2016 ء میں کیا پایا کیا کھویا۔۔۔

0
353
web1میرے معزز قارئین اور غیور عوام 2016ء گزر گیا اور 2017ء کی آج 2 تاریخ ہے۔ قارئین کرام میں اپنے معزز قارئین حلقہ این اے 61 کے غیور عوام کی نظر میں 2016ء جو گزرا پر ایک نظر ڈال رہا ہوں مجھے امید ہے کہ میرے معزز قارئین اور غیور عوام جن پر بیتی جن پر یہ وقت گزرا وہ مجھ سے بخوبی جانتے ہیں میں لکھتا رہا میں چیختا رہا میں چلاتا رہا بعض مسائل تو حل ہوئے لیکن بعض مسائل کو پس پردہ ڈالا گیا۔ جاگیرداروں، وڈیروں، سرداروں کا ساٹھ آدمیوں کے ہمراہ تھانہ سرکاری ادارہ تھانہ ٹمن پر حملہ، دو معصوم بچیاں زہریلے پاپڑ کھا کر اللہ کو پیاری ہوئیں، دو معصوم بچے گٹر/ نالے میں گر کر اللہ کو پیارے ہو گئے جھاٹلہ میں کرنٹ لگنے سے ایک گھر اجڑ گیا، رابعہ تشدد کیس کو دبا دیا گیا چند نام نہاد صحافیوں نے پولیس ملازمین کے گلوں میں مفلر ڈال کر شدید تشدد کا نشانہ بنایا پھر ضمانت پر بھی رہا ہوئے لاوہ شہر و دیگر گردونواح رمضان المبارک کے مقدس ماہ روزہ منہ تپتی چلاتی دھوپ شدید گرمی غیر علانیہ بغیر شیڈول بجلی کی بندش کیخلاف سڑکوں پر عوام احتجاج کرتے رہے مگر کسی نے نہ سنی ٹمن کوچ انتظامیہ اور رکشہ بان یونین کے درمیان تنازعہ رہا حافظ عمار یاسر کی ایماء پر مسئلہ حل ہوا رمضان المبارک میں تلہ گنگ و دیگر مقامات پر غیر علانیہ لوڈشیڈنگ کوٹ سارنگ کے مقام پر بین الصوبائی شاہراہ کئی گھنٹے بند رہی ملتان خورد و دیگر گردونواح کے عوام نے ٹرانسفارمر جل جانے اور بجلی کی غیر علانیہ لوڈشیڈنگ کئی گھنٹے روڈ جام رکھا اور پرامن احتجاج ریکارڈ کرایا لیکن ان کیخلاف تھانہ ٹمن میں مقدمات درج کرائے گئے آخر ان کا قصور کیا تھا وہ پرامن احتجاج کر رہے تھے تلہ گنگ، لاوہ کے چندنام نہاد صحافیوں کی پالشی خبریں بھی حلقہ این اے 61 کیلئے نقصان دہ ثابت ہوئیں جو تاحال بھی جاری رہیں میری جعلی پروفائل آئی ڈی بنائی گئیں مجھے بلیک میل کیا گیا اور ایک ویکلی اخبار پر میرا بیان چلایا گیا کہ اس کی وجوہات یہ تھیں کہ یہ مسائل کی نشاندہی کیوں کر رہا ہے ضلع تلہ گنگ کا نوٹیفکیشن تاحال جاری نہ ہو سکا امکانات بھی دور دور تک نظر نہیں آتے۔ 2016ء کے شروع میں ہی ایک متنازع آپریشن ہوا جس میں کئی دکانیں اور پلازے مسمار کر دئیے گئے اور متاثرین معزز عدالتوں میں اور ریڑھی بانوں کے گھروں میں فاقے اور ان کے چولہے ٹھنڈے ہو گئے لاوہ میں اسسٹنٹ کمشنر کی پوسٹنگ کئی ماہ سیٹ خالی رہی تلہ گنگ دو پریس کلب ہونے کے بعد تیسرا پریس کلب بھی بن گیا تلہ گنگ 72 گھنٹے بجلی بن رہی اور عوام سڑکوں پر نکل آئے ارکان اسمبلی تلہ گنگ بجائے عوام کے مسائل حل کرنے ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنی شروع کر دیں تاحال سلسلہ جاری ہے۔متنازعہ آپریشن ماسی غلام فاطمہ اللہ کو پیاری ہو گئیں سردار غلام عباس مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان، دریائے سواں کا ایک حصہ گر جانے سے تاحال مکمل نہ ہو سکا، جبی شاہ دلاور اور دیگر مقامات پر تاحال جھولے بند، وائس چےئرمین زاہد اعوان کی شاندار کارکردگی رہی جس کو ڈیلی نیوز کی طرف سے سلیوٹ، تلہ گنگ ہیوی ٹریفک نہ رک سکی، ڈائمنڈ کوچ ایک جان لے گئی، دھرابی کوچ میں ایکسیڈنٹ، ایمبولینس انتظامیہ بروقت نہ پہنچی شہریوں نے احتجاجا ڈیڈ باڈی کو سڑک کے درمیان رکھ دیا بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے زمیندار پریشان، زمین نہ بوئی جا سکی کھلے آسمانوں تلے مساجد میں نماز استسقاء ادا کی گئی اور بارشوں کے نہ ہونے کی وجہ سے میرا زمین بنجر میں تبدیل ہو گئی۔ معزز قارئین بہت سی باتیں پس پردہ ہیں لیکن انشاء اللہ میں آپ سے شےئر کرتا رہوں گا لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ارکان اسمبلی اور انتظامیہ نے ان واقعہ پر نوٹس نہیں لیا آخر یہ کس مرض کی دوا ہیں۔مجھے میرے بھائی شہزاد کیخلاف رکاوٹیں ڈالنے کیلئے مقدمات کا بھی سامنا کرنا پڑا لیکن اس کی اللہ تعالیٰ ذات پاک ہے ہمیں ہر مقدمے سے سرخرو کیامعزز عدالت ایڈیشنل سیشن جج صاحب نے ہمارے اوپر کیا گیا مقدمہ ختم کیا۔ تلہ گنگ شہر پر کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ کا افتتاح نہ ہو سکا سڑکیں کھنڈرات میں تبدیل ہو گئیں اور کوئی ایسا کارنامہ سرانجام نہ ہو سکا اور نہ وزیراعلیٰ پنجاب لاوہ یا تلہ گنگ میں تشریف نہ لا سکے شاید ان کی مصروفیات ہوں جس کی وجہ سے وہ نہ آسکے اور مجھے توقع ہے کہ انشاء اللہ وہ ضرور آئیں گے حلقہ این اے 61 کی محرومیوں کو دور کریں گے۔ (ق) لیگ کا بھی اس سال ووٹ بینک بڑھا اور پی ٹی آئی نے بھی اپنے ووٹ کو بڑھانے میں تگ و دو کی ان کا ووٹ بھی قدرے بہت آگے نکلا ہیوی ٹریفک کی وجہ سے آئے روز ٹریفک کا بلاک ہو جانا آج بھی تلہ گنگ شہر میں ننگی تاریں کھمبوں سے لٹک رہی ہیں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر اور لاوہ کے علاقہ پچنند میں ایک نوجوان بجلی کے کرنٹ کے لگ جانے سے اللہ کو پیارا ہو گیاآج بھی تلہ گنگ کے ایسے لاتعداد گاؤں ہیں جو بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں صاف پینے کا پانی، ہسپتال، سڑکیں و دیگر ضروریات ناپید ہیں لاوہ جو کئی سالوں سے تحصیل کا درجہ ملا لیکن سرکاری دفاتر سے محروم ہے اور چکوال کی تحصیل لاوہ سے ضلع کونسل چےئرمین ملک طارق اسلم ڈھلی اور وائس چےئرمین چوہدری خورشید بیگ نے کانٹے دار مقابلہ منتخب ہوئے اب عوام کی نظریں ان پر ہیں اور اس سال اہم تبدیلیاں بھی رونما ہونے کا امکان خطرے سے خالی نہیں۔ لکھنے کو تو بہت کچھ ہے لیکن قارئین کا میں زیادہ وقت نہیں لینا چاہتا۔

تبصرے

شیئر کریں

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں