توت آئل فیلڈ کی گیارہ ہزار کے وی کھمبوں سے تار چوری۔۔۔

0
422
r4اسلام آباد(ارسلان احمد ملک) او جی ڈی سی ایل کی توت آئل فیلڈ کی گیارہ ہزار کے وی بجلی کی لائن جو او جی ڈی سی ایل کی ذاتی ملکیت ہے گربال کے مقام پر نامعلوم چور یا دہشتگردی،چور تین چار کھمبوں سے تارکاٹ کر لے گئے حیرت کی بات یہ ہے کہ گیارہ ہزار کے وی کی لائن کو نامعلوم چور تو اکیلے نہیں لے جا سکتے اس میں اتنی زیادہ کرنٹ ہوتی ہے کہ اس کے نزدیک گزرنا بھی مشکل ہوتاہے اور اسی کے ساتھ نکہ توت کو جانیوالی لائن کو کسی نے نہیں چھیڑا ڈیلی تلہ گنگ نیوز کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق محکمہ واپڈا پنڈی گھیب کے اہلکار ملوث ہونے کا بھی امکان ہے توت آئل فیلڈ انتظامیہ نے ایف آئی آردرج کروا دی کئی روز تک بجلی منقطع رہی جبکہ توت فیلڈ کی انتظامیہ نے ایمرجنسی کی صورت میں ہائی پریشر کا ٹرپلر جو متبادل بجلی مہیا کرتے ہیں ان سے کام لیا لیکن وہ بھی جواب دے گئے اور پانی کی شدید قلت کیساتھ ساتھ دیگر امور بھی ٹھپ رہ گئے ڈیلی نیوز کی تحقیقاتی ٹیم کے مطابق بجلی کا میٹر پنڈی گھیب میں لگا ہوا ہے اور اس کا فاصلہ چالیس کلومیٹر کے درمیان ہے یہ بھی ایک انوکھی بات ہے بہرحال مقامی آبادیوں کو بھی پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑا حتیٰ کہ جانوروں کو پینے کا پانی سے بھی محروم رہے ملک خضر کی ٹربائن سے عوام پانی حاصل کرتے رہے چونکہ اس نے جو کنکشن لے رکھا تھا وہ جنڈ سے لے رکھا تھا ڈیلی نیوز کی ایک اور تحقیقات کے مطابق چونے کی فیکٹریاں بھی بند کر دی گئیں تحقیقات سے پتہ چلا کہ او جی ڈی سی ایل توت انتظامیہ اور فیکٹری مالکان کے درمیان کوئی پے منٹ کا تنازعہ تھا جس کی وجہ سے توت آئل فیلڈ جو چونا فیکٹری کو گیس مہیا کر رہا تھا وہ جنگل میں چھوڑنا پڑی جس سے او جی ڈی سی ایل کو اربوں روپے نقصان سے دوچار ہونا پڑا مزید تحقیقات جاری ہیں۔ ریکارڈ کے مطابقیہ توت آئل فیلڈ او جی ڈی سی ایل کی سب سے بڑی اور سب سے پرانی فیلڈ ہے اور یہ تھانہ ٹمن کی حدود میں ہے میں حیران ہوں کہ اتنا بڑا واقعہ وہاں کے مکینوں کو پانی کی قلت اور دیگر مسائل کی وجہ سے تلہ گنگ کے چند نام نہاد صحافی بھی سوئے رہے آخر کیوں یہ کوئی علاقہ غیر تو نہیں اور عوامی نمائندے کیساتھ ساتھ مقامی نمائندوں نے بھی غیر ذمہ داری سے کام لیا۔

تبصرے

شیئر کریں

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں