نیو نیوز چینل کی بندش کی مزمت کرتے ہیں مگر عوام کیلئے بھی ۔۔۔

0
440
ucاسلام آباد( ارسلان احمد ملک) نیو نیوز چینل کی بندش کیخلاف آج تلہ گنگ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ ہوا میں اور میرا بھائی شہزاد بھی نیو نیوز چینل کی بندش کیخلاف پرزور مذمت کرتے ہیں اور الیکٹرانک میڈیا کے سید ارشاد حسین کاظمی کے کاوشوں سراہتے ہیں۔ معزز قارئین میری نظر میری چھٹی حس کے مطابق اگر تلہ گنگ کے تمام صحافی برادری جو پروفیشنل ، ذمہ دار صحافی ہیں وہ بھی عوام کے مسائل جو درپیش ہیں تلہ گنگ میں ہوں یا لاوہ میں ہوں یا کسی یونین کونسل میں ہوں آج بھی لاتعداد مسائل موجود ہیں اور ایسے ایسے دیہات ہیں جہاں بنیادی ضروریات زندگی سے شہری محروم ہیں اگر اسی طرح تلہ گنگ کے صحافی یا لاوہ کے صحافی عوام کی خاطر شہریوں کی خاطر ان کو درپیش مسائل جو وہ شائع بھی کرتے ہیں انتظامیہ کے سامنے پرامن احتجاجی مظاہرے کریں احتجاج ریکارڈ کرائیں تو میں سمجھتا ہوں کہ ان صحافیوں کیساتھ سول سوسائٹی وکلاء کے علاوہ زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے بھی شامل ہو جائیں گے اور مسائل میں کمی واقع ہو سکتی ہے اور یہی احتجاج اپنے ایم این اے، ایم پی اے، مقامی قیادت سے بھی کھل کر اور صاف لفظوں میں کہیں کہ اس وقت شہری پریشان ہیں ان کے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں جس سے تلہ گنگ، لاوہ یہ خوبصورت شہروں کے ساتھ ساتھ مسائل کی کمی ہونی شروع ہو سکتی ہے اور چند مہینوں میں ختم بھی ہو سکتے ہیں یہ نہیں کہ احتجاج صرف انتظامیہ کیخلاف ہو لیڈروں سے بھی پوچھ گچھ کی جائے ان کے ڈیروں پر بھی جا کر احتجاج ریکارڈ کروائیں دھرنا دیں اور اپنی شائع کردہ خبر کو اس وقت تک چین سے نہ بیٹھیں جس وقت تک عملدرآمد نہ کروا سکیں اور میں ان صحافیوں سے یہ بھی گزارش کرتا ہوں کہ تلہ گنگ کے لاتعداد ایسی یونین کونسلز ہیں جہاں بے تحاشا مسائل ہیں وہاں بھی جا کر ایک ٹیم بنائیں اور کھلی کچہریاں لگائیں اور عوام کے مسائل سنیں شائع کریں پھر عملدرآمد کروائیں جس سے آپ کا نام تلہ گنگ کی تاریخ میں بھی لکھا جائے گا اللہ بھی راضی ہو گا عوام کی بھی دعائیں ملیں گی اور آخر یہ تلہ گنگ کو آپ نے ہی سنوارنا ہے ہم نے ہی سنوارنا ہے کوئی انڈیا سے تو آدمی نہیں آئے گا کہ وہ تلہ گنگ کے مسائل کو دیکھے گا حل کرے گا ہم نے ہی تو حل کرنا ہے ہم نے ہی تو نشاندہی کرنی ہے ہم نے ہی تو عوام کے مسائل کی نشاندہی کرکے انتظامیہ اور لیڈروں کو بتانا ہے کیونکہ ان کو تو سیر سپاٹوں، عیاشیوں اور انتظامیہ کو فرصت نہیں تنخواہیں، مراعات لے رہے ہیں جب تک ہم دباؤ نہیں ڈالیں گے تو پھر مسائل کے حل میں رکاوٹ آتی ہے میں آپ سے آج پھر وعدہ کر رہا ہوں کہ آپ ایک ہو جائیں عوام کی خاطر تلہ گنگ کی خاطر ایک لاوہ کی خاطر شہریوں کی خاطر آنیوالی نسلوں کی خاطر تو اس میں کیا قباحت ہے مجھے امید ہے کہ میری اس درخواست پر صحافی برادری ضرور غور کرے گی ورنہ میں بالکل واضح بتا رہا ہوں کہ آپ کی بے اتفاقی سے آپ کو نہ کوئی لفٹ کرائے گا اور انگلیوں پر یہ سیاستدان نچائیں گے اور نچا رہے ہیں اور انتظامیہ بھی آپ کو چکمے دیتی رہے گی جو بھی گورنمنٹ آتی ہے اس کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ میڈیا کو لڑاؤ اور ملک کو لوٹتے رہو تاکہ ان کو ہماری چوری کا پتہ نہ لگے۔

تبصرے

شیئر کریں

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں