شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین تلہ گنگ کے عوام ۔۔۔

0
96

1

اسلام آباد( ارسلان احمد ملک) تلہ گنگ شہر و گردونواح کی میں نے جب گزشتہ دنوں صورتحال دیکھی تو میری عقل نے کام کرنا چھوڑ دیا تلہ گنگ شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین اور بین الصوبائی شاہراہ پر واقع خوبصورت ترین شہر جو کاروباری سیاسی اعتبار سے بھی سب سے آگے ہے مگر عوام مسائل کے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں آخر وجوہات تو مجھے پتہ ہی تھیں لیکن میں نے تحقیقات کا آغاز کیا کہ آیا میرے شہر کے وارث کہاں گم ہیں اور تلہ گنگ کا میڈیا کہاں ہے اور کہاں تک میڈیا اپنے فرائض پورے کر رہا ہے میں دو دن تلہ گنگ رہا اس کے بعد دیگر علاقوں میں نکل پڑا ان کی جب میں نے حالت دیکھی عوام جہالت اور مفلسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں لیڈروں کو اتنی توفیق نہیں کہ وہ صرف واپڈا کے ایس ڈی او کو یہ کہہ دیں کہ جناب یہ بیس ہزار لیں اور ہر صارف کے بل کیساتھ شیڈول بھی ٹائپ کرکے بل کیساتھ ارسال کر دیں جس بیس ہزار کا میں نے ذکر کیا وہ بیس ہزار ٹائپنگ شیڈول کے ہیں معزز قارئین اور غیور عوام میں آپ کو حلفا اقرار کرتا ہوں کہ میری کسی سے کوئی ذاتی عداوت نہیں ہے اور نہ ہی میری کسی کیساتھ دشمنی ہے اگر دشمنی ہے بھی تو وہ صرف عوام کی خاطر ہے تلہ گنگ میں سب سے بڑا بگاڑ جو شروع ہوا وہ تلہ گنگ کے چند نام نہاد صحافیوں کی وجہ سے ہے خود بھی کچھ نہیں کرتے اور پروفیشنل اور ذمہ دار صحافیوں کیلئے بھی بہت بڑی رکاوٹ ہیں صحافت کی آڑ میں چھپ کر کوئی ایزی لوڈ کر رہا ہے کوئی ٹیکے لگا رہا ہے اور صحافت کی آڑ میں چھپ کر ان کو اور کاروبار نظر نہیں آیا صد افسوس اگر میرے اختیار میں بات ہوتی اگر ایک دن مجھے حکومت مل جاتی تو میں تلہ گنگ کے ان نام نہاد صحافیوں کی سب سے پہلے چھٹی کرواتا پاکستان میں نامور وہ صحافی بھی تو ہیں جو دھماکوں میں بھی اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں اور ہاتھ میں قلم اور کیمرہ لیکن ان کو کیوں یہ مسائل نظر نہیں آتے آج بھی تلہ گنگ کے اندرون شہر کی حالت جب میں نے دیکھی تو ننانوے فیصد سڑکیں تباہ تھیں جگہ جگہ گڑھے سیاستدانوں نے بھی ستیاناس کرکے رکھ دیا معزز قارئین ایک بات میں واضح کر دوں جس ملک کا جس شہر کا میڈیا طاقتور ہو گا وہ شہر بھی ترقی کرے گا اس کے عوام بھی خوشحال ہونگے مگر تلہ گنگ میں تو گنگا الٹی بہہ رہی ہے مجھے افسوس اس بات کا ہے کہ یہ آخر تلہ گنگ کے عوام کیساتھ کیوں دھوکہ کر رہے ہیں ان کی آخر دشمنی کیا ہے میری تحقیقات کے مطابق انتظامیہ سے اپنے کام نکلواتے ہیں اور لیڈروں سے جھک کر ان سے ڈرتے ہیں یہ عوام کے ہی نہیں بلکہ قومی اخبارات سے جو منسلک ہیں قومی اخبارات کے بھی مجرم ہیں اور چند لوکل نیوزپیپرز نے تو اپنی ایڑھی چوٹی کا زور لگاتے ہیں لیکن نام نہاد صحافی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ ہرلوکل اخبار کسی نہ کسی پارٹی کیساتھ جڑا ہوتا ہے اور لمبے لمبے سودے بھی ہوتے ہیں خفیہ مقامات پر اشتہارات کی مد میں بھی عوام کو دھوکہ دیا جاتا ہے میں ان سے آج اپیل کر رہا ہوں کہ خدارا عوام کیلئے اپنا قلم وقف کر دیں ورنہ قلم تو میرا چھ سالوں سے جو اٹھا ہوا ہے اب وقت بہت قریب ہے کہ آپ کی چھٹی ہو جائیگی۔

تبصرے

شیئر کریں

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں