تلہ گنگ کی موجودہ سیاسی صورتحال پر ایک نظر

0
144

1

تحریر: شہزاد احمدملک۔۔۔
معزز قائرین اور غیور عوام ۔۔۔۔سردار گروپ کے بانی سابق ضلع ناظم سردار غلام عباس کے (ن) لیگ میں شمولیت (ن) لیگ کے کئی رہنما میڈیا کی نظروں سے غائب، معزز قارئین اور غیور عوام سردار غلام عباس مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کے بعد حلقہ این اے 61 چکوال 2، حلقہ 60 کے (ن) لیگ کے اکثر لیڈر میڈیا کی نظروں سے اوجھل ہو گئے اور کئی تبدیلیاں رونما ہونے کا امکان خطرے سے خالی نہیں اور سردار غلام عباس نے بھی ابھی تک چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے کوئی بیان منظر عام پر نہیں آیا اور انتہائی معتبر ذمہ دار ذرائع کے مطابق ان کی اپنی پارٹی میں بھی کچھ ساتھی ناراض دکھائی دے رہے ہیں لیکن صورتحال بڑی دلچسپ ہے ممتاز ٹمن کا حالیہ بیان جس سے انہوں نے پھر تردید بھی کروائی جبکہ ملک سلیم اقبال گروپ نے ملک فلک شیر اعوان کو میدان میں اتارنے کا مطالبہ کیا ہوا ہے پی پی 23کے ارکان اسمبلی سردارذوالفقار دولہ بھی خاموش دکھائی دے رہے ہیں جبکہ ملک شہریار اعوان ملک سلیم گروپ کے حامی ہیں ایکٹو ہیں لیکن وہ بھی میڈیا کی نظروں سے دور دور رہنے لگے ہیں اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو آمدہ الیکشن 2018ء میں بڑی اہم تبدیلیاں رونما ہونگی بلکہ اس سے قبل ہونے کا بھی امکان خطرے سے خالی نہیں اس وقت جو موجودہ صورتحال ہے مسلم لیگ (ق) کے رہنما حافظ عمار یاسر تلہ گنگ ہی نہیں لاوہ میں بھی ایک مقبول شخصیت ہیں اور بلدیاتی انتخابات میں عوام نے ان سے خوب بدلہ چکایا ہے تلہ گنگ کی باشعور پڑھی لکھی سوج بوجھ کے مالک اب ان کو پہچان چکی ہے اگر حلقہ این اے 60 پر نظر ڈالی جائے تو اس کی بھی صورتحال بالکل برعکس جا رہی ہے سردار غلام عباس کا مخالف ووٹ پی ٹی آئی سیٹ آسانی سے نکال سکتا ہے اگر (ق) لیگ تلہ گنگ اور لاوہ میں پی ٹی آئی کی اکثریت دن بدن بڑھتی نظر آرہی ہے جس سے فائدہ سردار منصور حیات ٹمن کو پہنچ سکتا ہے اور حلقہ این اے 60 میں اگر پی ٹی آئی (ق) لیگ اتحاد کر لیتے ہیں تو بالکل آسانی سے پی ٹی آئی سیٹ اپنے نام کر سکتی ہے اور (ن) لیگ کیلئے خطرے کی گھنٹی بجنا شروع ہو گئی ہے حالانکہ اگر دیکھا جائے تو مسلم لیگ حلقہ این اے 60 (ن) لیگ کا گڑھ سمجھا جاتا تھا مگر ان کی آپس کی لڑائی اور عوام کے مسائل حل نہ کروانے عدم دلچسپی خود بھی ڈوبے اور مسلم لیگ کا ایک نظریاتی ووٹ بینک بھی ضائع کیا اور بلدیاتی الیکشن کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ عوام کا موڈ بدلا بدلا نظر آرہا ہے لیکن سیاست میں کوئی حرف آخر نہیں ہوتا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے یہ آنیوالا وقت ہی بتائے گا۔

تبصرے

شیئر کریں

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں