ضلع کونسل چکوال کے چیئر میں کیلئے مسلم لیگ ن کی اعلی قیادت کا غور۔۔۔

0
604
u9اسلام آباد( ارسلان احمد ملک) ضلع کونسل کے چےئرمین اور وائس چےئرمین کے چناؤ کیلئے فیصلہ آخری مرحلے میں داخل ہو گیا۔ اب ضلع کونسل چےئرمین چکوال کا سرتاج کس کے سر پر بیٹھے گا تلہ گنگ، چکوال، لاوہ میں پیشنگوئیوں کا زور، شرائط بھی لگ گئیں، مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت اس وقت انتہائی ٹینشن کا شکار کہ مسلم لیگ (ن) میں دو دھڑے بن جانے سے قیادت سخت پریشان دکھائی دے رہی ہے ڈیلی نیوز ذرائع کے مطابق پارلیمنٹیرین کے علیحدہ علیحدہ انٹرویو بھی لئے گئے لیکن فیصلہ بہت سوچ سمجھ اور بچار کے بعد اعلیٰ قیادت کرے گی لاہور سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ضلع کونسل چےئرمین کو نامزد کرنے کیلئے شاید وزیراعظم خود نامزد کرینگے کیونکہ اس وقت مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت کو کئی درپیش مسائل کا سامنا ہے اور سامنا جو ہے وہ ارکان اسمبلی تلہ گنگ اور ارکان اسمبلی چکوال سے ہے کیونکہ دو دھڑے بن جانے کی وجہ سے اعلیٰ قیادت بڑی سوچ و بچار میں مبتلا ہے اس دو دھڑوں میں عوام کے بھی چار سالوں سے کوئی بڑا پروجیکٹ کا افتتاح نہ ہو سکا مسائل بڑھتے گئے اور اعلیٰ قیادت نے بھی کوئی توجہ نہیں دی اور اعلیٰ قیادت کو اس وقت اس حلقہ این اے 61 سے آمدہ الیکشن کو بھی مدنظر رکھنا ہو گا کیونکہ اس حلقہ میں دو دھڑوں میں تقسیم ہونے سے مسلم لیگ (ن) کا کافی حد تک ووٹ گرا اور پی ٹی آئی بھی ایکٹیو ہے اس وقت حافظ عمار یاسر کو تلہ گنگ، لاوہ اور دیگر علاقوں سے واضح اکثریت حاصل ہے بلدیاتی الیکشن کو بھی اعلیٰ قیادت سامنے رکھے ہوئے ہے جبکہ سردار غلام عباس پر مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت زیادہ منظور نظر ہیں اور ان کی رائے کو بھی بڑی اہمیت دی جائے گی ان کی رائے کے بغیر ضلع کونسل چکوال منتخب شاید نہ ہو سکے۔ حالات جب اس نہج پر پہنچ جائیں کہ کمیٹی بنا دی گئی اور پھر پارلیمنٹیرین کے انٹرویوز لئے گئے مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت کیلئے ضلع کونسل چکوال کا چےئرمین اور وائس چےئرمین نامزد کرنے کیلئے انتہائی مشکلات درپیش ہیں کیونکہ اگر وہ سردار ممتاز گروپ کی سپورٹ کرتے ہیں تو ہاتھ سے ملک سلیم اقبال گروپ نکل جاتا ہے لاہور سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اعلیٰ قیادت ہر زاویے سے سوچ بچار میں مبتلا ہے کیونکہ (ق) لیگ کے رہنما حافظ عمار یاسر کا بھی ایک بڑا ووٹ بینک تلہ گنگ ہی نہیں لاوہ میں بھی موجود ہے اور پی ٹی آئی کا بھی بڑا ووٹ بینک دن بدن بڑھتا جا رہا ہے جس سے اعلیٰ قیادت دل سے تو ان ارکان اسمبلی تلہ گنگ سے ناخوش ہیں لیکن سیاست سے کام لے رہے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ اعلیٰ قیادت کیا فیصلہ کرتی ہے اور اس حلقہ میں اپنے ووٹ بینک کو کس طرح بچاتی ہے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے یہ آنیوالا وقت ہی بتائے گا کیونکہ سیاست میں حرف آخر کوئی نہیں ہوتا عوام کا بھی موڈ بدلا بدلا نظر آرہا ہے۔

تبصرے

شیئر کریں

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں