نہتے عوام پر تشدد دیکھ کر آنکھیں شرم سے جھک گئیں۔۔۔

0
259
sarاسلام آباد( ارسلان احمد ملک) محترم قارئین اور غیور عوام گزشتہ راولپنڈی میں جس قدر پنجاب پولیس نے نہتے شہریوں پر آنسو گیس اور شیلنگ کی اور پکڑ دھکڑ گرفتاریوں کا عمل تاحال جاری ہے یقین کریں کہ شرم سے آنکھیں بھی جھک گئیں کیا یہ پولیس والے نواز شریف کے ملازم ہیں جو نہتے شہریوں پر بے گناہ تشدد اور ضعیف العمر بزرگوں کو گھسیٹ رہے ہیں اور خواتین کیساتھ بھی بدتمیزی کر رہے ہیں میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں پی ٹی آئی کی طرف داری نہیں کر رہا میں سب وہی کچھ لکھ رہا ہوں جو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ظاہر ہے آپ نے بھی نجی ٹی وی چینلز پر دیکھا ہو گا تلہ گنگ میں گرفتاریاں ہوئیں لاوہ پولیس نے پی ٹی آئی اور (ق) لیگ کے کارکنوں کو گرفتار کیا اور پھر مزید گرفتاریاں اور ٹریکٹر ٹرالی جو بے چارے دیہاڑی دار ملازم ہیں ان سے پکڑ کر سڑکوں پر مٹی ڈلواتے رہے تاکہ سڑکیں بلاک رہیں میرا ایک سوال یہ ہے کہ جب لاہور ہائیکورٹ نے ایک فیصلہ دیدیا ہے ابھی دو نومبر آیا ہی نہیں تو انہوں نے گزشتہ روز سے ہی کنٹینر ٹریلرز اور رکاوٹوں سے اسلام آباد راولپنڈی کو سیل کر دیا گیا کیا نواز شریف حکومت نے ایک معزز عدالت کی توہین نہیں کی ابھی دو نومبر آیا ہی نہیں اس سے پہلے ہی انہوں نے غیر قانونی، غیر آئینی ہتھکنڈے شروع کر رکھے ہیں اور تلہ گنگ کے علاوہ اٹک پل کو بھی بند کر دیا گیا ہے کیا اسی کا نام جمہوریت ہے جمہوریت میں تو پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہوتا ہے کوئی مارشل لاء تو نہیں لگا ہوا قانون سسپنڈ نہیں ہے اصل حالت میں موجود ہے میری کوئی نواز شریف حکومت سے دشمنی نہیں نہ میری کوئی ذاتی عداوت ہے حق کی جب بات آئے تو مجھ سے رہا نہیں جاتا یہ وہی نواز شریف ہیں جنہوں نے سپریم کورٹ آف پاکستان پر حملہ کیا صدر غلام اسحاق خان نے اسمبلی توڑی تھی صدر غلام اسحاق خان تو اس دنیا میں نہیں ہیں اللہ ان کو جنت دے نہ قانون کو مانتے ہیں نہ آئین کو مانتے ہیں آپ خود فیصلہ کریں غیر جانبدار ہو کر کسی پارٹی کو مدنظر رکھ کر فیصلہ نہ کریں جب پاکستان کی ایک بڑی عدالت نے فیصلہ دیدیا ہے تو پھر کل کنٹینر رکھ کر سڑکیں بند کرنا کارکنوں کو گرفتار کرنا، سڑکیں بند کر دینا، میٹرو سروس بند کر دینا گرفتاریاں شروع کر دینا، تشدد کرنا، دو نومبر تو ابھی بہت دور ہے آپ انصاف کیجئے کہ دو نومبر تک تو ان کو انتظار کرنا چاہئے تھا اور دو تک نہ کرتے تو یکم تک کر لیتے اگر میں کہیں جھوٹ لکھ رہا ہوں تو میری رہنمائی ضرور کیجئے۔ معزز قارئین آج جب میں نے اسلام آباد کا وزٹ کیا تو یقین کریں کہ اسلام آباد دلہن کی طرح سجا ہوا تھا جگہ جگہ عمران خان کی وکٹری کے پوسٹرز لگے ہوئے تھے کل صرف راولپنڈی میں ہی نہیں ہوا یا اسلام آباد بنی گالہ میں نہیں ہوا بلکہ پاکستان کے دوسرے شہروں میں بھی ہوا جہاں تک میری رائے ہے کہ جب کسی لیڈر پر الزام لگ جائے اس کو چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو استعفیٰ دیکر اپنے آپ کو کلےئر کروانا چاہئے تو میاں برادران پر الزامات آج تو نہیں لگتے رہے کافی عرصہ سے لگتے آرہے ہیں یہ اپنے آپ کو کلےئر کیوں نہیں کرواتے جب آرمی کا معاملہ آیا تو پرویز رشید سے استعفیٰ لے لیا کہ خود کو کلےئر کر لو لیکن جہاں تک عوام کے پیسے چرانے کی بات ہے تو نواز شریف صاحب اس بارے میں خود استعفیٰ نہیں دے رہے نواز شریف صاحب ایک بات میں آپ سے ایک اور کرنا چاہتا ہوں کہ آپ پرویز مشرف کیساتھ جو معاہدہ دس سال کا کیا آپ تو ملک سے باہر چلے گئے آپ کی فیملی بھی چلی گئی اور اگر غریب کا بیٹا ایک انڈا چوری کرتے ہوئے پکڑا جائے تو اس کو سزا ملتی ہے تو غریب کیلئے بھی ایسا قانون ہونا چاہئے کہ وہ بھی معاہدہ کرکے ایک شہر سے دوسرے شہر چلا جائے تلہ گنگ شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین ہے وہ گرفتاریوں سے نہ ڈرتے ہیں وہ لڑنا بھی جانتے ہیں وہ اپنے حقوق بھی چھیننا جانتے ہیں غیور عوام حق کے لئے نکلیں گے۔

تبصرے

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں