وفاق المدارس العربیہ پاکستان مدارس دینیہ کی تاریخ میں ایک قابل ذکر ہیں مولانا ادریس عثمانی میڈیا سے گفتگو

0
324
tl 6تلہ گنگ(تحصیل رپورٹر) وفاق المدارس العربیہ پاکستان مدارس دینیہ کی تاریخ میں ایک قابل ذکر روشن باب کی حیثیت رکھتاہے۔ مدارس عربیہ کی تنظیم وترقی اور معیار تعلیم کے بلندی کے لیے وفاق کی خدمات لازوال ہیں ۔ان خیالات وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ضلعی مسول شیخ الحدیث مولانا غلام مرتضیٰ نقشبندی نے جمعیت علماء اسلام (ف) تحصیل تلہ گنگ کے نائب امیر مولانا محمد یوسف الطاف اور معاون مولانا ادریس عثمانی کے ہمراہ اتلہ گنگ کے امتحانی سینٹر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا کے نمائندگان کو تلہ گنگ میں پریس کانفرنس کو دوران شیخ الحدیث مولانا غلام مرتضیٰ نقشبندی نے بتایا کہ وفاق المدارس کے تحت امتحانات دینے والے طلبہ و طالبات کے لیے قواعد و ضوابط دیگر تعلیمی بورڈز اور یونیورسٹیوں سے زیادہ سخت ہیں۔امتحانات ملک بھر کے دینی مدارس میں ایک ہی وقت ایک ہی شیڈول کے مطابق منعقد کیے ہیں۔اس سال ان امتحانات میں ضلع چکوال میں 22سینٹرز قائم کئے گئے جن میں 12سینٹرزتلہ گنگ میں اور10چکوال میں قائم تھے جن میں 63کے قریب تعینات کئے عملے کے زیرنگرانی 337طلباء اور1243طالبات نے درس نظامی کے مختلف درجات کا امتحان دیا۔ ضلعی انچارج وفاق المدارس العربیہ نے بتایا کہ ان امتحانات کو یہ خاصیت حاصل ہے کہ یہ ملک بھر میں خیبر سے کراچی تک ایک ہی وقت میں ایک ہی طرح کے سوالیہ پیپرز پر لیے جارہے ہیں۔ اور ایک ہی وقت میں اختتام پذیر ہوں گے۔ہر روزکا پرچہ پیپر شروع ہونے سے پندرہ سے بیس منٹ پہلے امتحانی سنٹر میں پہنچ جاتا ہے اور پیپر کے اختتام پر تمام پرچے فوری طور پر سیل کرکے ڈاک کے ذریعے ملتان روانہ کردیئے جاتے ہیں۔ان امتحانات کے نتائج دارالعلوم کراچی میں ایک ہی جگہ پر بنائے جاتے ہیں۔اور جو عملہ رزلٹ بنانے پر مامور کیا جاتاہے اس پر یہ پابندی لاگو ہوتی ہے کہ وہ نہ تو کوئی موبائل فون استعمال کر سکتا ہے اور نہ ہی اس کے ساتھ کسی کی ملاقات کی اجازت ہوتی ہے۔ وفاق المدارس وہ واحد ادارہ ہے جس کا رزلٹ پندرہ دن کے اندر تیار کر لیا جاتا ہے اور پھر اگلے بیس روز کے اندر اندر سنا بھی دیا جاتاہے۔

تبصرے

شیئر کریں

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں