پچنند، سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں ہزاروں پروانوں کی شرکت۔۔۔

0
68
we3لاوہ(تحصیل رپورٹر) پچنند ،پانچویں سالانہ ختم نبوت ﷺ کانفرنس کا انعقاد، عاشقان پیغمبرﷺ کے ہزاروں پروانوں کی شرکت، ملک بھر سے علماء کرام نے حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت کو قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کیا۔کوئی غلط فہمی میں نہ رہے ختم نبوت سمیت اہم اسلامی معاملات پر ہم مسلکی اختلاف بالائے طاق رکھ کر متحد ہیں، حکومت ملک میں اسلامی قانون نافظ کرے تاکہ دہشتگری و فرقہ واریت کی لعنت سے جان چھوٹے، ملک کی سرحدوں کی حفاظت کیلئے پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں کسی قسم کی آنچ نہیں آنے دیں گے علمائے کرام کا عزم۔علاقہ بھر کی سیاسی وسماجی شخصیات اور پریس کلب تلہ گنگ و لاوہ کی شرکت۔ تفصیلات کے مطابق پچنند میں پانچویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس پوری آب و تاب کے ساتھ منعقد کی گئی جس میں ایک اندازے کے مطابق 30 ہزار افراد نے شرکت کی اور ملک بھر سے نامور علمائے کرام نے حضور نبی کریم ﷺ کی شان و عظمت اور ختم نبوت کے عنوان پر مفصل و مدلل گفتگو فرمائی۔ قابل ذکر علمائے کرام میں شاہین ختم نبوت مولنا اﷲ وسایا، مولانا عبدالکریم ندیم صاحب، مولانا محمد امجد خان صاحب، مولانا احسان احمد ، مولانا محمد سیف اﷲ قادری،مولاناسید محمد کفیل بخاری شاہ، مولاناصاحبزادہ خواجہ خلیل احمد صاحب ، مولانا مفتی محمد حسن ، مولانا عبدالقدوس نقشبندی، مولانا عبید الرحمن انور، مفتی اسدمحمود،مولانا محمد اشرف غزنی، مفتی آصف محمود، مفتی تنویر احمد ڈھرنال، مولانا حنیف صابر، مفتی شیرخان، مفتی عنایت اﷲ، مولانا نورمحمد آصف ٹمن، قاری نورمحمد، مولاناعمر فاروق بن حافظ جی، مولانا شفیق، مولانا قاسم، سمیت تحصیل تلہ گنگ،لاوہ، میانوالی چکوال،کلرکہار کے علمائے کرام نے شرکت کی۔علمائے کرام نے ہزاروں کے مجمع میں واضح کیا کہ کوئی غلط فہمی میں نہ رہے دفاع اسلام و پاکستان کیلئے تمام علماء و عوام متحد ہیں اور اسلام و پاکستان کیلئے اکابر علماء نے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کیا ہم بھی اکابرین کی اتباع میں اسلام اور ملک کی حفاظت کیلئے بڑی سے بڑی قربانی دینے کو تیار ہیں۔ختم نبوت کے خوبصور عنوان پر علمائے کرام نے قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل گفتگو فرماکر سامعین کے ایمان کی حد میں بے پناہ اضافہ کیا،علاوہ ازیں کانفرنس میں علاقہ بھر کی سیاسی و سماجی شخصیات اور صحافی برادری نے شرکت کی ۔پولیس و انتظامیہ نے نظم و ضبط برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔شرکاء کانفرنس کیلئے ٹھنڈے پانی اور پنکھوں کا وافر بندو بست تھا۔کانفرنس کا آغاز و اختتام مقررہ اوقات پر ہی رہا اور انتظامی امور اپنی مثال آپ ہیں۔

تبصرے

شیئر کریں

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں