چکوال پولیس بے خبر لاپروائی کی بھی انتہاہ علاقہ بے بڑی تباہی سے بچ گیا۔۔۔

0
63

1

اسلام آباد (شہزاد احمدملک) سول ڈیفنس اور حساس اداروں کی مشترکہ کاروائی چکوال کی تحصیل کلر کہار کے علاقہ نیلا کے جنگل بیبان سے غیر قانون طور پر دھماکا خیز مواد تیار کرنے والی فیکٹری کو پکڑ لیا گیا جبکہ چکوال پولیس انتظامیہ بے خبر سول ڈیفنس اور حساس اداروں کی کاروائی ایک ٹن چودہ من 8کلو دھماکا خیز مواد جبکہ چار ٹن بارودی مواد جن میں سات بوریوں میں سلفر وزن 375کلوگرام کوئلہ کی ایک بوری وزن تیس کلو گرام تیارہ شدہ بارود کی 45بوریاں وزن 1595کلو گرام سوڈیم نائٹریٹ کی 42بوریاں وزن 2030کلو گرام پوٹاشیم دو بوریاں وزن 50کلو گرام اور دیگر موادبرآمد ہوا ہے فیکٹری ویران جنگل میں خفیہ طورپر بنائی گئی تھی جوکئی سالوں سے کام کر رہی تھی جہاں موبائل فون سسٹم جام کر نیو الے آلے لگائے گئے تھے بم ڈسپوزل سکوارڈٖ سول ٖڈیفنس کے ضلعی افیسر نے آپریشن کی نگرانی کی اور انتہائی حفاظت سے بارود تھانہ کلر کہار میں پہنچا دیا فیکٹر ی کے اونرزمحمد اقبال ساکن خوشاب محمد احسان کا تعلق بھی خوشاب سے ہے ان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ محمد ایوب محمد رمضان عابد حسین اور ایک نا معلوم ملازم مو قع پر موجود نہ ہونے کی وجہ سے گرفتاری نہیں ہو سکی گرفتار ملازمان نے بتایا ابتدائی رپورٹ میں بتایا ہم گذشتہ تین سالوں سے یہاں پر ملازم ہیں اور بارود بنانے کا کام کر رہے ہیں جس کو علاقہ میں غیر قانون فیکٹری قائم تھی اور اس کے گرد نواح پولیس کے دو اہم دفاتر تھانہ کلر کہار اور پولیس چوکی بوچھال کلاں واقع ہے عوامی اور سماجی حلقوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ ہمارے علاقے میں اس قدر تباہ خیز مواد صرف تیار ہو تا رہا بلکہ ٹنوں کے حساب سے زخیرہ بھی تھا مگر پولیس انتظامیہ بے خبر رہی وزیراعلیٰ پنجاب آئی جی پنجاب سے انکواری کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا بہت سے خفیہ ہاتھ بے نقاب ہو سکتے ہیں پولیس نے ملازمان کے خلاف پانچ ایکسپلوسوز ایکٹ 1908اورت ایکسپلوسوزایکٹ2010کے چار دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے ڈیلی تلہ گنگ نیوز کے مطابق علاقہ میں خوف ہراساں تفتیش کا دائرہ بھی وسیع کر دیا گیا ہے یہ افسوس ناک خبر ڈیلی تلہ گنگ نیوز کو کئی گھنٹے اپنے ذرائع سے موصول ہوئی تھی تصدیق کر نے کے بعد شائع کی جا رہی ہے ۔

تبصرے

شیئر کریں

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں