’’تلہ گنگ ‘‘پی ٹی آئی کی قیادت نے ن لیگ 9پارلیمنٹرین کی ناقص کارکردگی پر احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان۔۔

0
117
02تلہ گنگ(تحصیل رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف کا مسلم لیگ ن کی حکومت اورچکوال کے 9پارلیمنٹرین کی ناقص کارکردگی پر احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان،تلہ گنگ میں پختہ تعمیرات گرانے کی شدید مذمت، مندر ہ چکوال روڈ کی تعمیر ، چکوال شہر کی واٹر سپلائی سکیم اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چکوال کے مسائل کے حل کے لیے ن لیگ کی حکومت کو اگست تک کی ڈیڈ لائن دے ڈالی ، مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ضلع بھر کی عوام کو ساتھ لے کر سڑکوں پر نکلیں گے ، حالات کی تمام تر ذمہ داری لیگی حکومت اورمقامی پارلیمنٹرین پر عائد ہو گی۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں کا اعلان ۔ ضلعی سیکرٹریٹ میں منعقدہ تحریک انصاف کی احتجاجی پریس کانفرنس میں ضلعی رہنماؤں راجہ یاسر سرفراز ،شیخ وقار علی گڈہوک ،پیر نثار قاسم ، فوزیہ بہرام ، علی ناصر بھٹی، ملک شاہد اقبال ایڈووکیٹ، اسد علی شاہ اور دیگر نے مندرہ چکوال روڈ کی تعمیر میں تاخیری حربے استعمال کرنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ پیر نثار قاسم نے تلہ گنگ میں ناجائز تجاوزات کے نام پر آپریشن پر گہرے افسوس کا اظہار کیا اور شدید الفاظ میں مذمت کی اور بتایا کہ تلہ گنگ میں تجاوزات آپریشن کے نام پر دراصل ن لیگ کو الیکشن میں شکست دینے کا بدلہ لیاگیا۔ پیر نثار قاسم کا کہنا تھا کہ ایک ایسے شخص کی دکانوں کو گرادیاگیا جس نے زندگی بھر کی جمع پونجی دکانوں پر لگائی تھی ،ٹی ایم اے اور دیگر اداروں نے اسے باقاعدہ منظوری دی جس کے بعد اس غریب شخص نے دکانیں تعمیر کیں۔ تو ٹی ایم اے نے اسے گرا دیا، آج وہی شخص ذہنی معذورہے۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما راجہ یاسر سرفراز نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ اگر چکوال مندرہ روڈ کی تعمیر شہر میں 57کروڑ روپے کی واٹر سپلائی سکیم مکمل کر کے پانی کی فراہمی اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چکوال میں ادویات و بنیادی سہولتوں کی فراہمی یکم اگست تک یقینی نہ بنائی گئی تو پھر حکمران پاکستان تحریک انصاف کو سڑکوں پر دیکھیں گے۔اور پھر مسلم لیگ ن یا مقامی پارلیمنٹرین کا کوئی حیلہ بہانہ کام نہیں کر سکے گا۔ واضح کرتے ہیں کہ اگست تک تمام معاملات درست کر لیے جائیں۔ ملک شاہد اقبال ایڈووکیٹ بانی رہنما نے اس ضمن میں ہر قسم کی قانونی امداد کی فراہمی کا اعلان کیا۔ ملک شاہد اقبال ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف عوام کو کسی صورت میں تنہاء نہیں چھوڑے گی۔ عوام عمران کے ساتھ کھڑی ہو گئی ہے اور حکمرانوں کے دل کا خوب علاج کرے گی۔ سابق صوبائی وزیر فوزیہ بہرام نے اپنے خطاب میں اس امر پر گہرے افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت نے حادثات سے بچاؤ کے لیے کسی ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد نہیں کیا۔ مندرہ چکوال ،سوہاوہ روڈپر سڑک کی تعمیر نہ ہونے کی وجہ سے حادثات رونما ہو رہے ہیں جن میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نیلہ انٹرچینج کے افتتاح کے نام پر سیاست چمکانے کی کوشش کی جا رہی ہے حالانکہ ایم پی اے سردار ذوالفقار دلہہ کا نیلہ انٹرچینج کے قیام سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جون 2012ء میں پی ایس ڈی پی میں میرے پراجیکٹ کو شامل کیاگیا ،پانچ ملین فنڈز بھی میرے سفارش پر جاری ہوئے۔ نومبر 2012ء میں انٹرچینج پر کام شروع کیاگیا تھا، اس وقت کے کور کمانڈر منگلا جنرل اشفاق ندیم جو میرے بھائی کے بیٹے ہیں کی کوششوں کی وجہ سے نیلہ انٹرچینج کا قیام عمل میں لایاگیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کسی عوامی منصوبے پر اپنے نام کی تختی نہیں لگانے دے گی اور ہر مظلوم کا ساتھ دے گی۔ سابق امیدوار برائے ایم پی اے شیخ وقار علی خان گڈھوک نے ہومو سائیڈ انویسٹی گیشن سیل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے مقامی لیگی رہنما کی کٹھ پتلی قراردیا۔ شیخ وقار علی خان کا کہناتھا کہ شہر میں واٹر سپلائی سکیم کے نام پر57کروڑ روپے غبن کیے گئے اپنے ویگن اڈے کامیاب بنانے کے لیے سرکاری جنرل بس سٹینڈ نہ صرف ویران بلکہ تباہ کر دیاگیا۔ آج یہ حالت ہے کہ اربوں، کھربوں روپے جیب میں ڈال کر سرکار کونقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ عوام کے ساتھ کئے گئے ہر ظلم کا حساب لیں گے۔ تحریک انصاف کے یونین چیئرمین راجہ طارق کالس نے باردانہ کی تقسیم اور گندم کی خریدوفروخت میں حکومتی منافقت کی مذمت کی انہوں نے بتایا کہ حکومت پنجاب کی طرف سے تیرہ سو روپے من ریٹ مقرر کیاگیا مگر گندم دس سو پچاس روپے سے لے کر گیارہ سو روپے تک فروخت ہوئی، کسانوں کے پاس آج بھی منوں کے حساب سے گندم بقایا موجود ہے۔ علاقہ ونہار سے تحریک انصاف کے رہنما اور یونین کونسل بوچھال کلاں کے چیئرمین ملک اختر شہباز نے صوبائی وزیر ملک تنویر اسلم کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ساری دنیا جانتی ہے کہ صوبائی وزیر نے دوبئی میں کس کو فلیٹ خرید کر دئیے اور کیسے وزارت حاصل کی۔ علاقہ ونہار سے آنے والے وقت میں تحریک انصاف کامیاب ہوگی۔ تحریک انصاف کے رہنما چوہدری علی ناصر بھٹی نے اپنے خطاب میں بتایا کہ مندرہ چکوال روڈ سابق وزیراعظم پرویز اشرف کا کارنامہ تھا مگر صرف ایک تختی کے پیچھے سب کچھ موجودہ حکمرانوں نے داؤ پر لگادیا ۔اپنے نام کی تختی بھی لگائی مگر سال کے اندر منصوبہ پھر بھی مکمل نہ ہو سکا۔ علی ناصر بھٹی کا کہنا تھا کہ ایک سال کی بجائے کئی سال گزر گئے مگر سوہاوہ چکوال روڈ پر کام شروع کرنا تو درکنار، ایک پول یا ایک درخت تک مکمل نہیں اکھاڑا گیا، انہوں نے بتایا کہ 2013ء میں مندرہ چکوال روڈ پر بارہ سو حادثات، 2014ء میں تیرہ سو اور2015ء میں پندرہ سو حادثات رونما ہوئے۔ ہر ماہ ایک سو بیس ٹریفک حادثات میں بیس افراد جاں بحق اور سو سے زائد شدید زخمی ہو جاتے ہیں جو کہ ہمارے مقامی نمائندوں کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔جو عوام کا مسئلہ اسمبلی میں نہیں اٹھا سکتے اور اب عوام اپنے حقوق پر آواز بلند کرنے کے لیے مقامی پارلیمنٹرین کے خلاف سڑکوں پر آئیں گے۔سید اسد علی شاہ نے شہر میں پانی کے مسئلے پر آواز بلند کی اور بتایا کہ 57کروڑ روپے کھائی ڈیم کے نام پر ہڑپ کر لیے گئے ،واٹر سپلائی منصوبے کا شہر میں نام و نشان تک نہیں۔ تین ڈیموں سے پانی لیا جا رہا ہے ،انہوں نے بتایا کہ پچاس کروڑ کی پائپ لائن پانی کے لیے بچھائی گئی وہ بھی چکوال مندرہ روڈ کی نذر ہو گئی۔ پی ٹی آئی ہیلتھ کمیٹی کے سربراہ ملک وحید ممتاز نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چکوال کی حالت زار پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ ہسپتال کروڑوں روپے کے فنڈز ملنے کے باوجود ایک گولی تک فراہم نہیں کر رہا۔ پہلے تیرہ سو پھر سات سو بیڈ کے ہسپتال کے خواب دکھائے گئے پورے ہسپتال میں کارڈیالوجسٹ تک موجود نہیں۔ انہوں نے اس بات پر حیرانگی کا اظہار کیا کہ ہسپتال میں چیک اپ فیس ایک روپیہ ہے جبکہ پارکنگ فیس بیس روپے وصول کی جا رہی ہے۔ ہسپتال سے بڑی پارکنگ بنا دی گئی ہے جہاں پر سارا دن مریضوں اور پارکنگ سٹاف کے جھگڑے چلتے رہتے ہیں۔ صحت کی سہولتوں کی فراہمی کے لیے بنایاجانے والاڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چکوال خود بہت بڑا مریض بن چکا ہے۔ پرہجوم پریس کانفرنس میں انصاف یوتھ ونگ کے سابق صدر چوہدری احسن زاہد ،پی ٹی آئی کے رہنما ملک فدا حسین، سابق ناظم راجہ خضر اقبال، جنرل کونسلر الحاج ملک قاسم اعوان اور دیگر نے شرکت کی۔

تبصرے

شیئر کریں

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں