عوامی نمائندوں کو کام کرنے دیا جائے۔۔۔

0
509

arslan malik web

اسلام آباد(ارسلان احمد ملک) تلہ گنگ شہر گزشتہ چار دنوں سے ریڑھی بان اور ٹیلے والوں نے (ق) لیگ کے رہنماؤں کیخلاف احتجاج کیا بالاخر اطلاعات کے مطابق احتجاج کو افہام و تفہیم کے بعد حل کر دیا گیا مجھے ایک ساتھی بتا رہا تھا کہ صدر پاکستان سے جب آٹھویں ترمیم واپس لی جا رہی تھی تو ٹی وی پر یہ سلائیڈ چل رہی تھی کہ پاکستان کا صدر کمزور ترین صدر بن جائے گا لیکن دوسری طرف یہ بھی مذکورہ ٹی وی سلائیڈ دے رہا تھا کہ آٹھویں ترمیم کا خاتمہ ہونا چاہئے بھلاواہ مزہ آیا کہ ایک طرف تو آٹھویں ترمیم کا خاتمہ ہم چاہتے تھے اور ہم ہی نہیں چاہتے تھے بلکہ پوری قوم حکمران، حکومتیں چاہتی تھیں جبکہ دوسری طرف صدر دنیا کا کمزور ترین صدر بن جائے گا عجیب ہے میرا تو دماغ ہی گھوم گیا کہ یا تو صدر پاکستان کو خراج تحسین پیش کرو یا پھر آٹھویں ترمیم کو رہنے دو اسی طرح کا واقعہ تلہ گنگ شہر کا واقعہ مجھے یاد آگیا کہ تلہ گنگ شہر کا ہر باسی ہر معزز ہر طبقے سے تعلق رکھنے والا یہی چاہتا ہے کہ تلہ گنگ ایک خوبصورت ترین شہر ہو اور چند نالائق، نادان سیاستدانوں کی کمزوریوں کی وجہ سے تلہ گنگ ویران ہو گیا چند نام نہاد صحافی بھی دیکھتے ہوئے بھی آنکھیں چرانے لگے جب ایک پارٹی کو موقع ملا کہ وہ تلہ گنگ کی صفائی اور دیگر کاموں پر توجہ دے رہی تھی تو احتجاج اٹھ گیا ریڑھی بان یا ٹیلے والے کو جب ایک جگہ مخصوص کر دی گئی تو پھر شور مچانے یا احتجاج کا حق نہیں بنتا تھا اس لئے کہ ہر چیز کو اپنی جگہ پر رکھا جائے تو وہ خوبصورت بھی لگتی ہے اور اچھی بھی لگتی ہے بہرحال احتجاج ان کا حق تھا میں احتجاج کی مخالفت نہیں کر رہا صرف میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جب تلہ گنگ کو ایک خوبصورت شہر بنانا ہے تو سخت فیصلے بھی تو کرنے پڑتے ہیں اور ایک ایسی قوتیں جو (ق) لیگ تلہ گنگ میں ان کی حکومت، لاوہ میں ان کی حکومت ہونے کے باوجود فیصلے تو انہوں نے کرنے ہیں لیکن اس میں کچھ ایسے عناصر بھی موجود ہیں جو ہوا دیتے ہیں کہ یہ اپنے دوراقتدار میں کام نہ کر سکیں عوام متنفر ہوں اور بینک ووٹ میں جو انہوں نے کم عرصے میں بہت آگے نکل گئے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اچھے کاموں پر سیاست میری سمجھ سے بالاتر ہے ظاہر ہے کہ ہم سب نے چاہے تلہ گنگ کے چندنام نہاد صحافی ہوں چاہے حکمران ہوں کسی طبقہ سے ان کا تعلق ہو تو ان کو چاہئے کہ ہم نے اس تلہ گنگ شہر کے بعد بازاروں، گلیوں، کوچوں سیوریج کے سسٹم، واپڈا، سکول، سیکیورٹی کے انتظامات اور دیگر اداروں کے سربراہان سے کام لینا ہے اور ایک تلہ گنگ شہر کو ایک اچھا شہر ہی نہیں پنجاب کے بڑے شہروں میں داخل کرنا ہے تو پھر مخالفت کس بات کی۔ میری ہر مکتبہ فکر خصوصا حکمرانوں سے گزارش ہے کہ اگر (ق) لیگ کو ٹائم ملا ہے عوام نے منتخب کیا ہے تو ان کو کام کرنے دیا جائے اور کارکردگی کے بعد عوام اپنا فیصلہ خود کر سکتے ہیں عوام باشعور ہیں۔

تبصرے

شیئر کریں

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں