ہم اور ہمارا پاکستان

0
461

تحریر: سعدیہ صفدر،بلوال sadafali123@gmail.com
1857ء کی جنگ آزادی کے بعد برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں نے الگ آزاد مملکت کے حصول قیام کیلئے جو خواب دیکھا اس کو شرمندہی تعبیر کرنے کیلئے انتھک محنت کے ساتھ بے شامر قربانیاں اور قرض ادا کئے۔ہمارے بزرگوں نے ہماری نسلوں کے محفوظ مستقبل کیلئے خون کے دریا پار کئے۔لاجھوں ماؤں کی گودیں اجریں ہزاروں سہاگ اجڑے ،کتنی ہی بہنوں کو بے آبرو کیا گیا کتنی بیٹیوں اور بھائیوں نے اپنی جوانیاں لوٹا دیں ان ہی بے لوث مسلمانوں کی کوششیں اور قربانیاں رنگ لائیں ۔14 اگست 1947 کو تاریخ عالم کی دوسری نظریاتی مملکت نقشہ دنیا پر ابھری ۔قائد کے مطابق ہمارا مقصد محض زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنا نہیں بلکہ اس سر زمین میں اسلام کی بالا دستی قائم کرنا ہے۔
قیام پاکستان کیلئے جن لوگوں نے قربانیاں دیں وہ عظیم مسلمان تھے،جن کیلئے زمین سے نوریان آسمان پرواز کہتے ہیں یہ خاکی زندہ تر پائندہ تر تابندہ تر نکلے۔مگر آج کا ملاحظہ فرمائیں ان ہی لوگوں کو خراج تحسین پیش کرنے کا وقت آیا تو یہ خاکی اپنے ہی وطن عزیز کی خاک کیلئے پیرا سائیٹ بن کر سامنے آ گئے۔آج اس خوابوں کی سر زمین میں مساوات عدل و انصاف اور بھائی چارے جیسی جگہ سیاسی انتشار اور مذہبی گروہ بندی نے لے لی۔ وطن عزیز کا کوئی شہر قتل و غارت سے محفوظ نہیں۔آج بھی ماؤں کی گودیں اجڑ رہی ہیں بیٹے آج بھی وطن عزیز کیلئے جوانیاں لوٹا رہے ہیں۔ہمارا بدترین دشمن بھارت ہمیں مٹانے کے در پہ ہے۔مگر افسوس کہ اس نازک وقت میں بھی ہمیں ذاتی مفادات و اختلافات کیلئے لڑنا یاد ہے۔
ان ہی کمزوریوں نے تو ہماری بنیادوں کو کھوکھلا کردیا ہے۔LOC پر براہ راست حملہ حالیہ سانحہ کوئٹہ ان ہی کمزوریوں کا نتیجہ ہے۔ میں اپنے تمام سیاسی رہنماؤں سے درخواست گزارہوں کہ خدارا حالات کو سمجھیں ۔ذاتی مفادات و اختلافات کو بھلا کر قومی مفادات پر اپنی توانائیاں صرف کریں ۔ یہ وقت بدترین دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سامنا کرنے اور اپنے شہیدوں کے لہو کو خراج تحسین پیش کرنے کا ہے۔�آج متحد و یکجا ہوکر بھارت کو بتا دیں کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں۔مانا کہ ہم میں ایمان و اتحاد کی کمی مگر تاریخ گواہ ہے کہ ہم ہر مشکل وقت میں ایک قوم بن کر سامنے آئے ہیں۔خدارا عمر بن خطابؓ کے نقش قدم کو اپنائیں ۔یہ وقت دھرنوں اور ہڑتالوں کا نہیں بلکہ لمحہ فکریہ ہے آج وقت کا تقاضا ہے کہ روح قائد سے کئے گئے عہد کو پورا کریں۔اور اس حقیقت کو جھٹلائیں :
جن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہو
نہیں جس قوم کو پرواہ نشیمن تم ہو
بجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہو
بیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہو۔ْ

تبصرے

شیئر کریں

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں