سب نورا کشتی (ن) لیگ کے ٹکٹ کیلئے بھاگ دوڑ عوام کی ہمدردیاں کیلئے ۔۔۔

0
331
raاسلام آباد( ارسلان احمد ملک)تحصیل لاوہ کو بنے ہوئے کئی سال بیت گئے مگر تاحال ابھی تک دفاتروں سے بھی محروم، حالیہ ممتاز ٹمن اور گزشتہ شہریار اعوان کے بیان کہ وہ لاوہ کو پاکستان کا بہترین شہر بنائیں گے ویلکم ویلکم ہم آپ دونوں کو خوش آمدید کہتے ہیں اگر آپ لاوہ شہر اور اس کے دیگر موضعات جو مسائل میں جکڑے ہوئے ہیں آپ اگر یہ کام کر دیں تو ہم آپ کیلئے پھولوں کا ہار اور ایک گفٹ ڈیلی نیوز کی طرف سے پیش کریں گے کہ میرے عوام کیلئے آپ نے لاوہ کو پاکستان کے دوسرے بڑے شہروں میں داخل کر دیا لیکن اس کے برعکس جو ہم نے گزشتہ کئی سالوں سے دیکھ رہے ہیں کہ اسسٹنٹ کمشنر کی پوسٹنگ ہوئی کئی ماہ سیٹ خالی رہنے کے باوجود آخر کار محرم الحرام کے ماہ میں نئے اسسٹنٹ کمشنر کے تعیناتی کے احکامات جاری ہو گئے لیکن اتنا عرصہ آپ کیوں خاموش رہے عوام دھکے دھوڑیں تلہ گنگ اور چکوال کے کھاتے رہے احساس کیوں نہیں ہوا لاوہ کو تحصیل کا درجہ دئیے ہوئے کئی سال گزر گئے لیکن آج بھی لاوہ سرکاری دفاتر سے محروم ہے ایک شناختی کارڈ کے حصول کیلئے عوام کو تلہ گنگ یا چکوال جانا پڑتا ہے اسی طرح ڈرائیونگ لائسنس ، ڈومیسائل و دیگر زمین کے کاغذات کیلئے معزز قارئین یہ سب مفروضی باتیں ہیں یہ آپ کو ایک دفعہ پھر چکما دے رہے ہیں ٹکٹ کے حصول کیلئے ہماری ان سے کوئی ذاتی عداوت نہیں ہمارے لئے قابل احترام ہیں لیکن جہاں بات حق و سچ کی آجائے یا تو ہمیں ثبوت نکال کے دکھائیں نا کہ ہم نے یہ یہ کام کئے آج بھی لاوہ شہر کے اندرونی حالات انہوں نے نہیں دیکھے تو ہم دونوں بھائیوں نے دیکھے وہ بھی اسلام آباد سے جا کر ایک دفعہ نہیں کئی مرتبہ ہم گئے ہیں گوہل جیسا علاقہ کے عوام اپنی مدد آپ کے تحت اور اپنے لئے اور اپنے بچوں کیلئے اپنے آنیوالی نسلوں کیلئے پلیاں شدید گرمی تپتی چلاتی دھوپ میں کام کرتے ہوئے دیکھا قارئین ہوشیار رہنا ہمیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ جو بھی ایم این اے، ایم پی اے آئے لیکن ہمیں اس بات سے ضرور غرض ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کے دہلیز پر حل کرے تلہ گنگ کے علاقہ پچنند میں کرنٹ لگ جانے سے آدمی اللہ کو پیارا ہو گیا انہوں نے وہاں دعائے مغفرت کیلئے نہ جا سکے سب ٹوپی ڈرامہ ہے آپ نے اپنے لئے اپنے آنیوالی نسلوں کیلئے آئندہ کیلئے سوچنا ہے ہم نہیں کہتے کہ فلاں کو ووٹ دو فلاں کو نہ دو اپنے ضمیر کے مطابق اس امیدوار کو ووٹ دو جو آپ سمجھتے ہیں کہ حقیقی معنوں میں وہ آپ کے جائز مسائل حل کر سکتا ہو اور کرپشن سے پاک ہو دیانتدار ہو اسمبلی میں بولنا جانتا ہو اگر سردار ممتاز ٹمن کی میں بات کروں تو تین سال دس ماہ گزر گئے اسمبلی میں ایک لفظ بھی تلہ گنگ کیلئے نہ کہہ سکے کیوں عوام نے اقتدار اس لئے سونپا تھا آپ نے گزشتہ دھرنے میں دیکھا یہ مسلم لیگ (ن) اقتدار سے چمٹے ہوئے ہیں اللہ نہ کرے یہ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ جب بلوچستان والوں نے علیحدگی کا نعرہ لگایا تو ہمارے پاک افواج کے نوجوانوں سینئر افسران نے ان سے ہتھیار ڈلوائے ایک قومی دھارے پر لے آئے اگر اسی دھرنے میں کے پی کے والے یہی اعلان کر دیتے تو کیا ہوتا آپ سمجھدار ہیں سمجھ گئے ہوں گے۔

تبصرے

شیئر کریں

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں