حج امت مسلمہ کی اجتماعیت کا آئینہ دار ہے حج ایک عبادت بھی ہے نائب صدر بابو عمران قریشی ۔۔

0
210
long 1تلہ گنگ (نمائندہ خوصی)حج امت مسلمہ کی اجتماعیت کا آئینہ دار ہے حج ایک عبادت بھی ہے اور ایک روحانی انقلاب بھی، حج ایک اہم فریضہ ہے اس کی برکات سے مکمل فیض یاب ہونے کے لئے ضروری ہے کہ تمام مناسک حج کو درست طریقے سے ادا کیاجائے۔ان خیالات کا اظہار رفیق حج کمیٹی پاکستان کے نائب صدر بابو عمران قریشی نے اپنی ٹیم کے ہمراہ مرکزی جامع مسجدعیدگاہ تلہ گنگ میں وزارت مذہبی امور کے زیراہتمام حج تربیتی پروگرام میں امسال حجاز مقدس جانے والے فرزنداسلام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر مولانا نذیر خان ،عبدالحق مزاری،کرنل (ر) محمد اشرف ،پروگرام کے میزبان الحاج میاں عبدالقیوم ،حاجی فیض بخش ،چوہدری غلام ربانی ،حاجی عبدالوحید ،چوہدری عبدالجبار ،مولانا رب نواز ،محمد انعام اللہ ،حاجی عبدالرزاق چوہدری اور دیگر بھی موجود تھے ۔ اس تربیتی پروگرام میں اس سال حج پر جانے والے علاقہ بھر سے مردو خواتین نے بھر پور شرکت کی جبکہ بابو عمران قریشی کی اہلیہ محترمہ نے بھی خواتین کے حلقہ میں خواتین کو تربیت دی۔بابو عمران قریشی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حج میں قدم قدم پرجن امور کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان میں صبر، سفر، انتظار اور قطار ہے۔حج مخصوص کیفیات کا نام ہے جب تک وہ کیفیات حاجی اپنے اوپر طاری نہ کرے حقیقی مقاصد سے عاری رہتا ہے۔ مسنون دعاؤں کے ساتھ مناسک حج کی تربیت ضروری ہے۔احرام مردوں کے لئے دوسفید اَن سلی چادریں پاؤں میں ہوائی چپل‘ جبکہ عورتوں کے لئے ان کا اپنا لباس مکمل‘ سر مکمل ڈھکا ہوا ہونا چاہئے۔ مرد ایک چادر تہہ بند کی طرح باندھ لیں اور دوسری چادر اوپر اوڑھیں مگر سر ننگا ہونا چاہئے ۔اگر خواتین معذوری کی حالت میں ہوں تب بھی ان کے لئے 8ذی الحجہ کو حج کا احرام باندھنا ضروری ہے۔ نویں تاریخ کو فجر کی نماز کے بعد سورج چڑھے منیٰ سے ’’عرفات‘‘کے لئے روانہ ہونا ہے۔’’وقوف عرفات‘‘ جو کہ فرض ہے ا س کا وقت زوال کے بعد شروع ہوتا ہے۔نویں تاریخ کو عرفات کے میدان میں حاضری حج کا سب سے بڑا رکن(رکن اعظم) ہے ۔ اس دوران توبہ استغفار کریں ،اللہ تعالیٰ دعائیں مانگیں، درود شریف اور تلبیہ پڑھیں عصر کا وقت ہونے پر نماز باجماعت پڑھیں اور پھر عصر اورمغرب کے درمیان اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں۔عرفات کے میدان سے سورج غروب ہونے سے پہلے باہر نہ نکلیں۔ حکم ربی یہ ہے کہ مغرب کی نماز مزدلفہ پہنچ کر عشاء کے وقت میں عشاء کی نماز کے ساتھ ملا کر پڑھیں۔پھر آخری شب میں بھی اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہیں۔فجر کی نماز کے بعد وقوف مزدلفہ واجب ہے اور اس کا وقت صبح صاد ق سے شروع ہوکر طلوع آفتاب تک رہتا ہے۔دسویں تاریخ کو منٰی میں سب سے پہلا کام یہ ہے کہ صرف بڑے شیطان کو کنکریاں ماری جاتی ہیں۔دسویں تاریخ کا دوسرا کام قربانی کرنا ہے۔ اس کے بعدتیسراکام سر کے بال منڈوانا یا کٹانا ہے۔دسویں تاریخ کو یہ تینوں کام ترتیب سے کرنے واجب ہیں ورنہ دم واجب ہو گا۔ طواف زیارت ادا کرنے کا وقت دس ذی الحجہ کے طلوع آفتاب سے شروع ہوتا ہے اور12ذی الحجہ کے غروب سے پہلے تک کر سکتے ہیں ۔ حج تربیتی پروگرام کے اختتام پر پروگرام کے میزبان الحاج میاں عبدالقیوم ،حاجی فیض بخش (فیض ربی انٹر نیشنل)نے حجاج کرام کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا ۔

تبصرے

شیئر کریں

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں