کیا کیا واقعات رونما نہ ہوئے لیکن کسی نے نوٹس نہ لیا کیوں۔۔۔

0
172

talagang news

تحریر ارسلان احمد ملک۔۔ معزز قارئین اور غیور عوام گزشتہ روز میں نے آپ کی خدمت میں چند نام نہاد صحافیوں نالائقوں کے بارے میں آپ کو آگاہ کیا تھا اور میں اپنی تحریروں میں آگاہ کرتا رہا حتیٰ کہ میں نے اور میرے بھائی شہزاد نے حالات و واقعات بھانپتے ہوئے ان کو یہ بھی آفر کر دی کہ آپ ایک ہو جائیں آپ عوام کے مسائل اجاگر کریں یہ وڈیروں کے آستانوں اور پالشی خبروں سے باز رہیں تو ہم آپ کے دفاتر میں جھاڑو دینے کیلئے تیار ہیں آج بھی میں اس بات پر قائم و دائم ہوں معزز قارئین اور میرے غیور عوام جس ملک کا میڈیا طاقتور ہو گا جس شہر کا میڈیا طاقتور ہو گا وہ عوام بھی خوشحال ہونگے اور شہر بھی ترقی یافتہ ہو گادسمبر 2010ء سے میں نے اس تحریک کا اٹک سے آغاز کیا ایک سال گزر جانے کے باوجود چند صحافیوں کے کہنے پر میں نے تلہ گنگ سے آغاز کیا اس دوران مجھے جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا میں نے اپنی قوم سے وعدہ کیا تھا میں ایک انچ پیچھے بھی نہیں ہٹا اور انشاء اللہ نہ ہٹوں گا نہ میں صحافی ہوں اور نہ میرا بھائی صحافی ہے ہماری صحافت سے کوئی دلچسپی نہیں ہاں یہ بات ضرور ہے کہ صحافت کے تمام قوانین سے بخوبی واقف ہیں میں نے ہمیشہ کوشش کی ہے اور شہزاد نے بھی کوشش کی ہے کہ حق اور سچ لکھا جائے اور عوام کے مسائل صرف شائع ہی نہ کئے جائیں بلکہ متعلقہ انتظامیہ تک پہنچائے جائیں اپنی تحریروں میں لاتعداد مسائل حل کئے اگر میں انگلیوں پر گننا شروع کروں تو وہ ختم نہیں ہوتے یہ اللہ پاک کا کرم اور آپ کی دعاؤں کا نتیجہ ہے ان نام نہاد صحافیوں نے جس طرح 2010ء سے لیکر آج تک تلہ گنگ کے سیاستدان آپس میں نوراکشتی کر رہے تھے اور پھر یہ بھی اسی طرح نورا کشتی کر رہے تھے تلہ گنگ ٹائمز اور وائس آف تلہ گنگ ڈیلی تلہ گنگ نیوز اگر خبریں شائع کر سکتا ہے تو یہ کیوں نہیں کر سکتے اس دوران کیا کیا واقعات ہوئے جس سے ظلم بھی شرما گیا میرا آبائی گاؤں ڈھوک پھلی ہے ڈھوک پھلی میں ایک سانحہ ہوا وہاں میرے دور کے رشتہ دار تھے وہ بھی میں نے شائع کیا کیونکہ یہاں اگر ہم یاری دوستی شروع کر دیں تو ہر بات کا مطلب فوت ہو جاتا ہے اب ان چند نام نہاد صحافیوں نے یوسی چےئرمین رانا عظمت نے 60 آدمیوں کے ہمراہ تھانہ ٹمن پر دھاوا بولا پولیس کی مار کٹائی کی رابعہ یاسین کیس کو دبا دیا گیا دو بچیاں زہریلی پاپڑ کھا کر اللہ کو پیاری ہو گئیں دو ننھے منھے معصوم بچے گٹر میں گر کر اللہ کو پیارے ہو گئے،تلہ گنگ میں صحافیوں نے پولیس کے گلوں میں مفلر ڈال کر مارنے کی کوشش کی تو سفارشیوں کی لائنیں لگ گئیں جھاٹلہ میں بجلی کی وجہ سے ایک گھر اجڑ گیا، رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں ٹمن روڈ بلاک کر دیا گیا، بین الصوبائی شاہراہ کو بند کر دیا گیا دندہ شاہ بلاول شہریوں نے واپڈا کیخلاف پرامن احتجاج کیا آج بھی تلہ گنگ میں اسسٹنٹ کمشنر موجود نہیں تلہ گنگ میں 72 گھنٹے بجلی بند رہی، میرے خلاف مقدمات ایڈیشنل اینڈ سیشن جج تلہ گنگ میں دائر کئے گئے، میری والدہ ماجدہ اور میرے خاندان کیخلاف بے بنیاد جھوٹی من گھڑت 20 سال پرانی ایف آئی آر فیس بک پر ڈالی گئی جبکہ ان کے فیصلے ہو چکے تھے رکاوٹیں کھڑی کی گئیں میری پروفائل جعلی آئی ڈی بنائی گئی میرا جعلی بیان پریس فورم میں جاری کیا گیاجس کا میرے فرشتوں کو بھی علم نہیں تھا ان نام نہاد صحافیوں کے بارے میں کیا کیا آپ کو بتاؤں ان نام نہاد صحافیوں نے آج تک کسی علاقے میں کھلی کچہری کا انعقاد کیوں نہیں کیا عوام کے مسائل کیوں نہیں سنے آج بھی تلہ گنگ ویرانی کا نمونہ پیش کر رہا ہے یقین کریں مجھے تلہ گنگ دیکھ کر رونا آتا ہے اور لاوہ کی بھی یہی صورتحال ہے اس حلقہ میں جدید ترقیاتی دور میں بھی ایسے پسماندہ ترین علاقے ہیں جہاں بنیادی ضروریات زندگی نہیں ان صحافیوں سے میرا یہ سوال ہے کہ اگر تلہ گنگ ٹائم وائس آف تلہ گنگ ڈیلی تلہ گنگ نیوز لکھ سکتا ہے تو آپ کیوں نہیں لکھ سکتے یہ سوال میں ان پر چھوڑتا ہوں۔لکھنے کو تو بہت کچھ ہے لیکن عوام کو پڑھنے میں دشواری، کل تک اجازت دیجئے۔

تبصرے

شیئر کریں

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں