پسماندہ یونین کونسل کے دو دیہات ترقی میں آگے۔۔۔۔

0
95
we1اسلام آباد( شہزاد احمد ملک) یونین کونسل میرا شریف کا گاؤں نکہ کلاں کے عوام کو سلیوٹ و سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے اپنی طاقت کے بل بوتے پر تھوڑے سے عرصے میں ترقیاتی کام کروائے مجھ سے رہا نہ گیا کہ میں داد نہ دوں اس کی وجوہات جب میں نے تلاش کیں کہ آخر نکہ کلاں یا توت پس منظر کیوں رہا اس کی سب سے بڑی وجوہات جو سامنے آئی ہیں کہ اس یونین کونسل کا فنڈ آستین کا سانپ کھا جاتا تھا عوام دیکھتے رہ جاتے تھے اور دوسری وجہ یہ تھی کہ آپس کی دشمنیوں کی وجہ سے علاقہ پسماندہ رہ گیا تھا لیکن عوام نے اپنی آمدہ نسلوں کیلئے دشمنیاں بھلا کر ایک دوسرے کو گلے لگایا اور ترقی کی بنیادی ڈال دی اور میرا شریف کے آستین کے خلاف ڈٹ گئے کہ اب تمہیں فنڈ نہیں کھانے دینگے کارپٹ روڈ بھی بنوا لیا واٹر سپلائی سکیم بھی آج اس گاؤں میں ہر گھر پانی موجود ہے بجلی موجود ہے لیڈروں کو بھی کھری کھری سنا دیں کہ ووٹ تب ملیں گے کام کی گارنٹی دو گے اور لکھ کر دو گے آج اگر میں نے نکہ کلاں کا گزشتہ ماہ دورہ کیا میری عقل دنگ رہ گئی اور مزید ترقیاتی کام جاری ہیں اور نکہ کلاں کویہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ رفیق اینڈ حبیب کمپنی جو سو ابوبکر بلاک میں ہیڈ آفس واقع ہے وہاں کے مرحوم کمپنی کے مالک سے مدرسہ قائم کروایا جس سے آج بھی بچے اور بچیاں دینی تعلیم حاصل کر رہی ہیں مگر میرا شریف کو آستین کے سانپ نے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے اور نکہ توت مزید ترقی کی طرف گامزن ہے میں یہ دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر انہوں نے یہی اتفاق رکھا تو یہ تھوڑے عرصے میں ماڈل سٹی بن جائے گا۔نکہ توت کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے ایکا کر رکھا ہے کہ یہاں سے کوئی فیکٹری کا ٹرک یا او جی ڈی سی ایل کا ٹریلر نہیں گزرے گا کیونکہ وہ بھتہ نہیں لیتے آستین کا سانپ بھتہ لیتا ہے جس کی وجہ سے میرا شریف تباہ و برباد ہو گیا۔

تبصرے

شیئر کریں

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں