تلہ گنگ لاوہ اور اس کے متعلقہ علاقوں کی پسماندگی اور بڑھتے ہوئے مسائل۔۔۔

0
68
banuاسلام آباد( ارسلان احمد ملک) چند نام نہاد صحافیوں نے تلہ گنگ شہر و گردونواح کا ستیاناس کرکے رکھ دیا مسائل اجاگر کرنے میں تکلیف ہوتی ہے آخر یہ کس مرض کی دوا ہیں تلہ گنگ شہر کے اندرون میں شہر کی حالت اتنی ابتر ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے یہ کوئی صدیوں پرانا شہر ہے تحصیل تلہ گنگ ضلع اٹک کی تحصیل جس کو 1985ء میں چکوال کیساتھ منسلک کیا گیا حالانکہ کاروباری اعتبار اور سیاسی اعتبار سے بہت آگے ہے تلہ گنگ شہیدوں اور غازیوں کا شہر ایک تاریخی شہر ہونے کے باوجود اور تلہ گنگ کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ بین الصوبائی شاہراہ خیبر تک کراچی جانیوالے روڈ پر واقع ہے خوبصورت شہر جس کا اقتدار میں رہنے والے سیاستدانوں اور انتظامیہ کے ساتھ ساتھ چند نام نہاد صحافیوں کی عدم توجہی نے تباہ کر دیا حالانکہ یہاں سے تقریباً دس بارہ لوکل نیوزپیپر بھی شائع ہوتے ہیں لیکن میڈیا کے چند نام نہاد صحافی اپنے اخبار کو طول دینے کیلئے قومی اخبارات سے خبریں چھپاتے ہیں اور اپنے لوکل اخبار کو کاروبار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جس کا تلہ گنگ کی تباہی میں پورا ہاتھ ہے سارا دن اشتہارات کے پیچھے بھاگنے میں مصروف رہتے ہیں لیکن تلہ گنگ شہر کے عوام کے مسائل سے ان کو کوئی سروکار نہیں آخر کیوں یہ تلہ گنگ اپنا ہی تو ہے اس کو کسی غیر ملک نے تو خوبصورت شہر نہیں بنانا ہم نے ہی اس کو بنانا ہے ہم نے ہی اس کو سنوارنا ہے اتنی توفیق نہیں کہ انتظامیہ سے تلہ گنگ شہر کے مسائل کے بارے میں بات چیت کریں یا لیڈروں کو مسائل کے بارے میں آگاہ کریں لیکن ایسا کرنے سے ان کو تکلیف ہوتی ہے اپنے دفاتر میں ایسے سجا کر رکھا ہوا ہے جیسے کوئی پنساری اپنی دکان کو سجا کر رکھتا ہے کہ ہر آنیوالے کی نظر پڑے۔ چند نام نہاد صحافیوں میں نے آپ کو کہا تھا آج پھر کہہ رہا ہوں کہتا رہوں گا کہ ایک ہو جاؤ آپ کی دشمنی کس بات پر ہے میں سمجھتا ہوں کہ جب آپ اپنے آپ کو اخبار کی وساطت سے مشہور کرتے ہیں اور پھر سیاستدان بن جاتے ہیں ہر پارٹی کیساتھ کوئی نہ کوئی جڑا ہوا ہے اگر تلہ گنگ ٹائم ڈیلی تلہ گنگ نیوز اور وائس آف تلہ گنگ لکھ سکتا ہے تو آپ کیوں نہیں لکھ سکتے کیا ساری زندگی تلہ گنگ کے عوام نے اور آمدہ نسلوں نے آپ کے ہی تابع رہنا ہے یہ لمبے لمبے سودے ختم کر دیں تو آپ کو مہربانی ہو گی آج جن دو صحافیوں نے دیدہ دلیری کیساتھ میرے بھائی شہزاد سے رابطہ کیا ہے میں ان کو خوش آمدید کہتا ہوں کہ وہ آئیں آگے بڑھیں اور تلہ گنگ کو سنواریں تلہ گنگ کے عوام کے جائز مسائل حل کروائیں نام نہاد صحافیوں اب جو میرے پاس انفارمیشن ہیں اب عوام بھی آپ سے تنگ آچکے ہیں عوام کو نہ ورغلایا جائے یہ عوام آزاد ملک میں پیدا ہوئے آزادی اس کا حق ہے اگر کسی بھی میرے معزز قاری یا غیور عوام کیخلاف تم نے خبر شائع کی اور اس کو ڈرایا دھمکایا تو پھر سمجھ لو کہ تمہارا آخری دن ہے آپ میں اتنی جرت اتنی ہمت اتنی طاقت نہیں کہ کسی لیڈر کو پکڑ کر اس سے عوام کیلئے کچھ اگلوا سکیں جھک کر سلام کرنیوالے سجدہ تو اللہ کو جائز ہے اور جھک کر سلام کرتے ہو اور مختلف مقامات پر جو تم سودے کرتے ہو میں بخوبی آگاہ ہوں۔عوام کے ہمدرد بن جاؤ اسی میں آپ کی بہتری ہے۔کیا آپ کو تلہ گنگ کے مسائل نظر نہیں آتے صرف اپنے مفادات نظر آتے ہیں خدارا کبھی عوام کے بارے میں بھی سوچا کرو اللہ بھلا کرے گا۔

تبصرے

شیئر کریں

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں