سگریٹ کی ڈبی پر عوام کیلئے سبق۔۔۔

0
605
webاسلام آباد( ارسلان احمد ملک)معزز قارئین خبریں مراسلات تجزئیے تو میں اور میرا بھائی دسمبر 2010ء سے آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں بلکہ پیش ہی نہیں کرتے ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ان پر عملدرآمد بھی کروائیں ہمارا ریکارڈ اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ ہم نے لاتعداد ایسے مسائل حل کروائے جو ایک تاریخی ریکارڈ ہے آج میرے بھائی شہزاد جو مجھ سے چھوٹا ہے اس نے مجھ سے ایک ڈیمانڈ کی تو میں نے اپنے بھائی جس کو میں نے ٹرین بھی کیا ہے اس کی ڈیمانڈ یعنی خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئے معززقارئین آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں ان کے قریب ترین دوست عمران سرور جبی اچھے دوست اور ایک اچھے ملنسار کیساتھ ساتھ ان کے ساتھ ایک گہرا تعلق بھی انہوں نے بتایا ہے شہزاد کے مطابق وہ ایک معزز خاندان کے علاوہ اچھی اچھی عوام کیلئے پوسٹیں اور نصیحتیں کرتے رہتے ہیں اگر وہ ایسے ہیں تو میں کیوں ناں ان کی تعریف کروں بے شک تعریفیں سب اللہ پاک کی ہیں لیکن جو اچھا کام کرے گا وہ اللہ کے نزدیک ہو گا اور میرا بھی اتنا اس سے پیار ہو گا جتنا شہزاد کا ہے میں عمران سرور سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ اچھی پوسٹیں اور ان پوسٹوں سے عوام نے شعور عوام کی رہنمائی ہوتی ہے اور وہ اپنے حقوق کے حصول کیلئے جنگ بھی لڑ سکتے ہیں اور اپنے حقوق جان سکتے ہیں کہ ہمارے حقوق کیا ہیں شہزاد نے مجھے ان کی ایک پوسٹ دکھائی جس میں انہوں نے ایک سگریٹ کی ڈبی پر لکھی ہوئی تحریر کو بھی محنت کرکے پوسٹ کی انہوں نے لکھا تھا کہ جس طرح سگریٹ کی ڈبی پر کینسر والی تصویر کے باوجود لوگ سگریٹ پینا نہیں چھوڑتے بالکل اسی طرح ایک کرپٹ لیڈر کی حقیقت جاننے کے باوجود جاہل لوگ اپنے لیڈر کی حمایت کرنا نہیں چھوڑتے۔۔ میں اس میں تھوڑا اضافہ کر دوں کہ عمران سرور صاحب ہمارے ملک میں سب سے بڑا بگاڑ یہ سیاستدانوں، حکمرانوں، اپوزیشنوں کے قریب ترین ساتھی جو ان کے مشیر اور دائیں بائیں گھومتے ہیں اور ذاتی فوائد حاصل کرتے ہیں اور حکمرانوں کو اپوزیشن لیڈروں کو اپنے ذاتی مفادات کیلئے مس گائیڈ کرتے ہیں جس کی وجہ سے جب بھی کوئی الیکشن ہو تو وہی ٹاؤٹ بن کر سامنے آتے ہیں اور ان کو مس گائیڈ کرتے ہیں میں سارا الزام ان پر بھی نہیں تھوپ سکتا کہ کیا جو لیڈر ووٹ لیتا ہے لاکھوں روپے اپنی کمپین پر خرچہ کرتا ہے اس کو یہ ہوش نہیں ہے کہ حلقہ این اے 61 کے عوام نے ان کو اپنا قیمتی ووٹ اس لئے دیا ہے کہ ان کے جائز مسائل ان کی آمدہ نسلوں اور پھولوں کیلئے آسانیاں پیدا کرے نہ کہ تھانہ کچہری کی سیاست اور اپنے پروٹوکول پر لاکھوں روپے خرچ کر دیں گزشتہ چار سالوں سے میں نے جو کچھ حلقہ این اے 61 میں دیکھا کہ عوام سڑکوں پر تھے روزہ منہ اور آج بھی عوام کے دیرینہ مسائل بھی دبے جا رہے ہیں حلقہ این اے 61 میں ایسے پسماندہ علاقے ہیں جن میں بنیادی ضروریات تک نہیں لیکن حکمران اور اپوزیشن ٹس سے مس نہیں ہوتی۔عوام کو ان کرپٹ لیڈروں کو خدا حافظ کہنا ہو گا۔

تبصرے

شیئر کریں

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں