چکوال پولیس کی غفلت و لاپرواہی، قصبہ نیلہ واہن ۔۔۔

0
51

02

اسلام آباد( ارسلان احمد ملک) ضلعی پولیس انتظامیہ کی غفلت، لاپرواہی، عوام کی جان و مال کی کیاحفاظت کرے گی جس کو یہ پتہ نہ لگ سکا کہ قصبہ نیلہ واہن میں تین سال سے قائم فیکٹری جس سے تین من بارود اور دیگر سامان برآمد ہوا حیرت کی بات یہ ہے کہ کے قرب و جوار میں تھانہ کلر کہار اور اس کی چوکی بھی موجود تھی تین سالوں سے خوشاب سے تعلق رکھنے والے اس فیکٹری کو دھڑلے سے چلا رہے تھے ڈیفنس اور حساس اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے پکڑ لیا ضلعی انتظامیہ پولیس تحصیل کلرکہار کی پولیس انتظامیہ کی ڈیوٹی آخر کیا ہے صرف سیاستدانوں کے سیر سپاٹے یا سیاستدانوں کے دھرنوں کو روکنے یا حکومت کے ناجائز احکامات کو ماننے تک محدود ہے یہ فیکٹری ذرائع کے مطابق تین سالوں سے چل رہی تھی اور اس کے گردونواح میں موبائل جام کے آلات بھی نصب تھے ابتدائی رپورٹ میں ملزمان نے انکشاف کیا کہ ہم یہ تین سالوں سے یہاں کام کر رہے ہیں میں حساس اداروں اور ڈیفنس اداروں کے اعلیٰ افسران کو سلام اور سلیوٹ پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تحصیل کلرکہار ضلع چکوال اور دیگر علاقوں میں ایک بڑی تباہی سے بچا لیا مگر صد افسوس کہ پولیس کہاں تین سال گم رہی آخر یہ کس چیز کی تنخواہ لیتے ہیں مراعات بھی ان کے پاس ہیں اور گاڑیاں بھی وی آئی پی ہیں اور حیرت کی بات یہ بھی ہے کہ یہ صرف لیڈروں کے پروٹوکول کی ڈیوٹیاں دینے اور آمدہ الیکشن کے جوڑ توڑ میں مصروف رہے تین سال بہت بڑا عرصہ ہوتا ہے اب بھی اس علاقے میں شدید خوف و غصے کا اظہار پایا جا رہا ہے بوچھاں کلاں کے عوام شدید پریشانی کے عالم میں ہیں۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق ملزمان کا ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے جبکہ دیگر ملزمان پکڑنے کیلئے ٹیمیں تشکیل دیدی گئی ہیں اور خوشاب سے تعلق رکھنے والے آخر چکوال میں کیسے داخل ہوئے اور تین سال سے بارودی مواد اور دھماکوں میں استعمال ہونیوالا سازوسامان یہ ضلعی پولیس انتظامیہ اور لیڈروں کیلئے بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

تبصرے

شیئر کریں

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں