پیا رے آقا ﷺ کے سوالی

0
488

کالم : بزمِ درویش تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
ای میل: help@noorekhuda.org فون: 03004352956
ویب سائٹ: www.noorekhuda.org فیس بک آفیشل پیج: www.fb.com/noorekhuda.org

abdulla-bhati
میں زمین پر جنت سے بھی بڑھ کر روضہ رسول ﷺ کے سامنے کھڑا تھا ، رسول اقدس ﷺ جو ازل سے ابد تک آنے والے انسانوں میں سب سے افضل ترین تھے جن کی زندگی کا ہر لمحہ معجزہ تھا ۔ قرآن کی روشن تعلیمات کی تفسیر تھا جنہوں نے عرب کے حُدی خوانوں کو زمانے بھر کا راہنما بنا دیا ۔ عا شقانِ رسول ﷺ پروانوں کی طرح روضہ رسو ل ﷺ پر منڈلا رہے تھے وہ دنیا و ما فیا سے بے نیاز اپنی عقیدتوں کا اظہار دیوانہ وار کر رہے تھے وہ اپنے اپنے انداز میں سلا م پیش کر رہے تھے رو رہے تھے ہچکیاں سسکیاں لے رہے تھے کچھ ہا تھوں میں چھوٹی چھوٹی کتابیں اٹھا ئے دعائیں ما نگ رہے تھے میں کئی بار بو لنے کی کو شش کر چکا تھا لیکن مجھ سے بو لا نہیں جا رہا تھا میری آنکھیں بار بار عقیدت و احترام سے جھک جا تیں اور جب میں اپنی تمام قوتوں کو اکٹھا کر تے ہو ئے انھیں اٹھا نے کی کو شش کر تا جو پتھر کی سل کی طرح بھا ری ہو چکی تھیں میں کبھی بھی کسی دربار یا بزرگ کے آستانے پر کو ئی دعا یا کتا بچہ لے کر نہیں حاضر ہوا اِس لیے درِ رسالت ﷺ پر بھی میں کو ئی کتا بچہ لے کر حا ضر نہیں ہوا تھا کیونکہ میں اکثر ایسے مو قعوں پر عربی کی ساری دعائیں بھو ل جا تا ہوں آج بھی ایسا ہی ہوا تھا میں دنیا و ما فیا سے بے خبر ہو چکا تھا میں آنسوؤں کا نذرانہ شہنشاہِ دو عالم ﷺ کے قدموں میں ڈھیر کر تا جا رہا تھا میرے آس پاس بہت سارے لوگ کھڑے تھے اور گزر بھی رہے تھے مجھے کچھ بھی یا د نہیں تھا میرے وجود پر ہلکی ہلکی سی کپکی طاری ہوگئی تھی اور آنسو مسلسل مو سلا دھا ر برسات کی طرح میرے چہرے کو تر کر رہے تھے ۔ میں نے بڑی مشکل سے اپنے لرزتے جسم کو سنبھالا ہوا تھا میں گو نگا بہرا بنا کھڑا تھا عرض تمنا کے لیے مجھے ایک بھی لفظ نہیں مل رہا تھا ۔ میں بو لنے کی کو شش کر رہا تھا لیکن میری جھو لی لفظوں کے خزانے سے محروم ہو چکی تھی میرے دائیں بائیں نو جوان اور بو ڑھے رورہے تھے آہیں بھر رہے تھے دھا ڑیں ما ر رہے تھے میں حیران تھا ہر عمر کے انسان جب بھی با رگاہِ رسالت ﷺ میں حاضر ہو تے ہیں تو بچوں کی طرح بلکتے ہیں روتے ہیں ایڑیاں رگڑتے ہیں انسان طفل شیر خوار بن جا تے ہیں اِن معصوم بچوں کی حرکات و سکنات سے التجا ئیں دعائیں چھلکتی ہیں اِن کے منہ میں زبان نہیں ہوتی الفاظ نہیں ہو تے دعائیں نہیں ہو تیں صدائیں نہیں ہو تیں لیکن نبی رحمت ﷺ محسنِ انسانیت ﷺ کو سب کے احساسات جذبات کا پو ری طرح پتا ہو تا ہے دُرّیتیمؐ کو سب کی خبر ہو تی ہے کون کیا کہنا چاہتا ہے کو ن کیا مانگنے آیا ہے کس کو الفاظ نہیں مل رہے کو ن عربی کی تمام دعائیں بھو ل چکا ہے عاشق کی بے کلی اضطراب التجا اور آنسوؤں کے نذرانے سب بتا دیتے ہیں ۔ میرے دائیں با ئیں دنیا جہاں سے آئے ہو ئے عاشقانِ رسول ﷺ اپنی صدیوں کی تشنگی بجھا نے در رسالت ﷺ پر آئے ہو ئے تھے وہ مختلف انداز سے دعاؤں میں مصروف تھے ہر ایک کی بغل میں دعاؤں کی پو ٹلی تھی جس کو وہ کھول کر دعائیں آقائے دو جہاں ﷺ کے قدموں میں ڈھیر کر تے جا رہے تھے ۔ کچھ نے مختلف ڈائریوں کاغذوں پر اپنے دوستوں اہل خانہ کے نام ان کی حاجتیں اور دعائیں پیغامات لکھے تھے وہ سید الانبیا ء ﷺ کے قدموں میں ڈھیر کر تے جا تے تھے سنہری جا لیوں سے زندگی بخش شعائیں پھوٹ رہی تھیں جس سے عاشقانِ رسول ﷺ معطر و سر شار ہو رہے تھے روضہ رسول ﷺ سے آتے ہو ئے معطر خوشبو کے جھونکے پیہم فضا میں گردش کر رہے تھے یہاں پر آنے والوں کی اکثر دعائیں خو شبو کے جھونکے بن کر ہوا میں تحلیل ہو جا تی ہیں ۔ بے بس بے چارگی اوراِن فالجی گھڑیوں میں آنکھیں ہی ساتھ دیتی ہیں ۔ میرے با طن کے عمیق اور بعید ترین گوشوں میں سینکڑوں چاند روشن تھے میں جب بھی لرزنے لگتا تو اچانک مجھے محسوس ہو تا جیسے خو شبو اور نور کی مخملی ریشمی چادر نے مجھے اپنی آغوش میں لے لیا ہو اِس نورانی ہا لے کی روشنی اور معطر خو شبو سے میری روح کے نہاں خا نے روشن و معطر ہو جا تے میری روح سر شاری سے جھومنے لگتی ۔ درود و سلام کی عطر بیز گو نج چاروں طرف سنا ئی دے رہی تھی سید الانبیا ء شاہِ دو عالم ﷺ کی محبت میں دنیا جہاں سے آئے ہو ئے دیوانے پروانوں کی طرح منڈلا رہے تھے روتے بلکتے ہچکیاں لیتے لوگ دعاؤں کے لیے ہا تھ اور اپنی خا لی جھولی پھیلارہے تھے لوگ آنسوؤں اور دعاؤں کے نذرانے آقا ﷺ کے قدموں میں ڈھیر کر رہے تھے سنہری جالیوں سے آتے ہو ئی معطر ہوا کے جھونکے انہیں ممتا بھر ی تھپکیاں دے رہے تھے زیا دہ تر عشاق کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑیاں جھڑ رہی تھی ۔ شمع رسالت ﷺ کے پروانے روزِ اول سے ہی شہنشاہِ دو جہاں ﷺ پر جاں قربان کر نے کے لیے تیا ر رہتے تھے غزوہ تبوک میں شریک نہ ہو نے کی وجہ سے جب حضرت کعب بن مالکؓ سے ترک موالات کا حکم جا ری ہوا تو عاشقِ رسول ﷺ بہت پریشان عرقِ ندامت میں غرق ما ہی بے آب کی طرح دن رات تڑپنا شروع ہو گئے گھر سے نکلتے مسجد نبوی ﷺ جا تے تو راستے میں کو ئی بھی اُن سے نہ سلام لیتا اور نہ ہی اُن سے کو ئی با ت کر تا عبا دت نماز کے بعد بھی سب سے الگ تھلگ ایک کو نے میں بیٹھ جا تے شہنشاہِ مدینہ کی نظروں سے اُتر جا نے کا غم انہیں کھا ئے جا رہا تھا یہ با ت اڑتے اڑتے غسان کے عیسائی با دشاہ تک بھی پہنچ گئی اُس نے مو قع غنیمت جا نا اور اپنا قاصد خط دے کر حضرت کعب بن مالکؓ کے پاس بھیجا قاصد خط لے کر صحابی رسول ﷺ کے پا س آیا اور با دشاہ کا خط حوالے کیا جس میں لکھا تھا ۔ کعب تم ایک شریف اور قابل احترام شخص ہو تمہا ری قدر و قیمت کا ہمیں احساس ہے اہل عرب تمہا ری قیمت سے واقف نہیں ہیں ہمیں پتہ چلا ہے کہ محمد ﷺ نے تمہارے ساتھ ناروا سلوک کیا ہے زیا دتی کی ہے جن کو تمہا ری قدر نہیں تم اُن کے پاس کیوں ہو تم ہما رے قاصد کے ساتھ ہما رے پا س آجا ؤ ہم تمہا ری بہترین میزبانی کریں گے ۔ تم ہمیں بہترین قدر دان پاؤ گے ۔ حضرت کعب بن مالکؓ پر ایسی با توں کی پیش کش کا کیا اثر ہو نا تھا وہ تو شاہِ مدینہ ﷺ کے عشق میں اس درجہ ڈوب چکے تھے کہ ایک لمحہ بھی آپ ﷺ سے جدا ئی اُن کے لیے موت برابر تھی اِیسے ہزاروں خط اور با دشاہوں کی ترغیبات اُن کے لیے مٹی کے ذرات سے زیا دہ اہمیت نہیں رکھتی تھیں اِس خط کو پڑھ کر مزید عرق ندامت میں ڈوب گئے بلکہ اِس خط نے اُن کے زخم پرمزید نمک چھڑک دیا اتنی رقت طا ری ہو ئی کہ زارو قطا ر رونا شروع ہو گئے کہ اُن کی حماقت سے اُنہیں آج یہ دن بھی دیکھنا پڑا کہ ایک کا فر انہیں راہ حق سے ہٹانے کی دعوت دے رہا ہے شرمندگی اِس درجہ بڑھی کہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے روتے روتے حالت خراب ہو گئی کچھ دیر بعد جب حالت بہتر ہو ئی تو قاصد نے سو چا شاید اب حضرت کعبؓ مان جا ئیں گے قاصد نے حضرت کعبؓ سے پو چھا اب آپ کا کیا ارادہ ہے تو عاشقِ رسول ﷺ نے خط کو پکڑا اور جلتے ہو ئے تنور میں ڈال کر کہا جا ؤاور جا کر اپنے با دشاہ سے کہنا کہ یہی میرا جواب ہے اپنے محبوب رسول ﷺ سے ایک لمحے کی جدا ئی بھی برداشت نہ کی ۔ میں روضہ رسول ﷺ کی جالیوں سے آتے ہو ئے معطر جھو نکوں سے خود کو سرشار کر رہا تھا کہ اچانک مجھے عبدالرحمٰن جا می ؒ کا شعر یا د آگیا ۔
چو سوئے من گزر آری من مسکین ز نا داری
فدائے نقش نعلینت کنم جاں یا رسول اللہ ﷺ
ترجمہ : یا رسول اللہ ﷺ اگر میرا نصیب بیدار ہو جا ئے اور آپ ﷺ مجھ نا دارمسکین کی طرف تشریف لے آئیں تو میرے پاس کو ئی بھی ایسی شے نہیں کہ جس کو سرور کو نین ﷺ کے روبرو پیش کر سکوں مگر ہاں جس مقام پر آپ ﷺ کے نعلین کا نشان پڑے گا میں ضرور اس پر اپنی جان مشتاق نثار کردوں گا ۔ میں روضہ رسول ﷺ پر کھڑا اپنی قسمت پر ناز کر رہا تھا اور خوشگوار حیرت یہ کہ گنا ہوں غلطیوں اور سیا ہ کا ریوں کے با وجود درِ رسالت ﷺ پر آگیا تو اچانک اقبال کی ربا عی یا د آگئی ۔
تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
روزِ محشر عزرِ ہا ئے من پذیر
ور حسابم را تو بینی نا گزیر
از نگاہِ مصطفے پنہاں بگیر
(اے خدا ئے بزرگ بر تر تیری ذات مبا رک دونوں جہانوں سے غنی ہے اور میں ایک فقیر خستہ جاں ہو ں حشر کے دن تو میری گزارشات کو پذیرائی بخشتے ہو ئے میری معافی قبول فرما لینا اگر میرے نا مہ اعمال کو دیکھنا لا زم ہی ٹھہر ے تو مجھ پر اتنا کرم کر نا کہ محمد مصطفے ﷺ کی نظر سے چھپا ئے رکھنا ۔)

تبصرے

شیئر کریں

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں