بظاہر ماڈرن ویلج ۔۔۔حقیقتاً علاقہ بھر کا خستہ حال قصبہ

0
458

1

تحریر: *حفیظ اﷲ ملک Cell No:0303-7492567
قارئین! دندہ شاہ بلاول جوکہ تحصیل لاوہ ضلع چکوال کا ایک نامی گرامی ویلج ہے اس کی اہمیت و افادیت سے کون واقف نہیں۔سادات ہمدانیہ کا علاقہ ہونے کے ناطے دندہ شاہ بلاول ملک و بیرون ملک سے سینکڑوں بلکہ ہزاروں مریدین و معتقدین کو اپنی طرف کھینچ لاتا ہے۔یہاں سے بڑوں بڑوں کو ” فیض ” ملتا ہے مگر قارئین یہاں کے مکینوں کو ” بڑوں” (سیاسیوں،حکمرانوں) سے فیض ملنا محال بلکہ ناممکنات میں سے ہے ۔قارئین دندہ شاہ بلاول کی بڑی بڑی سہولیات کا ذکر کرنا چاہوں گا جن میں سے پانچ درج ذیل ہیں: 1 یہاں کے نوجوانوں کیلئے چلکو سٹیڈیم موجود ہے۔2 :یہاں بڑی بڑی گلیاں اور کھیتوں و کھلانوں تک کارپٹ روڈ موجود ہیں۔3 :یہاں فوجی فاؤنڈیشن ہسپتال موجود ہے۔ 4 :یہاں کی بچیوں کیلئے فنی و دستکاری تعلیم کیلئے دلکش عمارت موجود ہے۔۔۔اب نمبر پہلے نمبر کی تفصیل میں جائیں گے دندہ شاہ بلاول چوک سے چند میل فاصلے پر چلکو سٹیڈیم موجود ہے ۔۔۔۔ لیکن جیسے گاڑی کا موجود ہونا مگر قابل استعمال نہ ہونا، موجود ہونا مگر سہولیات سے محروم ہونا موجود ہونا مگر تکلیف اور پریشانی کا باعث بننا ۔۔۔ بالکل اسی طرح سٹیڈیم موجود ہے مگر گول دائرے کی شکل میں گراؤنڈ نہیں بلکہ زگ زیگ شکل میں ہے جہاں کرکٹ، فٹبال نہیں کھیلا جاسکتا ، یہاں گھاس نہیں لگائی گئی۔یہاں پانی کی سہولت میسر نہیں ہے یہاں بلڈنگ خستہ حال ہے اور گر رہی ہے یہاں بلڈنگ کے دروازے لوگ اٹھا کے لے جا رہے ہیں مگر کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔۔۔دوسرے نمبر پر یہاں بڑی بڑی گلیاں ہیں اور کھیتوں کھلانوں تک پکی سڑ کیں ہیں مگرعام آدمی انہیں استعمال کرنے سے قاصر ہے کیونکہ یہاں سیاسی گھرانے خواہ کسی بھی سیاسی پارٹی سے وابستہ ہوں حکومتی فنڈز کی گٹھ جوڑ کرکے اپنے اپنے ڈیروں اورکھیتوں و کھلانوں تک سڑکیں بنوا چکے جبکہ ایک عام شہری جو سفید پوشی میں شمار نہیں ہوتا انتہائی خستہ حال،بدبودار اور کچی گلی سے گزرنے پر مجبور ہے۔یہاں کے ” وڈیرے”اپنے کھیتوں تک بھی حکومتی فنڈز سے بنائی گئی پکی سڑک سے گزر کرجاتے ہیں جبکہ عام آدمی گھر کی چاردیواری سے نکلتے ہی دلدل میں پھنس جاتا ہے۔ دندہ شاہ بلاول کی اکثریتی اور پرانی آبادیوں میں گلیاں کھنڈرات کا منظر پیش کررہی ہیں لوگ اپنی اپنی سواریاں گلیوں سے باہر کھڑی کرنے پر مجبور ہیں۔کئی طلباء و طالبات صبح سکول جاتے ہوئے اپنے کپڑے اور جوتیاں کچی گلیوں کے گند کی وجہ سے خراب کر جاتے ہیں۔دندہ شاہ بلاول مین بازار اور ظاہری راستوں کو پختہ کرکے اسے ماڈرن ویلج کا نام دیا گیا جبکہ دیکھا جائے تو 60% آبادی پینے کے تازہ اور صاف پانی اور پکی گلی سے محروم ہے۔ ۔۔۔تیسرے نمبر پر یہاں فوجی فاؤنڈیشن ہسپتال موجود ہے (تھا) جہاں تلہ گنگ میانوالی 100 کلومیٹر کے میں چوبیس گھنٹوں میں سفر کے دوران اگر کوئی روڈحادثہ پیش آجاتا تو متاثرین کو بہترین طبی سہولت اور بنیادی ٹریٹمنٹ دستیاب ہوتی جس سے سینکڑوں اور ہزاروں زخمی افراد کی جانیں بچ جاتیں مگر اب یہ ہسپتال ” ہیلتھ ڈے سنٹر” میں تبدیل کرکے صبح سات،آٹھ تا ایک ،دو بجے تک کھلا رہتا ہے اور اس دوران بھی بہت کم لوگوں کو بنیادی ٹریٹمنٹ کا استفادہ حاصل ہوپا تا ہے کیونکہ ہسپتال میں لیابرٹری اور ریٹائرڈ فوجی اور ان کی فیملی کیلئے بنائے گئے وہ کمرے جہاں مریض داخل ہو سکتے تھے وہاں فوجی فاؤنڈیشن ماڈل سکول بنا دیا گیا ہے۔۔۔۔اور یوں ہسپتال میں سابقہ سہولیات کا فقدان ہے۔حادثہ کے فوراً بعد یہاں لائے جانے والے مریض تلہ گنگ اور راولپنڈی ریفر کر دئے جاتے ہیں جو راستے میں ہی جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔۔۔
چوتھے نمبر پر یہاں دستکاری تعلیم کیلئے بنائی گئی دلکش عمارت ہے۔۔۔۔ مگر عمارت کے اندر مطلوبہ سامان نہیں ہے اور عمارت اپنا رونا رو رہی ہے جسے کئی سالوں سے لاوارث چھوڑ دیا گیا ہے۔یہاں سانپوں،بچھوؤں ، کیڑے مکوڑوں اور آوارہ کتوں کی رہائش گاہیں تو ہیں مگردندہ شاہ بلاول کی بچیاں فنی اور دستکاری تعلیم کے حصول کیلئے لاوہ، تلہ گنگ یا دور دراز جانے پر مجبور ہیں۔اس تمام ابتر صورتحال سے ستائے عوام نے اراکین اسمبلی کی ناہلی کے خلاف سخت رد عمل ظاہر کیا ہے اوزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ دندہ شاہ بلاول کی موجودہ صورتحال پر رحم کھائیں اور ماڈرن ویلج کی درج کردہ پانچ خستہ حال سہولیات کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے اورتمام سہولیات کو ماڈریٹ کرکے یہاں بسنے والے ایک ایک شہری کو چا ہے وہ اہل سادات ہوں یا کسی نچلی قوم سے، حکمران جماعت کے کارکن ہوں یا اپوزیشن جماعت سے وابستہ سب کو برابر مستفید کیا جائے۔سابقہ دو ادوار یعنی مشرف کا آٹھ سالہ دور اقتدار، پی پی پی کے پانچ سالہ دور حکومت میں علاقہ کے مقامی نمائندوں کو ملنے والے فنڈز اور موجودہ حکومت کی طر ف سے دئے گئے فنڈز کامقامی نمائندوں ،سیاسی وڈیروں سے احتساب کیا جائے کہ کیا مہیا کیا گیا فنڈز وہیں پر لگا ہے جہاں اس کی ضرورت تھی یا عوام کا حق کسی اور کی جیب میں ڈال کر اگلے الیکشن کیلئے راستہ ہموار کیا گیا ہے۔۔۔۔اﷲ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔خدا حافظ

تبصرے

شیئر کریں

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں