چار سال کا نقصان کون پورا کرے گا عوام میں بے چینی۔۔۔

0
513
web3اسلام آباد ( شہزا داحمد ملک ) لیفٹنٹ جنرل ریٹائر عبدلقیوم کے حالیہ بیان کے مسلم لیگ ن میں اختلافات عارضی ہیں جلد ختم ہو جائیں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے تلہ گنگ میں صحافیوں سے گفتگو کر تے ہوئے کیا جنرل الیکشن 2013سے اختلافات شروع ہو گئے تھے ان اختلافات سے عوام کو تو کوئی فائدہ نہیں پہنچا اور آئے روز اختلافات زور پکڑتے ہی جا رہے ہیں دونوں گروپوں نے شروع سے ہی ایک دوسرے کو قبول نہیں کیا دونوں گروپوں کو منانے کیلئے اور بیان بازی روکنے ٹمپریچر کم کرنے کیلئے مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت نے کئی مرتبہ اپنے نمائندے بھی بھیجے اور منشا ء بٹ بھی چکوال میں تشریف لا چکے ہیں اگر لڑنا ہی تھا گروپ بندی کر نی ہی تھی تو اس وقت ہی اعلیٰ قیادت کو اپنے تحفظات کر اظہار کر دیتے تو بہتر تھا چار سال مکمل ہو نے کو ہیں کے ابھی تک لڑائی ختم نہیں ہو ئی اور لڑائی کس بات پر ان چار سالوں میں عوام کے مسائل دبتے گئے اور دبتے جا رہے ہیں اس لڑائی جھگڑے سے مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت کو بھی ایک بڑا نقصان اٹھانا پڑا اور نظریاتی بینک ووٹ کافی حد تک گرا عوا م کو تو ان کے لڑائی جھگڑروں سے کوئی فائدہ نہیں عوام کو تو ان کے مسائل سے مطلب ہے ان چار سالوں میں کوئی بڑا افتتاح نہ ہو سکا عوام کے مسائل دن بدن بڑھ رہے ہیں بجائے کہ کمی ہونے کے جنرل الیکشن 2013میں وزیراعظم کے انتخابی جلسے تین اہم اعلان پر بھی عمل درآمد نہ کروایا جا سکا جس سے حلقہ کے عوام میں سخت بے چینی پائی جا رہی ہے تحصیل لاوہ میں بھی کوئی سرکاری دفاتر کا قیام عمل میں نہ لایا جا سکا اس جدید دو رمیں بھی تلہ گنگ شہر میں لاتعداد مسائل جو انگلیوں پر گننا بھی مشکل اندرون شہر کی حالت راز انتہائی خراب جبکہ دیہاتوں میں جانیو الی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکارہیں تھانہ کچہری کی سیاست کو ترجیح دی جا رہی ہے اور آمدہ الیکشن 2018کے ٹکٹ کے حصول کیلئے اپنے ذاتی مفادات پر توجہ اور ایڑھی چوٹی کا زور لگایا جا رہا ہے مگر عوام کے مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے عوام کو بھی چاہئیے کہ وہ آمدہ الیکشن میں ایسا امید وار منتخب کریں جو آ پ سمجھتے ہیں کہ صحیح معنوں میں آپ کے جائز مسائل حل کر سکتا ہواور ایماندار ہو اور اسمبلی کے فلور پر بولنا جانتا ہواور اپ کے حقوق چھیننا بھی جا نتا ہو ورنہ ان کو کہہ دو کے ہم نے گذشتہ چار سال اندھیر ے میں گزار دئیے آئندہ پانچ سال بھی اندھیر ے میں گزار دیں گے لیکن اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دیں گے جسیے جیسے الیکشن قریب آرہے ہیں عوام کی ہمددیاں حاصل کی جا رہی ہیں خداراہ ان کی چالوں میں نہ آئیں اپنی مرضی کے مطابق ووٹ دیں ورنہ آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔کبھی ڈھوک پٹھان میں جشن کبھی تلہ گنگ میں جشن تلہ گنگ کے نام نہاد صحافیوں کو بھی چاہئے کہ وہ عوام کی خاطر ان کی پالشی خبروں سے گرہیز کریں اور عوام کے خادم بن کر عوام کو سیدھی راہ دیکھائی جائے یہ بھی ایک بہت بڑا فیکٹر ہے مجھے امید ہے کہ نام نہاد صحافی پالشی خبروں سے گرہیز کریں گے اور عوام کو اصل حقائق سے آگاہ کریں یہ قصدے پالشی خبروں کا وقت نہیں یہ وقت آمدہ الیکشن عوام کو صحیح اور حقیقی معنوں میں راستہ دیکھانے کا ہے

تبصرے

شیئر کریں

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں