوں سے ہی فرست نہیں ہوتی تھی ان کو تھانہ کچہریوں کا چسکا تھا آئے روز کوئی نہ کوئی مقدمہ لڑائی جھگڑوں میں ہی ٹائم گزارا جس کا فائدہ ملتان خورد کو ہوا ڈھوک پھلی میرا آبائی گاؤں بھی ہے اس کے ساتھ دھنوالہ ،اچھڑی ،چھوئی ،چکڑاں یہ وہ علاقہ ہے جہاں سے سونا اگلتی ہوئی زمین 28-4-1964تیل و گیس کی کمپنیوں نے اس علاقے کے سروے کیئے اور اس علاقے سے بڑے تیل کے ذخائر دریافت ہوئے 19کے قریب ویل کھودے گئے اس علاقے کو یہ بھی اغزاز حاصل ہے یہاں ایئر پور ٹ بھی موجود ہے اور ماہانہ اربوں روپے تیل و گیس کی مد میں گورمنٹ آف پاکستان کو آمدن ہو رہی ہے مگر علاقے کے حالت راز یہ ہے کہ عوام جہالت اور مفلسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اس جدید دور میں بھی ہر اس دنیاوی سہولت سے محروم ہیں جو زندگی گزارنے کیلئے لازم ہے بجلی ،سڑک ،ٹیلی فون،ہسپتال،واٹرسپلائی،گیس وغیرہ وغیرہ سے عوام اب تک بھی ان سہولتوں سے محروم ہیں شاہد اب کوئی پاکستان کا ایسا علاقہ ہو یہ علاقہ ڈھوک پھلی تحصیل تلہ گنگ اور تحصیل پنڈی گھیب کی بونڈری پر واقع ہے او جی ڈی سی ترجمان سے جب میری بات ہوئی ترجمان کے مطابق کہ ہم نے علاقہ کے قریب ترین آبادیوں کیلئے سر کولر جاری کیا ہوا ہے جس میں ڈسپنسری ،ہسپتال ،پانی مگر آپ کے نمائندہ نہ لیں تو ہمارا کیا قصور میرے ایک سوال پر وہ ہنس کر بول دیئے کہ بچہ روئے نہیں تو ماں دودھ بھی نہیں دیتی ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ او جی ڈی سی ایل نے بقائدہ طورپر ڈیپارنمٹ موجود ہے ڈیلی تلہ گنگ نیوز کے سوال پر ترجمان نے کہا کہ ہم نے سندھ بلوچستان ،پنجاب میں یہ سہولیات دے رکھی ہیں آپ کے لیڈر ہی کمزور ہوں تو ہم کیا کر سکتے ہیں اس جواب پر مجھے شرمندگی بھی ہوئی ڈیلی تلہ گنگ نیوز کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ڈیلی نیوز نے بار بار ممتاز ٹمن کو خطوط بھی لکھے اور تحریریں بھی لکھیں اور ڈیلی نیوز کے وساعت سے ڈھوک پھلی میں سکول بنوایا اور چھ کلو میڑ کا ایک روڈ کا ٹکرا بنوایا سکوال کی بلڈنگ کو بنے ہوئے دو سال سے زائد عرصہ ہو گیا ہے مگر اس کو تالا لگا ہوا ہے نہ فرنیچر نہ اساتذہ جبکہ جو چھ کلو میٹر کا ٹکرا بنایا گیا تھا ناقص مٹریل استعمال کیا گیا اور من پسند ٹھکیدار کو ٹھیکا دیا گیا اور کمیشن حاصل کیا گیا چند ماہ ہی گزے وہ چھ کلومیٹر کا ٹکر بھی ٹوٹ پھوٹ چکا ہے گورنمٹ آف پاکستان کی طرف سے اس علاقہ میں ایک مڈل سکول جس کی خستہ حال سیکورٹی کہ کوئی انتظامات نہیں اساتذہ کی کمی فرینچر کی کمی یہاں کے عوام اپنے بچوں کو پڑھانے کیلئے پرائیوٹ سکول میرا شریف شدید گرمی تپتی چلاتی دھوپ سردیوں کے موسم میں شدید سردی پیدل چل کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں علاقہ کے عوام زیادہ تر کھتی باڑی اور ملازم پیشہ ہیں اس علاقہ کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے یہان چونے کی دو بڑی فیکٹریاں موجود ہیں اور ہیوی مشینری اور گیس کے زرئعے پتھروں کو پگلا کر چونا تیار کیا جاتا ہے اور وہ چونا پاکستان کے دوسرے بڑے شہروں ٹرکوں کے زرئعے خرید و فروخت کی جاتی ہے اور کئی سو ملازمین کام کرتے ہیں مگر ان کیلئے کوئی سہولتا ت میصر نہیں یہ وہ علاقہ ہے جو تیل وگیس سے مالا مال لیکن اس علاقہ کے عوام بنیادی سہولتوں سے محروم اس علاقہ میں ایسے ایسے حساس پلانٹ لگے ہوئے ہیں مگر سیکورٹی برائے نام کوئی پولیس گشت نہیں اور نہ ہی کوئی پولیس چوکی ہے ہنگامی حالات نبٹنے کیلئے کوئی خاطر خواہ انتظامات نہیں یہ علاقہ تھانہ ٹمن کی حدود میں آتا ہے تلہ گنگ کے چند صحافیوں کو بھی اس علاقے کے عوام سے کوئی دلچسبی نہیں آخر کیوں تلہ گنگ ٹائمز کی انتظامیہ اور وائس آف تلہ گنگ کی انتظامیہ کی نظریں تو رہتی ہیں مگر دوسرے صحافیوں کی کوئی ذمہ داری نہیں بنتی ایک حساس ترین ادارہ اور عوام کے لاتعداد مسائل سے کوئی سرو کا نہیں مقامی ایم این اے ،ایم پی اے نے بھی اس علاقے کو نظر انداز کیا ہوا ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس علاقے کے عوام کا آخر قصور کیا ہے کیا یہ کوئی انڈیا سرحد پار کر کے آئے ہیں پاکستانی نہیں اور پھر اتنی بڑی ذیاتی ظلم آخر کیوں شہریون سے جب گفتگو ہوئی تو انہوں نے واضع اور کھلے الفاظ میں کھا کے ہمیں جائز حقوق نہ دلائے گئے تو پھر لیڈروں کو کوئی حق نہیں پہنچاتا کہ ہمارے ووٹ لے کر اقتدار میں بیٹھ جائیں انہوں نے چند صحافیوں پر بڑی تنقید کی ہے انہون نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ہمارے جائز حقوق ہمیں دلائین جائیں ورنہ تمام تر ذمہ داری پنجاب حکومت پر عائد ہو گی ۔

تبصرے

شیئر کریں

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں